ایرانی شہری ترکی میں دھڑا دھڑ پراپرٹی کیوں خرید رہے ہیں؟

ایرانی شہری ترکی میں دھڑا دھڑ پراپرٹی کیوں خرید رہے ہیں؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

2020 کے پہلے چھ ماہ میں ایرانی شہریوں نے دوسرے غیر ملکیوں کے مقابلے میں ترکی میں سب سے زیادہ جائیداد خریدی جبکہ ایرانیوں کے بعد حالیہ برسوں میں عراقی بھی ترکی میں جائیداد کے سب سے زیادہ خریدار رہے ہیں۔

ترکی کی اناطولیہ خبر رساں ایجنسی نے ترک شماریاتی مرکز کے حوالے سے بتایا ہے کہ کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کے دوران بھی ایرانی شہری ترکی میں جائیداد خریدتے رہے۔

 ترکی میں سرمایہ کاری اور امیگریشن کے ایک مشیر نے انڈپینڈنٹ فارسی کو بتایا کہ کرونا بحران کے دوران ایرانی شہریوں کی جانب سے ملک میں جائیداد کی خریداری میں اضافہ نمایاں تھا۔

مشیر نے بتایا: ’کرونا کے پھیلاؤ اور وائرس پر قابو پانے کے لیے ترک حکومت کی بہترین کارکردگی نے ایرانیوں بہت متاثر کیا ہے جس کے بعد ان کی جانب سے ملک میں جائیداد کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘

دوسری جانب ترکی کے مقابلے میں ایران میں جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافے سے ترکی میں ایرانی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی میں رہائش کے لیے قرض پر شرح سود ایک فیصد سے بھی کم ہے۔

ترک مشیر کے مطابق: ’ایران میں ایک ایرانی شہری تقریباً 50 کروڑ تومان میں بھی مکان نہیں خرید سکتا جبکہ ترکی میں وہ اس رقم سے ایک مکان کا مالک ہوسکتا ہے اور یہاں کی شہریت بھی اختیار کر سکتا ہے۔  دوسری طرف طلب میں اضافے اور ترکی میں تعمیرات میں اضافہ بھی اس ملک کی رہائشی مارکیٹ میں خوشحالی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانیوں کے اس ملک میں جائیداد خریدنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔‘

ایک ماہر کے مطابق 2020 کے بعد سے سیاحوں کے ملٹی پل ویزوں کی تجدید پر پابندی کو ایرانیوں کی ترکی میں جائیداد کی خریداری میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا: ’ترک حکومت کے نئے قانون کے مطابق 2020 سے سیاح صرف ایک سال کے لیے ترکی میں مکان کرائے پر لے سکیں گے اور دوسرے سال سے انہیں اس ملک میں مکان کرائے پر لینے کا حق نہیں ہوگا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں.

حالیہ برسوں کے دوران ایران میں ترکی اور دبئی جیسے ممالک میں پراپرٹی کی خریداری کے حوالے سے اشتہارات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران میں سیٹلائٹ نیٹ ورکس سے لے کر اخبارات اور پرنٹ میگزین تک سب ایسے اشتہاروں سے بھرے پڑے ہیں، لیکن حال ہی میں سائبر سپیس میں ایسے اشتہاروں میں اضافہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

ترکی کے لیے شہریت حاصل کرنے کے تین طریقے ہیں جن میں ملک میں کم سے کم ڈھائی لاکھ ڈالر مالیت کی جائیداد خریدنا، ترکی کے سرکاری ملکیت والے بینکوں میں پانچ لاکھ ڈالر ڈپازٹ کرانا اور کاروبار شروع کرنا یا ایک فیکٹری تیار کرنا جس میں 50 ترک شہریوں کو ملازمت دینا شامل ہے۔

ایسے غیر ملکی افراد کو تین سال تک ترکی میں رہنا پڑے گا اور اس عرصے کے بعد وہ اپنا مکان، ڈپازٹ کی گئی رقم اور فیکٹری واپس لے سکتے ہیں اور اس کے باوجود وہ ترک پاسپورٹ اور اپنی ترک شہریت برقرار رکھ سکتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ نے بھی ایرانیوں کو ترکی میں سرمایہ کاری کرنے سے نہیں روکا ہے۔ ترکی کے اعدادوشمار کے مرکز کے مطابق اس عرصے کے دوران ایرانی ترک جائیدادیں خریدنے والا سب سے بڑا غیر ملکی گروہ تھا جنہوں نے دو ہزار 628 مکانات خریدے تھے۔ اس کے بعد عراق، چین، آذربائیجان اور روس کے شہریوں نے ترکی میں سب سے زیادہ جائیدادیں خریدیں۔

ترکی کی خوشحال صورت حال کے باعث ایرانیوں کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے لوگ بھی اس ملک میں جائیداد خرید رہے ہیں۔

ماہر کے مطابق: ’ہمارے پاس ایک گاہک تھا جو سات لاکھ ڈالر میں ایک پراپرٹی خریدنے میں ہچکچا رہا تھا لیکن کچھ ہی دیر بعد ایک عراقی سرجن نے یہ پراپرٹی زیادہ قیمت پر خریدی لی۔ لبنانی، سعودی اور روسی شہری بھی ترکی میں جائیداد کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔‘

دوسری جانب اناطولیہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں کرونا پھیلنے کے بعد غیر ملکیوں کی ملک میں جائیداد خریدنے کی خواہش کم ہوئی ہے۔

شماریاتی ادارے کے مطابق 2020 کے ابتدائی چھ ماہ میں مجموعی طور پر ترک رہائش اور شہریت حاصل کرنے کے مقصد کے لیے غیر ملکیوں کی گھروں کی خریداری میں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 29 فیصد کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ ترکی میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش میں کمی کا اطلاق ایرانی شہریوں پر نہیں ہوتا جہنوں نے وبا کے دوران ترکی سب سے زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔

ترکی کے شماریات ادارے کے اعدادوشمار کے مطابق استنبول غیر ملکیوں میں مکانات خریدنے کے لیے سب سے زیادہ باعث کشش شہر ہے اور اس عرصے میں چھ ہزار 902 مکان اسی شہر میں خریدے گئے۔ استنبول کے بعد انتالیا اور انقرہ غیر ملکیوں کے لیے سب سے پسندیدہ شہر ہیں۔

استنبول میں 36 شہری اور دیہی علاقے ہیں، جن میں 25 علاقے یورپی حصے اور 14 علاقے ایشیائی حصے میں واقع ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.