قبائلی عورت نوکری بھی نہیں کرسکتی؟

قبائلی عورت نوکری بھی نہیں کرسکتی؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان کے قبائلی اضلاع میں کیا خواتین ہمیشہ گھروں کی چاردیواری میں ہی زندگی گزاریں گی یا کوئی ایسا وقت بھی آئے گا کہ وہ مردوں کی طرح زندگی کے ہر شعبے میں بغیر کسی خوف کے حصہ لے سکیں گی۔

اس بات کا پس منظر یہ ہے کہ حال ہی میں نامعلوم افراد نے میر علی میں ایک خاتون ہیلتھ ورکر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

قبائلی معاشرے میں گذشتہ چار عشروں سے ہمیشہ اگر کسی خاتون کے ساتھ ظلم ہوا ہو یا ناجائز قتل ہو جائے تو ان کے خاندان والوں نے خبر کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ وہ خواتین کی بات کو گھر سے باہر جانے کو اپنی بےعزتی سمجھتے ہیں حالانکہ افغان ’جہاد‘ سے پہلے قبائلی خواتین مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی تھیں، اشیائے ضرورت کی خریداری کے لیے بازار جاتی تھیں اور یہاں تک کہ شادی بیاہ یا عید کے موقع پر مردوں کے ساتھ ’بھنگڑے‘ ڈالتی تھیں۔

افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد مذہبی لوگوں نے خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قبائلی مشران نے لڑکیوں کے سکولوں کو مہمان خانہ بنا دیا اور دہشت گردی کے نام پر جنگ نے مزید سکولوں کے دروازے بند کر دیے جبکہ بڑی تعداد میں سکول بموں سے اڑا بھی دیے گئے۔    

 اب حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خواتین کے لیے نوکری کرنا بھی ’حرام‘ ہو گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ سب ڈویژن میرعلی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک لیڈی ہیلتھ ورکر کو اس وقت فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا جب وہ ہسپتال سے ایک رکشے میں گھر جا رہی تھیں۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ مسلح افراد نے سڑک کے کنارے رکشے کو اشارہ سے روکا اور لیڈی ہیلتھ ورکر کو اتارنے کے بعد خود کار ہتھیار سے فائرنگ کرکے انہیں ہلاک کر دیا، جس کے بعد دونوں حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہوکر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ہیلتھ ورکر کی عمر 25 سال تھی اور ان کا تعلق میرعلی کے گاؤں موسکی سے تھا۔ ان کی ڈیوٹی گاؤں خوشحالی کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ خاتون کو سر میں کئی گولیاں لگی تھیں اور وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئی تھیں۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ صرف ملازم پیشہ خاتون کا قتل نہیں، اس سے پہلے بھی طالبان شدت پسندوں نے قبائلی علاقوں میں 16 سال سے جاری جنگ میں سب سے زیادہ نقصان لڑکیوں کے سکولوں کو پہنچایا ہے۔ شدت پسند شاید دوسری سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے لڑکیوں کے سکولوں کو اڑانے میں زیادہ ثواب سمھجتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ لڑکیوں کو گھر کی چاردیواری سے باہر دوسرے مردوں سے بات کرنے یا ملنے کی کسی بھی صورت اجازت نہیں ہوگی۔

قبائلی علاقوں میں تعمیر ہونے والے لڑکیوں کے سکول تو ویسے بھی مہمان خانے تھے مگر طالبان کو لڑکیوں کے سکولوں کا نام بھی پسند نہیں تھا۔

لڑکیوں کو علم سے محروم رکھنے میں صرف طالبان شدت پسندوں نے زیادتی نہیں کی بلکہ ایف سی آر کے تحت پولیٹیکل ایجنٹس کو انتظامی، عدالتی اور پولیس سارے اختیارات حاصل تھے اور ان کا رابطہ بھی صرف قبائلی مشران سے رہتا تھا۔ قبائلی مشران کا پولیٹکل ایجنٹ سے سرفہرست مطالبہ یہی ہوتا تھا کہ انہیں ان کے علاقے میں گرلز سکول دیا جائے۔

گرلز سکول میں دو قسم کے فائدے ہوتے تھے ایک تو یہ کہ ان کو مفت میں مہمان خانہ مل جاتا اور دوسرا یہ کہ ان کو تین چار کلاس فور کی نوکریاں حاصل ہوتی تھی جس سے وہ گھر کے اخراجات پورا کرتے تھے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق پولیٹیکل ایجنٹ رسول خان وزیر نے جی سی این اردو کو بتایا کہ پولیٹکل ایجنٹ خود مختار ہوتا تھا، لہذا جس کو چاہتا سکول دے سکتا تھا۔ ان کے مطابق مالدار قبائلی مشران میں ایسے مشران بھی شامل ہیں جنہوں نے چار سے پانچ سکول لیے تھے اور جن کی نہ صرف عمارتیں وہ اپنے ذاتی استعمال میں لاتے ہیں بلکہ کلاس فورس کی تنخواہیں بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف سی آر میں فاٹا کے لیے صدر مملکت اور گورنر کے الگ الگ کوٹے ہوتے تھے اور دونوں میں گرلز سکول شامل ہوتے تھے۔ صدر مملکت اور گورنر کے فنڈ کو ملا کر ان کا بجٹ خیبر پختونخوا کے بجٹ سے زیادہ تھا مگر عام قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔

قبائلی اضلاع میں اب بھی خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا حق حاصل نہیں اور سخت گیر قبائلی سوسائٹی یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی پرائیوٹ یا سرکاری ادارے میں ملازمت اختیار کرکے انسانیت کی خدمت اور روزگار حاصل کرسکے۔ بعض لوگ اپنی ماں یا بہن کا نام لینے میں بھی شرم محسوس کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی خواتین کو گھروں تک محدود رکھنے میں پیش پیش ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.