مولانا فضل الرحمان کے داماد کو نیب نے کیوں طلب کیا ؟

مولانا فضل الرحمان کے داماد کو نیب نے کیوں طلب کیا ؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

قومی احتساب بیورو(نیب) پشاور نے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ  و جمعیت علما اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیاالرحمان اور داماد فیاض علی کو پشاور دفتر میں اپنے بیانات قلم بند کرنے کے لیے طلب کر لیا۔

دونوں کو نیب کی جانب سے مختلف کیسز میں طلب کیا ہے ۔

نیب پشاور دفتر کی جانب  سے جاری  طلبی نوٹس(جس کی کاپی گلوبل کرنٹ نیوز اردو کے پاس موجود ہے ) میں لکھا گیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے داماد فیاض علی   کو مولانا فضل الرحمان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں طلب کیا گیا۔

نوٹس کے مطابق نیب کو تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ فیاض علی کے پاس مولانا فضل الرحمان کے زائد از آمدن اثاثوں کے حوالے سے ثبوت بھی موجود ہیں۔

نوٹس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وہ  28 جنوری کو نیب پشاور دفتر میں آکر بیانات قلم بند کرائیں  اور اگر پیش نہیں ہوئےتو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ ضیاالرحمان کو نیب نے 26 جنوری کو طلب کیا ہے۔

نیب پشاور کی ترجمان سلمٰی بیگم نےGCN کو   مولانا فضل الرحمان کے داماد فیاض علی اور ان کے بھائی ضیاالرحمان  کو نوٹسز جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔ 

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے داماد پشاور سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر غلام علی کے بیٹے ہیں۔

نیب نے مولانا فضل الرحمان کے بھائی ضیاالرحمان  کو بھی 26 جنوری کو نیب دفتر طلب کرلیا ہے۔  نیب خیبر پختونخوا کی ترجمان سلمیٰ نے GCN کو بتایا کہ ضیاالرحمان کے خلاف نیب نے ان کی پروانشنل مینیجمنٹ سروس  میں ’غیر قانونی‘ ضم ہونے کے  خلاف انکوائری شروع کی ہے۔

ضیاالرحمان مولانا فضل فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ہیں جن پر پہلے سے  تنقید کی جاتی ہے  کہ وہ پروانشل منیجمنٹ سروس (پی ایم ایس) کے ملازم ہونے کے باجود خیبر پختونخوا  کے علاوہ باقی صوبوں میں غیر قانونی طور پر اہم عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کے دور حکومت میں ضیاالرحمان پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور  اسسٹنٹ ڈویژنل گریڈ 17 میں تعینات تھے  تاہم 2007 میں ایم ایم اے کی حکومت  نے  ان کو پشاور  میں کشمنر افغان مہاجرین تعینات کیا گیا تھا اور ان کو پراونشنل مینیجمنٹ سروس میں ضم کردیا تھا۔

اسی طرح ضیاالرحمان  کو اس وقت پی ٹی سی ایل کے ملازم  ہونے کے باجوود  پراونشل سول سروس کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

اس کے بعد ضیاالرحمان کو صوبہ پنجاب میں تعینات کیا گیا تھا جب کہ 2020 میں ان کی خدمات سندھ حکومت کے سپرد کی گئی تھیں اور جولائی 2020 میں انہیں ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کیا گیا تھا۔

اس تعیناتی پر سند ھ میں  پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ  کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تھا  جس کی وجہ سے سندھ حکومت نے آگست 2020 میں ان کی تعیناتی مسنوخ کر کے ان کے خدمات دوبارہ خیبر پختونخوا حکومت کے سپر کردیا گیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کے داماد فیاض علی کون ہیں؟

نیب کی جانب سے طلب کیے گئے  مولانا فضل الرحمان کے داماد فیاض علی جمعیت علما اسلام کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حاجی غلام علی کے بیٹے ہیں۔

غلام علی کا تعلق پشاور سے ہے اور  جمعیت علما اسلام کے سرکردہ رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

فیاض علی پشاور میں پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں ۔

فیاض علی کے والد حاجی  غلام علی پر اس سے پہلے  2001 میں  آمدن سے زائد آثاثوں کا الزام تھا اور نیب نے 14 سال اس کی تفتیش کی تھی تاہم ان کو 2009 میں احتساب عدالت نے با عزت بری کردیا تھا۔

اس وقت غلام علی پر نیب احتساب عدالت کی جانب سے آمدن سے زائد 31 کروڑ تک اثاثہ جات کا الزام تھا۔

غلام علی 90 کے دہائی تک پشاور میونسپل کارپوریشن کے کونسل بھی رہے ہیں جبکہ 2005 میں وہ ناظم منتخب ہوئے تھے تاہم انھوں نے بعد میں استعفیٰ دیا تھا اور 2009 میں سینیٹ انتخابات مین حصہ لیا تھا۔

غلام علی جب پشاور کے ناظم تھے تو اس وقت بھی نیب کی جانب سے غلام علی پر غیر قانونی جائداد خریدنے اور بیچنے کا الزام لگا تھا لیکن  2014 میں  وہ ان الزامات سے بری کیے گئے تھے اور 2014 ہی میں وہ  انکوائری بند کردی گئی تھی۔

اس کے بعد 2015 میں خیبر پختونخوا  احتساب کمیشن (اس ادارے کو اب ختم کردیا گیا ہے) کی جانب سے غلام علی کے خلاف  بھی انکوائری شروع کی تھی اور ان کو آمدن سے زائد اثاثہ جات مین طلب کیا تھا۔

احتساب کمیشن کی جانب سے اس وقت غلام علی کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے تاہم غلام علی نے اس کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ پشاور  ہائی کورٹ نے احتساب کمیشن کو غلام علی کو گرفتاری سے منع کیا تھا اور 2016 میں احتساب کمیشن نے اس انکوائری کو بند کر دی تھی۔

غلام علی نے نیب کی جانب سے نوٹس کے حوالے سے GCN کو بتایا کہ ابھی تک نیب کی جانب سے ان کے خاندان یا بیٹے کو کوئی نوٹس نہیں ملا۔

انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے بھی نیب کی جانب سے ان کے خلاف انکوائری کی گئی تھی اور ان کو باعزت بری کردیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.