ان ہاؤس تبدیلی آئی تو شہباز شریف کی قسمت کا تارہ چمکے گا جو مریم نواز اور نواز شریف کو کسی صورت قبول نہیں ، اس لیے اب ہو گا یہ کہ ۔۔۔۔صابر شاکر کا تہلکہ خیز سیاسی تبصرہ

Spread the Story
  • 213
    Shares

ان ہاؤس تبدیلی آئی تو شہباز شریف کی قسمت کا تارہ چمکے گا جو مریم نواز اور نواز شریف کو کسی صورت قبول نہیں ، اس لیے اب ہو گا یہ کہ ۔۔۔۔صابر شاکر کا تہلکہ خیز سیاسی تبصرہ

اسلام آباد (جی سی این) اس اتوار کو وفاقی دارالحکومت میں سیاسی بازار دیکھنے کو ملا اور سیاست کا بازار اتوار کو خوب گرم ہوا۔ اس بازار کا اہتمام پوش ایریا اور ریڈ زون میں پاکستان پیپلزپارٹی نے کیا تھا ۔ آصف علی زرداری نے سیاسی بلوغت کو تازہ تازہ چھونے والے اپنے اکلوتے بیٹے بلاول کو میدان میں اتارا اور میزبانی کا اعزاز حاصل کیا ورنہ مولانا فضل الرحمان کب سے اس کوشش میں تھے کہ اے پی سی کا وہ اہتمام کریں‘ نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔لیکن کوئی بھی بڑا مولانا کے سیاسی سٹال سے خریداری کے لیے تیار نہ تھا کیونکہ مردم شناس زرداری جانتے ہیں کہ مولانا کے پیچھے نواز شریف ہیں اور مولانا کا اگلا اتحاد پی پی پی سے نہیں بلکہ( ن) لیگ کے ساتھ ہوگا اور مولانا مذہبی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے‘ جس کا اقرار وہ برملا اظہار کرچکے ہیں ‘ خاموشی سے مذہبی ووٹ کو ایک ٹوکرے میں جمع کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ مذہبی ووٹ الیکشن میں (ن) لیگ کے حق میں استعمال ہوگا اور اس کا کوئی فائدہ پی پی پی کو نہیں پہنچ سکے گا۔آصف زرداری یہ بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف ایک لمحہ ضائع کئے بغیر موجودہ پارلیمانی سیٹ اَپ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور اس حد تک جانے کے لیے تیار ہیں کہ خلفشار پیدا ہو اور ملک میں مارشل لاء لگ جائے تاکہ ان کی عدم موجودگی میں کوئی بھی کھیل نہ سکے اور پھر بحالی جمہوریت کی تحریک چلے اور جب بھی انتخابات ہوں تو وہ مقبول ترین لیڈر کے طور پر سامنے آئیں۔
زرداری یہ بھی جانتے ہیں کہ نواز شریف اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کیوں تڑوانا چاہتے ہیں‘ محض اس لیے کہ جلد از جلد انتخابات ہوں اور وہ ایک برادر ملک کے تعاون سے دوبارہ برسر اقتدار آ سکیں۔ زرداری صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ ماضی میں انہوں نے جب بھی (ن) لیگ پر بھروسہ کیا اور میثاقِ جمہوریت پر عملدرآمد کے لیے تعاون مانگا تو انہیں ہمیشہ عہد شکنی ملی‘ بلکہ آج جن جعلی اکاؤنٹس کیس کے مقدمے کا زرداری اور ان کے فیملی اینڈ فرینڈز کو سامنا ہے وہ تمام نواز شریف ہی کا تحفہ ہیں۔ اس لیے زرداری صاحب اب کئی بار ڈسے جانے کے بعد پھر شریف فیملی کے ہاتھوں مار کھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔دوسری جانب اس وقت صرف دو خاندان اقتدار کی راہداریوں سے باہر ہیں‘ ایک نواز شریف فیملی اور دوسرے مولانا‘ جبکہ شہباز شریف مرکز میں اپوزیشن لیڈر ہیں اور حمزہ شہباز پنجاب میں اس عہدے پر براجمان ہیں۔ آئندہ کا عبوری سیٹ اَپ تشکیل پانا ہو یا باقی اہم تعیناتیاں اس میں شہباز شریف فیملی کا ہی عمل دخل ہوگا‘ کسی اور کا نہیں۔ اس پس منظر میں سیاست کا بازار لگا اور نواز شریف نے ایک جذباتی تقریر کرکے میلہ لوٹنے کی کوشش کی اور چاہا کہ اسمبلیوں سے استعفے کا آپشن استعمال کیا جائے‘ لیکن پیپلزپارٹی نے صریحاً انکار کیا اور استعفوں کے آپشن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ردکردیا ۔