مولانا فضل الرحمٰن کیوں نوابزادہ نصراللہ نہیں بن سکتے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی بھی جمہوری حکومت کے خلاف اِس وقت سب سے بڑی اپوزیشن ہے۔

عمران حکومت چند ووٹوں پر کھڑی ہے۔ اگر اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد ہو تو یہ عمران حکومت کو دن میں تارے دکھا سکتے ہیں، مگر یہ صرف گفتگو کی حد تک ہے۔ اپوزیشن رہنما بیٹھک کرتے ہیں، وعدے وعید ہوتے ہیں، عمل کے وقت مفادات آڑے آ جاتے ہیں۔ نتیجتاً اپوزیشن تنکوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔

مجھے اس وقت نوابزادہ نصراللہ کی شدت سے یاد آ رہی ہے۔ ان کے بارے میں شاید کسی نے کہا تھا کہ ملک میں آمریت ہو تو نوابزادہ نصراللہ جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیتے، نام نہاد جمہوریت ہو تو حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے سڑکوں پر ہوتے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہر آمر جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر حکومت کرنے کی کوشش کرتا اور سیاسی حکمران کے اندر فرعون بننے کی خواہش انگڑائی لیتی۔

پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اُن کے رہنماؤں میں اس قدر شدید نظریاتی اور ذاتی تضادات ہیں کہ انھیں جمہوری جدوجہد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لانا مشکل ترین کام ہے، مگر نوابزادہ نصراللہ کی دانائی، کرشمہ سازی اور حکمت عملی کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ناممکن کو ممکن بنا دیتے۔

پوری زندگی لاہور کے چھوٹے سے گھر میں گزار دی۔ بڑے بڑے حکمرانوں نے اس چھوٹے کرائے کے گھر کی یاترا کی۔ وہ آمریت کے خلاف اتحاد بنانے کے فن کو جانتے تھے۔ ان کی زندگی کے بعد آج تک کوئی سیاسی اتحاد نہیں بن سکا۔ ان کی زندگی کا آخری اتحاد بھی انتہائی شاندار تھا جس میں انہوں نے دو، دو دفعہ وزیراعظم رہنے والے اور ایک دوسرے کے شدید مخالفین کو مشرف آمریت کے خلاف اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا۔

آخر کیا وجہ ہے کہ 40 سال سے زائد عرصہ سیاست میں گزارنے والے شریف خاندان، مولانا فضل الرحمٰن، آصف علی زرداری کے اندر وہ خوبیاں کیوں پیدا نہیں ہو سکی جو نوابزادہ نصراللہ کے اندر تھیں؟

لوگوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن عہد جدید کے نوابزادہ نصراللہ ثابت ہوں گے اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے حقیقی جمہوریت کی بحالی تک سڑکوں پر ہوں گے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ دور سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی اپوزیشن نہیں کی۔ بےنظیربھٹو شہید ہوں یا نواز شریف، آمر مشرف ہو یا کوئی اور، وہ ہر حکومت کا حصہ رہے۔ 2018 کے انتخابات میں انھیں تحریک انصاف کے امیدواروں نے شکست دی تو یہ بات برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہو گئی۔

ابھی کل کی ہی بات ہے صدر ریاست کے انتخابات کے موقعے پر وہ جدوجہد کر رہے تھے کہ اپوزیشن متفقہ امیدوار لائے۔ انھوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے مذاکرات کیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول امیدوار تلاش کرتے مگر انھوں نے خود کو صدارتی امیدوار ڈیکلیئر کر دیا جس کی وجہ سے اپوزیشن تنکہ تنکہ ہو گئی۔

حکومت کے خلاف تحریک اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اپوزیشن رہنماؤں میں اخلاص ہو، وہ خود کو مقدمات سے بچانے اور عہدے حاصل کرنے کے لیے تحریک نہ چلائیں بلکہ عوام کے سیاسی حقوق دلوانے کے لیے جدوجہد کریں۔

رائے ونڈ کے محلات کے مکینوں اور لاہور سے کراچی تک پھیلے بلاول ہاؤسز کے باسی سے یہ امید رکھنا کہ وہ بقر عید کے بعد حکومت کے خلاف بھرپور تحریک چلائیں گے ناممکن ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں
.

ن لیگ کی جینز میں شامل نہیں کہ وہ سڑکوں پر اپوزیشن کریں۔ ن لیگ کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ڈرائنگ روم کی سیاست کی اور اقتدار میں آئی۔ مشرف آمریت کے خلاف نوابزادہ نصراللہ کی قیادت میں وہ جدوجہد کا حصہ تو بنی مگر نوازشریف انھیں بتائے بغیر جدہ روانہ ہو گئے تھے جس پر نوابزادہ نصراللہ کا یہ بیان میڈیا کی زنیت بنا کہ جمہوری جدوجہد کے لیے پہلی بار کسی تاجر سے ہاتھ ملایا اور میں خسارے میں رہا۔

شبہاز شریف مقتدرہ کے ساتھ مل کر سیاست کرنے کے عادی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن جب حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے تو شبہاز شریف ملٹری ہاؤس کے سامنے بنگلوں کی لائن میں سے بنگلہ نمبر سات کے مکین کے ساتھ مذاکرات میں مشغول تھے۔ مولانا کے مارچ میں لیگ کی شرکت علامتی تھی۔

بلاول بھٹو کی جدوجہد عوام کے لیے نظر نہیں آتی۔ زرداری خاندان اتنے کیسوں میں الجھا ہوا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت کو دباؤ میں لا کر ریلیف لیا جائے۔ ایک طرف وہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف رحمن ملک کو آرمی چیف سے ملاقات کے لیے بھیجتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہماری جدوجہد عوام کے سیاسی حقوق کے لیے ہے۔

نوابزادہ نصراللہ اس لیے کامیاب تھے کہ انھوں نے کبھی عہدوں کا لالچ نہیں کیا۔ ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ جائیدادیں بنائیں۔ لالچ، طمع اور اقتدار کی ہوس سے کوسوں دور نوابزادہ مرحوم نے زندگی بھر نہ تو کسی حکمران کو ملاقات کی درخواست دی اور نہ ہی کسی کو ان کی ایمان داری پر انگلی اٹھانے کی جرات ہو سکی۔

سیاست کے ذریعے مال کمانا، فیکٹریاں لگانا دور کی بات، وہ تواپنی زمینیں بیچ کرسیاسی سفر کی مسافتوں کو طے کرتے رہے جب کہ یہاں تو بالکل اس کے برعکس معاملہ ہے۔ شریف اور زرداری خاندان پر منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے کالے دھن کو سفید کرنے کے الزامات ہیں۔

ان خاندانوں پر الزامات ہیں کہ انھوں نے کالے دھن سے نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ممالک بھی وسیع جائیدادوں بنائیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن عید کے بعد حکومت کے خلاف جس تحریک کو چلانے کی باتیں کر رہی ہے فی الوقت وہ کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.