فنکاروں کی عید قرباں اس بار کیسی ہوگی؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان میں ہفتہ (یکم اگست) کو عیدالاضحیٰ منائی جائے گی۔ اس مرتبہ کرونا (کورونا) کی وجہ سے حکومت اور صحت کے ماہرین کی جانب سے عید پر قربانی اور میل ملاپ کے دوران سماجی دوری کے اصول کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عام پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ شوبز انڈسٹری سے منسلک فنکار اس مرتبہ عید قرباں کیسے منائیں گے انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے۔

فیصل قریشی

فیصل قریشی کا کہنا تھا:’ مجھے سنت ابراہیمی ادا کرنے کا شوق ہے اور ہر سال اپنے ہاتھ سے قربانی کرتا ہوں۔ اس سال کیونکہ کرونا ہے اس لیے قربانی کا جانور گھر لانے کی ضرورت نہیں اور مخصوص جگہوں پر قربانی ہوسکتی ہے تاکہ ہم خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔’

منشا پاشا

 منشا پاشا کہتی ہیں: ‘اس مرتبہ عید ہم بہت جوش و خروش کے ساتھ تو نہیں منا سکیں گے لیکن بس گھر والوں کے ساتھ ہی عید ہوگی۔ قربانی کے لیے ہم آن لائن سروس کی سہولت کو دیکھیں گے۔ کھانے میں مجھے مٹن چاپس بہت پسند ہیں۔’

اپنے منگیتر جبران ناصر کے حوالے سے منشا کا کہنا تھا کہ ‘وہ کھانے کے شوقین ہیں اس لیے وہ سارا انتظام کرلیتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ میں جاکر ان کے یہاں کھاؤں گی۔’

امر خان

امر خان کے مطابق:’ پہلے عید پر پورا خاندان جمع ہوتا تھا، مزیدار کھانے بناتے تھے، تاہم اس سال کی عید مختلف ہوگی۔ ہم قربانی کا جانور آن لائن بُک کرکے وہیں سے بھیج دیں گے۔ اس سال احتیاط کچھ زیادہ کریں گے، چند مہمان تو آئیں گے مگر فاصلہ برقرار رکھا جائے گا۔اگرچہ کھانے تو پکیں گے، بار بی کیو بھی ہوگا مگر احتیاط کے ساتھ کیونکہ ابھی ہم کرونا کی وبا سے باہر نہیں نکلے ہیں۔’

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں.

 انوشے عباسی

انوشے عباسی نے کہا کہ ‘ویسے تو ہم عید پر اپنے ماموں کے گھر جاتے تھے اور رات کے کھانے پر سب جمع ہوتے تھے، لیکن اب کرونا کی وجہ سے اب سب مل نہیں پائیں گے البتہ عید اپنے اپنے گھروں میں ویسے ہی منائی جائے گی۔’

 بلال اشرف

 بلال اشرف کہتے ہیں: ‘کرونا سے پہلے ہمارا عید کا پہلا دن گھر والوں کے نام اور دوسرا دوستوں کے نام ہوتا تھا، تاہم کرونا کی وجہ سے اب چیزیں بدل گئی ہیں۔ ہم قربانی تو نہیں کر رہے تاہم اس کی جانب ایک حصہ ضرور ڈال رہے ہیں، کیونکہ کرونا کی وجہ سے بہت سے افراد بری طرح مالی طور پر متاثر ہوئے ہیں، اس لیے اس سال ان افراد کی مدد کرنا بہت ضروری ہے۔’

انہوں نے مزید کہا: ‘اس سال دوستوں سے زوم پر ملاقات کریں گے اور پہلے دن جو چیزیں پکاؤں گا وہ دوستوں کو ضرور بھجواؤں گا۔’

 جنید خان

 جنید خان نے کہا: ‘اس مرتبہ ہم نہ رشتے داروں کے گھر جاسکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنے گھر بلا سکیں گے۔ اس مرتبہ عید بہت سادگی سے منائیں گے۔ میرا خاندان لاہور میں ہے اور میں یہاں کراچی میں عید کروں گا، اس لیے سوشل میڈیا اور ویڈیو کال کے ذریعے ان سے ملاقات رہے گی۔ گذشتہ سال کی طرح بکرا خرید کر اسے گمانا پھرانا اور کھلانا پلانا نہیں ہوگا بلکہ آن لائن قربانی سروس کی سہولت حاصل کریں گے۔’

جنید نے مزید کہا کہ ‘یہ عالمی وبا جلد ختم ہو اور ہم پہلے کی طرح عید منا سکیں۔’

 صحیفہ جبار خٹک

 صحیفہ نے بتایا کہ ‘پہلے ہمارے گھر پر جانور آتے تھے اور کھانے کا ایک پورا سلسلہ ہوتا تھا، جس کی کمی میں اس عید پر بہت بری طرح محسوس کروں گی اور اپنی نانی کے گھر بھی نہیں جا سکوں گی۔ عید الفطر پر بھی مہندی اور چوڑیوں کی کمی محسوس ہوئی تھی۔ یہ عید بھی سادگی سے منائی جائے گی۔’

یشما گِل

یشما گل کا کہنا تھا: ‘ہم پچھلے تین سال سے میرے والد کے دفترکے  پاس ایک جگہ ہے وہاں جانور رکھتے ہیں اور وہیں قربانی کرتے ہیں۔ اس سال میرے والد نے دو بکرے لیے ہیں ورنہ ہم عموماً ایک بکرا اور ایک گائے قربان کرتے ہیں، تو جب گوشت آجاتا ہے تو اسے بانٹ دیتے ہیں۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.