طالب علم کا اپنی استانی سے ایسا مکالمہ جو آپکو حیران کر دیگا

Spread the Story
  • 213
    Shares

ایک طالب علم نے اپنی استانی سے درخواست کی کہ وہ ان سے کلاس کے بعد کچھ بات کرنا چاہتا ہے تو استانی نے اس کے لئے کلاس کے بعد ملاقات کا ایک وقت مقرردیا۔
ان دونوں کے درمیان اس طرح سے سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔
استانی : – “آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟”
طالب علم:- ” مجھے لگتا ہےکہ میں کافی ذہین ہوں اور مجھے اس سے بڑی کلاس میں ہونا چاہئے۔ کیا آپ مجھے اس سے بڑی کلاس میں بھیج سکتی ہیں؟”
استانی نے اس کی اس درخواست کو اسکول کے ڈائریکٹر تک پہنچا دیا اور ڈائریکٹر نے طالب علم کی صلاحیت کا اندازہ کرنے کے لئے ایک انٹرویو لیا ۔
ڈائریکٹر : – “3 ضرب 4 کتنا ہوتا ہے؟”
طالب علم:- ” 12 “.
ڈائریکٹر : – ” ٹھیک ہے، 6 ضرب 6 کتنا ہوتا ہے؟”
طالب علم:- “36”.
ڈائریکٹر : – “جاپان کی راجدھانی کہاں ہے۔ ؟”
طالب علم: – “ٹوکیو”
ڈائریکٹر نے تقریبا آدھا گھنٹہ سوال جواب کیا اور طالب علم نے ایک بار بھی جواب دینے میں کوئی غلطی نہ کی۔
پھر انہوں نے استانی سے کہا کہ اگر آپ کچھ پوچھنا چاہتی ہیں تو پوچھ سکتی ہیں۔
استانی :- ” ٹھیک ہے، تو بتائیے کہ وہ کونسی چیز ہے جو گائے کہ پاس چار ہیں اور میرے پاس دو ہیں؟”
(ڈائریکٹر نے بڑے تعجب سے استانی کو دیکھا)۔
طالب علم:- ” ٹانگیں استاد محترم!”
استانی :- ” بالکل صحیح، اب یہ بتائیے کہ وہ کونسی چیز ہے جو تمہاری پتلون میں ہے اور میری پتلون میں نہیں ہے؟ ”
(ڈائریکٹ بڑا حیران ہو اور بڑا شرمندہ ہوا)۔
طالب علم : – “جیب”
استانی : – “عورتوں کے گھنگھریالے بال کہاں ہوتے ہیں؟ ”
(ڈائریکٹر حیران و پریشان ہو گیا)۔
طالب علم: -“افریقا میں”
استانی :- ” وہ نرم سی چیز کیا ہے جو عورتوں کے ہاتھ میں سخت ہو جاتی ہے؟ ”
(ڈائریکٹر کے دل کی دھڑکنیں بند ہو گئیں)۔
طالب علم:- ” نیل پالش”.
استانی : – “عورتوں اور مردوں کی ٹانگوں کے درمیان میں کیا ہوتا ہے؟” (ڈائریکٹر کی تو آوازبند ہو گئی)۔
طالب علم: – “گھٹنے ”
استانی : – ” بہت خوب! اب یہ بتائیے کہ وہ کون سی چیز ہے جو شادی شدہ عورت کے پاس کنواری عورت سے بڑی ہوتی ہے؟”
(ڈائریکٹر کا تو بدن ہی شل ہو گیا)۔
طالب علم:- ” چار پائی”.
استانی :- “میرے جسم میں وہ کون سی جگہ ہے جہان پر رطوبت سب سے زیادہ ہوتی ہے؟”
(ڈائریکٹر نے آسمان کی طرف دیکھا اور اللہ سے مددمانگنے لگا)۔
طالب علم : –
“زبان ۔ اے استاد محترمہ!”
یہ سب سننے کے بعد ڈائریکٹرنے کہا: –
“میں اپنی سوچ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ تم یونیورسیٹی جاؤ اور میں پرائمری اسکول جاتا ہوں ۔۔

خلاصۃ القلم: ہمیشہ مثبت سوچیں ۔آپ کی سوچ آپ۔ کے معیار،اوصاف کا پتہ دیتی ہے شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.