'ڈراؤنا خواب': ووہان میں کرونا لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل

‘ڈراؤنا خواب’: ووہان میں کرونا لاک ڈاؤن کو ایک سال مکمل

Spread the Story
  • 213
    Shares

چین کے شہر ووہان کی سی فوڈ مارکیٹ کے باہر کھڑی رکاوٹیں ہمیں یاد کرا رہی ہیں کہ ایک سال قبل یہ شہر کرونا (کورونا) وائرس کا مرکز تھا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے کر نظام زندگی درہم برہم کر دیا تھا۔

ان رکاوٹوں کے علاوہ وسطی چین کے ایک کروڑ دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے اس شہر میں اب معمولات زندگی رواں دواں ہیں، جہاں کاریں شاہراہوں پر فراٹے بھرتی ہیں، فٹ پاتھوں پر شہریوں کی ہلچل ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ اور پارکس عوام سے بھرے نظر آ رہے ہیں۔

آج (23 جنوری) کو اس شہر، جہاں 2019 کے اختتام پر پہلی مرتبہ کووڈ 19 کا سراغ لگایا گیا تھا، میں کرونا کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لگائے گئے لاک ڈاؤن کو ایک سال پورا ہو رہا ہے۔

گذشتہ سال 23 جنوری کو ووہان میں دنیا کا پہلا اور سب سے سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا، جہاں شہر میں آمد و رفت پر مکمل پابندی لگا دی گئی تھی۔

مہلک وائرس پر قابو پانے سے پہلے یہاں کے لوگوں نے پہلے 86 دن خوف و ہراس میں گزارے تھے۔

آج ووہان کی فارمیسیز اور ہسپتال کووڈ 19 کے مریضوں سے خالی ہیں اور خوف کے سائے چھٹ چکے ہیں اور دنیا میں کرونا کے حوالے سے ’گراؤنڈ زیرو‘ کہلانے والا یہ شہر مکمل طور پر دوبارہ زندگی کی طرف لوٹ چکا ہے۔

سرکاری طور پر ووہان کے پہلے لاک ڈاؤن کی یاد منانے کا منصوبہ نہیں ہے لیکن اس ڈراؤنے خواب کی مانند گزرے ہوئے وقت کے نشانات اب بھی باقی ہیں۔

شہر کے وسط میں واقع ووہان سی فوڈ مارکیٹ کو بند کرنے والے بورڈز اس بحران کی جانب اشارہ کر رہے ہیں، جن کے پیچھے سے جنم لینے والے اس چھوٹے سے وائرس نے چین کی سرحدیں عبور کر کے دنیا کے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا اور 20 لاکھ سے زیادہ انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔

اور اب جب کہ یہاں کی سڑکیں ایک بار پھر پر رونق نظر آ رہی ہیں شہریوں نے ابھی تک اپنے چہروں سے ماسک نہیں اتارے۔  ملک کے بیشتر علاقوں میں اب بھی سخت اقدامات کی یاد تازہ ہے کیوں کہ حکام کو مقامی طور پر اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے۔

چین نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کرونا کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد دوبارہ اس وبا کو قابو میں کیا ہے، جس کی وجہ سے نئے لاک ڈاؤن، سفری پابندیاں اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا گیا تھا۔

دوسری جانب حالیہ دنوں میں دارالحکومت بیجنگ میں چند کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے شہر کے 16 لاکھ رہائشیوں کے دارالحکومت چھوڑنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.