'بین کتابیں دو قومی نظریے سے متصادم تو پابندی پنجاب میں کیوں؟'

‘بین کتابیں دو قومی نظریے سے متصادم تو پابندی پنجاب میں کیوں؟’

Spread the Story
  • 213
    Shares

پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ پنجاب (پی سی ٹی بی)کی جانب سے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جانیوالی 100کتابیں بین کردی گئیں جب کہ ساڑھے نو ہزار کتابوں کی چھان بین جاری ہے۔

تاحال ان میں سے چار سو کتابیں چیک کرنے کے بعد پاس کی گئی ہیں۔

ٹیکسٹ بک بورڈ حکام کے مطابق پنجاب کے سکولوں میں پڑھائی جانیوالی دس ہزار کتابوں کو قبضہ میں لیاگیا جن میں سے سو کتابوں کا مسودہ غیر منظور شدہ اور قابل اعتراض ہونے پر یہ کتابیں پڑھانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ان کا موقف ہے کہ ان کتابوں میں تاریخ ،مذہب، معلومات اور جغرافیہ سے متعلق سنگین غلطیاں موجود ہیں ۔

اس معاملے پر پرائیویٹ سکولز فیڈریشن پاکستان نے حکومتی اقدام کی حمایت کی لیکن انہوں نے سوال اٹھایاہے کہ اگر کتابوں میں مواد قابل اعتراض تھا تو اتنے سالوں تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟ دوسرایہ کہ اگر ان میں مواد دو قومی نظریہ سے متصادم ہے تو دیگر صوبوں میں کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟
پی سی ٹی بی کی کارروائی:
پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر(ایم ڈی)رائے منظور نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پی سی ٹی بی نے صوبے بھر کے انٹر تک ڈگری دینے والے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کی چھپائی کے لیے این او سی لازمی قراردے رکھاہے۔

قانون کے مطابق جو بورڈ کی منظوری کے بغیر مواد اور تصاویر چھاپے گا اس کے خلاف کارروائی لازمی ہے۔

لہذا شکایات موصول ہونے پر معلوم ہواکہ پاک کیمبرج پبلشنگ اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سمیت درجنوں پبلشرز کی کتابیں بغیر بورڈ کی منظوری لیے چھاپ کر پڑھائی جارہی ہیں۔
رائے منظور کے مطابق ٹیکسٹ بک بورڈ نے صوبے بھر میں پڑھائی جانے والی دس ہزار کتابوں میں سے پانچ سوکے نمونوں کا جائزہ لیا تو ثابت ہوا کہ ان میں سے 100کتابوں میں،قائد اعظم محمد علی جناح،سرسید احمد خان ودیگر شخصیات اورپاکستانی نقشے سے متعلق غلط معلومات درج کی گئی ہیں، اسی طرح قرآنی آیات سے متعلق تحریروں میں بھی ردوبدل پایاگیا۔

انہوں نے کہامکمل چھان بین کے بعد ان سو کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے چار سو درست قرارپائیں جب کہ باقی ساڑھے نو ہزار کے متن اور ان میں چھاپی گئی تصاویر کا جائزہ لیا جارہاہے۔
کتابیں ملک بھر میں پڑھائی جارہی ہیں کارروائی صرف پنجاب میں کیوں؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے رائے منظور نے کہا کہ وہ صرف پنجاب میں کارروائی کا اختیار رکھتے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے ان کی تعیناتی ہوئی تو انہوں نے کارروائی شروع کر دی۔ دوسرے صوبوں اور وفاق کا علیحدہ نظام ہے وہ اپنے مطابق کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مالکان فیڈریشن کے صدر کاشف مرزا نے اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول رجسٹریشن ایکٹ کے تحت تمام سکول پابند ہیں کہ وہ پی سی ٹی بی کےمنظور کردہ مسودے پر مبنی کتب ہی پڑھاسکتے ہیں لیکن اگر پبلشر این او سی لیے بغیر قابل اعتراض کتب شائع کرتے ہیں تو وہ ذمہ دارہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں.

انہوں نے سوال اٹھایاکہ پورے ملک میں سکول یہ کتابیں پڑھا رہے ہیں لیکن وہاں دو قومی نظریہ سے متصادم مواد کا کسی کو خیال نہیں آیا؟ صرف پنجاب میں ہی کارروائی کیوں ہورہی ہے اور اتنے عرصہ تک اس طرف کسی کی توجہ کیوں نہیں گئی؟

جو بچے یہ کتب سالوں سے پڑھ چکےہیں اب ان کی معلومات میں تبدیلی کیسے کی جائے گی؟انہوں نے اس معاملے کی چھان بین کا بھی مطالبہ کیا۔
کاشف مرزا نے کہاکہ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ہمارے ملک میں اتنے عرصے غیر منظور شدہ نصابی کتب پڑھائی جاتی رہیں کسی کو خبر نہ ہوئی۔یہ بھی جائزہ لیا جائے کہ ایسا کسی منصوبہ بندی کے تحت ہوا یا غیر دانستہ طور پر یہ بات چھپی رہی اور کن ذمہ داروں نے پبلشرز کی اس حرکت سے چشم پوشی اختیار کی۔

دوسرا یہ کہ صرف کتب پر پابندی سے کیا فرق پڑے گا پبلشرز کو بلیک لسٹ کیوں نہیں کیاجارہااور کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی ہوگی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.