لڑکیوں کی منڈی

Spread the Story
  • 213
    Shares

عیدِ قربان کے قریب ہمارے جذبات کچھ عجیب سے ہو جاتے ہیں۔ قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر ہمارا دل دکھتا ہے۔

جی نہیں، ہم قربانی کے ہرگز خلاف نہیں۔ ہمیں بھی بریانی، نہاری اور تکہ بوٹی سے اتنی ہی محبت ہے جتنی کسی بھی لاہوری کو ہو سکتی ہے۔ ہم بھی عید سے پہلے اپنا فریج ویسے ہی صاف کرتے ہیں جیسے آپ کے یا کسی کے بھی گھر میں صاف کیا جاتا ہے۔ ہم عید سے پہلے ہی عید کے تینوں دنوں کا مینیو تیار کر لیتے ہیں۔ پہلے دن ناشتہ کچھ بھی کر لیا، دوپہر کے کھانے میں پلائو اور شامی کباب، شام کو تکہ بوٹی، دوپہر کا بچا ہوا پلاؤ، سلاد اور چٹنی، اگلے روز ناشتے میں قیمے والے پراٹھے اور دہی، دوپہر میں بس سلاد اور رات میں کڑاہی گوشت، روٹی، رائتہ اور سلاد۔ تیسرے دن ہمارا کہیں بلاوہ ہو تو میزبان کی مرضی ہمیں جو چاہے کھلا دے، اگر ہمارے گھر کسی کی دعوت ہو تو یو ٹیوب پر سال بھر دیکھی جانے والی تراکیب میں سے کوئی سی بھی دو چار بنا لیتے ہیں۔

خیر یہ تو قربانی کے بعد کی باتیں ہیں، تب سہی، ابھی تو مدعا کچھ اور ہے۔ ملک بھر میں مویشی منڈیاں سج گئی ہیں۔ جنہوں نے قربانی کرنی ہے وہ اپنی اپنی جیب کے مطابق جانور خرید رہے ہیں۔

ہم خود تو کبھی منڈی نہیں گئے لیکن ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ان منڈیوں سے ہوتی لائیو کوریج ضرور دیکھی ہے۔ بڑے بڑے میدان اور ان میں لگی جانوروں اور انسانوں کی بھیڑ۔ جانور کھونٹی سے بندھے ہیں اور انسان ان کے آگے پیچھے گھوم کر ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کوئی جانور کے دانت چیک کر رہا ہے تو کوئی اس کے کان مروڑ رہا ہے تو کوئی اس کی کھال میں انگلیاں ڈبوئے گوشت کا اندازہ لگا رہا ہے۔

ہم بے شک اس منڈی میں کبھی نہیں گئے لیکن وہ منڈی جو ہمارے ڈرائنگ روم میں لگتی ہے، اس میں ہمارا بہت آنا جانا رہا ہے۔ ہماری منڈی میں بھی کچھ خریدار آتے ہیں جو ہمارا ایسے ہی معائنہ کرتے ہیں جیسے اُس منڈی میں لوگ جانوروں کا کرتے ہیں۔ ہماری منڈی میں ہاتھ لگانا برا تصور کیا جاتا ہے اس لیے خریدار کو اپنی آنکھوں سے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔ مویشی منڈی میں خریدار خود موجود ہوتا ہے، ہماری منڈی میں خریدار کی جگہ اس کے رشتے دار آتے ہیں۔ اُس منڈی میں پیسے دے کر جانور خریدا جاتا ہے، ہماری منڈی میں یہ کام مفت ہوتا ہے بلکہ ہمارے بیوپاری یعنی ماں باپ ہمارے ہمراہ لاکھوں کا سامان بھی بھیجتے ہیں۔ جو سامان دینے کی حیثیت نہیں رکھتا اس کے گھر ایک دو گاہکوں کے علاوہ کوئی نہیں آتا۔ اُس منڈی کا جانور ایک ہی بار قربان ہوتا ہے، ہماری منڈی کی خرید پوری زندگی قربانیاں دیتی رہتی ہے۔

