مریخ پر سلاد اگایا جا سکتا ہے: سائنس دان

Spread the Story
  • 213
    Shares

سائنس دانوں نے ایک خلائی مشن میں بیج بھیجنے کے بعد کہا ہے کہ مریخ پر سلاد اگایا جا سکتا ہے۔

2015 میں برطانوی خلا باز ٹم پیک کی مدد سے شروع ہونے والی اس تحقیق میں 10 لاکھ بیجوں کو راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی سٹیشن بھیجا گیا تھا۔ 

جب چھ مہینے بعد یہ بیج زمین پر واپس آئے تو برطانیہ میں چھ لاکھ بچوں نے رائل ہورٹی کلچرل سوسائٹی کے ایک منظم تجربے کے تحت انہیں بویا اور ان کی نگرانی کی۔

گو کہ خلا کی جانب پرواز نے بیجوں کی نمو اور ارتقا کی صلاحیت کو متاثر نہیں کیا لیکن تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بیجوں کی کاشت کی صلاحیت میں کمی آئی ہے۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ حال ہی میں جریدے لائف میں شائع ہونے والی ان کی تحقیق سائنس دانوں کو یہ جاننے کے مزید قریب کرتی ہے کہ طویل خلائی مشنز پر خوراک کی فصل کاشت کی جا سکتی ہے۔

رائل ہالوے لندن کے بایولوجیکل سائنسز ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اور تحقیق کے کلیدی مصنف ڈاکٹر جیک چانڈلر کا کہنا ہے کہ ‘اچھے معیار کے بیجوں کو کاشت کے لیے خلا میں مریخ یا اس سے آگے دور تک بھیجنا انسانوں کے لیے اہم ہو گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

‘ہماری تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ چھ ماہ کے سفر میں راکٹ بیجوں کی صلاحیت کاشت میں زمین پر موجود بیجوں کے مقابلے میں کمی آئی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ خلا کی پرواز نے عمر بڑھنے کے عمل کو تیز کر دیا تھا۔’

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ خلائی سفر کے دوران بیجوں کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے انہیں کاسمک ریڈی ایشن کے اثرات اور مکینیکل ارتعاش سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔

بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر موجودگی کے دوران جذب کی جانے والی ریڈی ایشن کی مقدار زمین پر موجود مقدار سے سو گنا زیادہ تھی۔

سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ مریخ پر بھیجے جانے والے مشن کے دوران تابکاری کی مقدار بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہو گی، لیکن ان مشکلات کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی مشنز پر فصلیں کاشت کرنے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر چانڈلر کے مطابق ‘جب ہم بیج کو ممکنہ نقصانات بشمول خلائی تابکاری اور مکینیکل ارتعاش سے محفوظ رکھیں گے تو یہ بیج زندہ رہے گا اور ہم مریخ پر اگنے والے سلاد کو کھانے کے امکانات میں ایک قدم مزید آگے بڑھ جائیں گے۔’

میجر پیک کا کہنا ہے کہ ‘یہ اپنی نوعیت کا بہت حوصلہ افزا اور بڑا تجربہ ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد نوجوانوں نے قابل یقین ڈیٹا اکٹھا کیا، جس سے رائل ہالوے کے سائنس دانوں کو راکٹ بیجوں کے خلائی سفر پر مرتب اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

‘جب انسان مریخ کا سفر کریں گے تو انہیں اپنا پیٹ بھرنے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔ یہ تحقیق ہمیں سمجھنے میں مدد دے گی کہ کچھ بیجوں کو محفوظ رکھنے کی بیالوجی اور نمو مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے اہم ہو گی۔’


اس خبر میں پریس اسوسی ایشن کی معاونت شامل ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.