سارے مواقع نوجوانوں کے لیے تو تجربہ کار لوگ کہاں جائیں؟

سارے مواقع نوجوانوں کے لیے تو تجربہ کار لوگ کہاں جائیں؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

سیدہ تمثیلہ شاہ کا تعلق اس دور سے ہے جب لڑکیوں کا سکول جانا معیوب سمجھا جاتاتھا۔  اسی  وجہ سے انہیں تعلیم کی دولت بہت مشکلات اور اذیتیں جھیل کر حاصل ہوئی۔

اور یوں انہوں نے اپنے خاندان کی پہلی تعلیم یافتہ خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔’میری والدہ نے والد کے فیصلے کے برعکس مجھے کالج میں داخلہ دلوایا تو والد دو سال امی سے ناراض رہے۔ میں اپنا خرچہ اٹھانے کےلیے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔یہ 1980کی دہائی تھی ، ایک روپیہ ماہانہ فیس سے مجھے30 بچوں کے30 روپے مل جاتے تھے۔‘

تمثیلہ کے والد نے بیٹی کی محنت اور لگن دیکھی تو بخوشی انہیں یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی اجازت  دےدی، حتیٰ کہ بعدمیں نوکری کرنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

جس بیٹی کے کالج میں داخلہ لینے پر والد دو سال بیوی سے ناراض رہے ، وہی بیٹی اکلوتی اولاد ہونے کے باعث بعد میں والدین کے بڑھاپے کا سہارا بنی اور ان کے مالی اخراجات پورا کرنے کے لیے 30 سال کمر بستہ رہی، یہاں تک کہ اس معاملے میں کبھی اپنے شوہر کی مالی پیشکش بھی قبول نہیں کی۔

 تاہم 2015 میں ان کی نوکری اس وقت ختم ہوئی جب ان کےغیر سرکاری ادارے نے بعض وجوہات کی بنا پر پاکستان میں اپنا کام محدود کرتےہوئےآدھے سے زیادہ عملے کو فارغ کر دیا۔

’ملازمت ختم ہونے کے بعد میں نے ہمت نہ ہارتے ہوئےمختلف اداروں کے ساتھ بطور کنسلٹنٹ کام  کرنا شروع کیا۔تاہم مسئلہ یہ تھا کہ 40 فی صد معاوضہ اس ادارے کو جاتا  تھا جن کے ذریعے مجھے کنسلٹنسی ملتی تھی،جس کے سبب رفتہ رفتہ مالی مسائل نے سر اٹھانا شروع  کیے اور نوبت بینک سے قرضے لینے کی آگئی۔ ‘

تمثیلہ کا کہنا ہے کہ باوجود اس حقیقت کے کہ ان کے پاس صلاحیت، تجربہ اور تعلیمی کوالیفیکیشن ہے انہوں نے جہاں بھی نوکری کی درخواست دی ، انہیں یہ کہہ کر مایوس لوٹایا گیا کہ اب ان کی عمر نوکری کی نہیں ۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میری عمر 55 سال ہے اور میں نوکری کی ہمت رکھتی ہوں لیکن جب کوئی دوسرا میری عمر اور میری ہمت کو حقیر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو دل کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ کئی بااثر خواتین سے درخواست کی کہ میرے جیسے بڑی عمر کے شہریوں کے لیے پاکستان میں پالیسی سازی پر  آواز اٹھائیں لیکن ابھی تک کوئی شنوائی نہیں ہو سکی۔‘

تمثیلہ نے گلا کرتے ہوئے کہا کہ  جب بھی وزیراعظم نوکریوں اور نئے منصوبوں کی بات کرتے ہیں تو ان کی توجہ کا مرکز نوجوان ہی رہتے ہیں۔ہر ادارے میں بھی نوجوانوں کو ترجیح دی جاتی ہے، ایسے میں ہمارے جیسے بڑی عمر کے لوگ کہاں جائیں،ہمارے تجربے سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہےاگراس پر پالیسی سازی کی جائے۔

پشاور کی جانی پہچانی سماجی کارکن مریم بی بی اس حوالے سے کہتی ہیں کہ دنیاکے ترقی یافتہ ملک  اپنے بڑی عمر کے شہریوں کے تجربے اور عقل سےفائدہ اٹھارہے ہیں۔

’جاپان کی مثال  لے لیں  جہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ بڑی عمر کے افراد کا ہے اس لیے وہاں 60 اور 70 سال کے افراد کا ملازمت کرناعام سی بات سمجھی جاتی ہے۔میری اپنی عمر 70 سال سے زائد ہو چکی ہے لیکن میں اب بھی مستعدی سے  کام جاری رکھے ہوئے  ہوں اور مجھے عمر کی کوئی تھکن محسوس نہیں ہوتی۔ شایدجو لوگ مصروف نہیں رہتے ان کی خود اعتمادی ختم ہوجاتی ہے۔ ‘

مریم بی بی نے مزید کہا کہ یہ ایک سنجیدہ موضوع ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیےکیونکہ عمر رسیدہ افراد کو اگر معاشرےکی تعمیر وترقی میں کردار ادا کرنے کا موقع نہ ملے تو وہ خود کو ایک بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.