جانوروں کی منڈیوں میں کم عمر جانور کی زیادہ مانگ ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی یہی رواج ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ چھوٹی عمر کی لڑکیاں نئے ماحول میں آسانی سے ایڈجسٹ ہو جاتی ہیں جبکہ بڑی عمر کی لڑکیاں آسانی سے قابو نہیں آتیں۔

انہی منڈیوں کے حوالے سے آج کل نیٹ فلکس پر ایک سیریز بھی ٹرینڈ کر رہی ہے جس کا نام انڈین میچ میکنگ ہے۔ یہ ایک رشتے کروانے والی آنٹی کی کہانی ہے جن کا نام سیما ہے۔ ان کا تعلق ممبئی سے ہے۔ یہ پوری سیریز میں اپنا تعارف سیما فرام ممبئی کہہ کر کرواتی ہیں۔ آپ انہیں کوئی عام سی رشتہ کروانے والی آنٹی نہ سمجھیں، ان کا لیول تھوڑا الگ ہے۔ یہ صرف بھارت میں ہی نہیں بلکہ اس سے باہر بھی رشتے کرواتی ہیں۔ سیما اپنے گاہک سے ملنے اس کے گھر جاتی ہیں، جو لوگ ملک سے باہر رہتے ہیں، وہ اپنے پلے سے پیسے خرچ کر کے انہیں وہاں بلاتے ہیں۔ سیما گاہک سے ایک یا دو ملاقاتیں کرتی ہیں۔ وہ اپنے گاہک سے اس کے مطالبات پوچھتی ہیں تاکہ ان کے مطابق اس کے لیے کوئی رشتہ ڈھونڈ سکیں۔ گاہک مشکل ہو تو وہ اپنی مدد کے لیے کسی پنڈت یا چہرہ شناس کی خدمات بھی حاصل کر لیتی ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں۔

سیما جیسی کوئی خواتین اور مرد ہمارے محلوں میں یہی کام کرتے ہیں۔ کچھ سیما کی طرح پروفیشنل ہیں تو کچھ بس شوقیہ یا پیسوں کی خاطر اس کام کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی میں ان کا کوئی ٹریننگ سینٹر نہیں دیکھا لیکن جب ہم شہر شہر لگی قربانی کے جانوروں کی منڈیاں دیکھتے ہیں تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ انہوں نے ٹریننگ یہیں سے لی ہوگی۔ ایک دم وہی ماحول۔ میدان کی جگہ ڈرائنگ روم، جانوروں کی جگہ لڑکیاں اور گاہکوں کی جگہ شرفاء۔

ہاں، ان منڈیوں میں ایک کاغذ کا فرق ضرور ہوتا ہے۔ مویشی منڈی میں جانور کو خریداری کے وقت کوئی کاغذ نہیں دیا جاتا جس پر وہ خریداری کی تفصیل پڑھ کر دستخط کر سکے، ہمارے ہاں یہ کام ضرور ہوتا ہے۔ لڑکی کو نکاح نامہ دکھایا جاتا ہے تاکہ وہ اس پر کاٹے گئے تمام خانے اپنی نظروں سے دیکھ لے اور ان کے نیچے اپنے دستخط بھی کر دے۔

ہم ان منڈیوں میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔ ہماری طرح بہت سی دیگر لڑکیوں نے بھی اس طریقے کو رَد کر دیا ہے۔ ہم آپ کو بھی یہی دعوت دیتے ہیں۔ آپ ہماری دعوت قبول کریں تاکہ ہمیں یا کسی اور لڑکی کو اپنے شہر میں لگی مویشی منڈی دیکھ کر اپنے ڈرائنگ روم میں لگنے والی منڈی نہ یاد آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.