فہیم اور رضوان نے مکمل تباہی سے بچا لیا؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

ماؤنٹ منگنوئی کے بے اوول گراؤنڈ میں پہلے ٹیسٹ کے تیسرے دن فہیم اشرف اور محمد رضوان کی شاندار بیٹنگ نے پاکستان ٹیم کو ممکنہ  فالو آن سے بچا لیا۔

اوپنر عابد علی اور نائٹ واچ مین محمد عباس کی پہلے گھنٹے میں مزاحمت کے باوجود پاکستان کے مڈل آرڈر بلے باز  بقیہ اننگز میں کچھ نہ کر سکے۔

 اظہرعلی، حارث سہیل، فواد عالم ڈبل فگرز میں بھی نہ پہنچ سکے، تاہم کپتان محمد رضوان اور آل راؤنڈر فہیم اشرف نے ساتویں وکٹ کی شراکت میں 107 رنز بناکر ٹیم کو مکمل تباہی سے ’بچا‘ لیا۔

تیسرے دن کے آخری اوور میں پاکستان ٹیم 239 رنز بناکر آل آؤٹ ہوگئی۔ آخری آؤٹ ہونے والے بلے باز فہیم اشرف ہی تھے جو صرف نو رنز کی دوری سے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

پیر کی صبح جب کھیل شروع ہوا تو عابد علی اور محمد عباس نے پہلے گھنٹے میں محتاط انداز سے کھیلتے ہوئے کیوی بولرز کو وکٹ لینے سے باز رکھا۔ تاہم نیوزی لینڈ کو پہلی کامیابی عابد علی کی شکل میں ملی جو جیمسن کی گیند پر 25 رنز بناکر بولڈ ہو گئے۔

محمدعباس آج دوسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی تھے جنھیں ٹرینٹ بولٹ نے آؤٹ کیا۔

سابق کپتان اظہر علی زیادہ دیر وکٹ پر نہ رک سکے اور صرف پانچ رنز بناکر ہی ساؤتھی کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ ہوگئے۔

حارث سہیل بھی غیر ذمہ داری سے گلی میں نکولس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان کا قیام وکٹ پر صرف 22 گیندوں پر محیط تھا۔

مخصوص انداز میں وکٹ پر کھڑے ہونے والے بلے باز فواد عالم نے کچھ جدوجہد کی لیکن ایک غیر ضروری ہک شاٹ کھیلتے ہوئے ویگنر کی گیند پر نو رنز بنا آؤٹ ہوگئے۔

اس موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان ٹیم سو سے بھی کم سکور پر آؤٹ ہو جائے گی لیکن کپتان محمد رضوان اور فہیم اشرف نے صورتحال کو سنبھالا اور دفاع کے ساتھ جوابی حملے بھی کرنا شروع کیے جس کے نتیجے میں نہ صرف وکٹ بچائی بلکہ رنز بھی بننے لگے اور کیوی بولرز پہلی دفعہ دباؤ میں دکھائی دینے لگے۔

 محمد رضوان نے اپنی ٹی ٹوئنٹی فارم کا تسلسل قائم رکھا اور اپنی شاندار بیٹنگ سے کیوی بولنگ کو دباؤ میں ڈالے رکھا۔ رضوان نے آج باؤنسرز پر اپنے اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے منفرد انداز میں  ہک شاٹ کھیلے۔

ان کے ساتھ فہیم اشرف بھی بقیہ بلے بازوں کے برعکس اٹیکنگ حکمت عملی سے کام لیتے رہے۔ انہوں نے ہر خراب گیند پر بے خوف ایسے شاٹ کھیلے جس سے سکور بورڈ بھی حرکت میں رہا اور ان کو اعتماد بھی ملتا رہا۔

اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد وہ کیوی بولرز پر پوری طرح حاوی ہوگئے اور وکٹ کے چاروں طرف دلکش سٹروک کھیلے۔ ان کی 91 رنز کی اننگز میں 15 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ 

جب پاکستان کا سکور 187 پر پہنچا تو کپتان رضوان بدقسمتی سے رن آؤٹ ہوگئے۔ انہوں نے 71 رنز بنائے جس میں آٹھ چوکے شامل تھے۔

رضوان کی رخصتی کے بعد بھی فہیم اشرف اپنا کردار ادا کرتے رہے اور شاہین شاہ کے ساتھ 39 رنز کی پارٹنر شپ بنائی جس نے نیوزی لینڈ کی لیڈ مزید کم کر دی۔

نیوزی لینڈ کے بولرز آج اپنی روایتی سوئنگ بولنگ کرنے میں ناکام رہے حالانکہ کئی دفعہ ہلکی بارش اور گہرے بادلوں سے ان کو قدرتی مدد مل رہی تھی۔ بارش کے باعث دو دفعہ میچ روکنا بھی پڑا لیکن کیویز رضوان اور فہیم کے خلاف بے بس نظر آئے۔

میزبان ٹیم اپنی دوسری اننگز منگل کی صبح جب شروع کرے گی تو اس کے کھاتہ میں 192 رنز کی سبقت پہلے سے موجود ہوگی۔ اگر کیویز مزید دو سو رنز بنا کر پاکستان کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں تو میچ کی چوتھی اننگز میں پاکستانی بلے بازوں کا سخت امتحان ہوگا کہ کس طرح میچ کو شکست سے بچا سکیں جس سے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.