وفاقی بجٹ…بچوں کی سکول کی فیس پر کتنے فیصد ٹیکس عائد

Spread the Story
  • 213
    Shares

اسلام آباد (جی سی این رپورٹ) بچوں کی اسکول کی فیس پر 100 فیصد ٹیکس عائد، وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں نان فائلرز والدین کے بچوں کی فیس پر فیس جتنا ہی ٹیکس عائد کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ سالانہ دو لاکھ روپے تک فیس ادا کرنے والے نان فائلرز والدین کو سو فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ ماہانہ 16665 روپے فیس ادا کر رہے ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ اتنا ہی ٹیکس بھی دینا ہو گا۔ یعنی مجموعی طور پر آپ کو ماہانہ 33333 روپے اسکول انتظامیہ کو ادا کرنے ہوں گے۔ فائلز والدین کے لئے لیے ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ان کے بچوں کی سالانہ فیس اگر دو لاکھ سے سے بڑھ جاتی ہے تو پانچ فیصد اضافی ایڈوانس انکم ٹیکس دینا ہوگا اور یہ 5 فیصد بھی سال کے آخر میں انکم ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہوئے ریفنڈ کلیم کر سکیں گےاس کے علاوہ وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاع کیلئے 12 کھرب 89 ارب روپے مختص کردیے، وفاقی وزیر تجارت حماد اظہر نے کہا کہ افواج پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ حکومت کی کفایت شعاری پالیسی میں شامل ہوئے۔ آئندہ مالی سال کیلئے 7294 ارب کے حجم کا وفاقی بجٹ 2020-21ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، وفاقی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، بجٹ میں کل ریونیو کا تخمینہ 6573 ارب روپے ہے، کل اخراجات کا تخمینہ 7137ارب روپے لگایا گیا، جبکہ بجٹ خسارہ 4337ارب رہنے کی توقع ہے۔
بجٹ خسارہ 2300ارب کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا، بجلی کا گردشی قرضہ 485 ارب کی ادائیگی کے باجود 1200ارب تک پہنچ چکا تھا۔سرکاری اداروں کی تعمیر نو نہ ہونے سے 1300ارب کا نقصان ہوا۔منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تھے۔ ہم نے 2019-20ء کا آغاز معیشت کی بہتری کے اہداف کو دیکھ کرکیا جس سے معیشت کو استحکام ملا۔رواں مالی سال میں جاری کھاتوں کا خسارہ 20ارب ڈالر تھا جو73 فیصد کم کیا، جو 10ارب ڈالر سے کم ہوکر 3ارب ڈالر رہ گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.