پھر فوری تحریک چلانے کا مطالبہ سامنے آیا تو اسے بھی رد کردیا گیا۔ ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن نواز شریف اور مریم بی بی کو قبول نہیں کیونکہ اس صورت میں شہباز شریف کا ستارہ چمک سکتا ہے‘ لیکن اس کے لیے زرداری صاحب بھی تیار نہیں ہیں ‘وہ نہیں چاہتے کہ ان کے ازلی سیاسی دشمن دوبارہ اقتدار میں آئیں ۔(ن )لیگ کی آخری کوشش ہوگی کہ مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات سے قبل اسمبلیاں ٹوٹ جائیں تاکہ سینیٹ میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل نہ ہوسکے کیونکہ سینیٹ کے الیکشن کے نتیجے میں بھی (ن) لیگ اور مولانا کا صفایا ہوگا اور پی پی پی اور پی ٹی آئی کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوگا‘ لہٰذا اے پی سی کے انعقاد سے اختتام تک زرداری سب پر بھاری رہے اور چار ماہ کا طویل روڈ میپ دے گئے۔ یہاں تک کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے وقت لنک ڈاؤن کردیا گیا اور واحد تقریر مولانا کی نشر نہ ہوسکی۔ نواز شریف کی مکمل تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ ایک بہترین ڈش تیار کی جائے اور جب تیار ہوجائے تو پھر انہیں اس پکوان کو کھانے کے لیے بلالیا جائے۔سیاست کے اس بازار کے انعقاد سے دو روز پہلے وزیراعظم عمران خان سے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کا موقع ملا اور ان کے موجودہ سیاسی صورتحال پر خیالات سے آگاہی حاصل ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شکست خوردہ کرپٹ مافیا اپنا لوٹا ہوا مال بچانے کے لیے ایک بار پھر جمع ہورہا ہے جس کا واحد مقصد لوٹ مار کرنا ہے‘ لیکن اب یہ مافیا دوبارہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی اساس کی محافظ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف پاکستان کو ریاستِ مدینہ کے تصور کے عین مطابق ڈھالے گی۔ وزیراعظم صاحب نے کہا کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے پاکستان کے دشمن اسے کمزور کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں فرقہ واریت پھیلانا دشمن کا پراناحربہ ہے‘ لیکن پاکستان کے عوام باہمی رواداری احترام اور برداشت پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کم سن بچوں بچیوں اور خواتین پر ظلم کرنے والوں کو عبرتناک سزاؤں کے حق میں ہیں اور اس ضمن میں جلد قانون سازی کی جائے گی۔ وزیراعظم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی شکست پر بہت خوش تھے کہ اہم ترین قانون سازی پر اپوزیشن کو واضح شکست ہوئی اور اپوزیشن کا پاکستان مخالف ایجنڈا اور ذہنیت بھی واضح ہوگئی ہے انہوں نے بتایا کہ اب آئندہ بھی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قانون سازی کی جائے گی۔وزیراعظم صاحب نے کہا کہ پاکستان اس وقت صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور خوش حالی اور ترقی کاسفر شروع ہوچکا ہے اس لیے اسے سبوتاژ کرنے کے لیے بدعنوان کلاس جمع ہو رہی ہے ۔وزیراعظم صاحب نے کہا کہ احتساب بلا امتیاز سب کا ہوگا اور کسی کو بھی پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز بھی موجود تھے ۔وزیراعظم صاحب اپنا بیانیہ یعنی احتساب کا نعرہ چھوڑنے کے لیے بالکل تیار نظر نہیں آئے‘ البتہ انہوں نے بتایا کہ اب ڈلیور کرنے کا وقت آچکا ہے اور اب ایسا ہی ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.