ایچ ای سی نے ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں میں آن لائن امتحانات کا حکم دے دیا

Spread the Story
  • 213
    Shares

طلبہ آن لائن امتحانات کے دوران اپنے کیمرے بھی آن رکھیں ، جامعات میں رواں سمسٹر کے امتحانات آن لائن ہوں گے ، تمام یونیورسٹیاں مڈٹرم اور فائنل امتحانات بھی آن لائن لیں گی ، ایچ ای سی

اسلام آباد (گلوبل گرانٹ نیوز) ہائرایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹیوں میں امتحانات کا انعقاد روکنے کا حکم جاری کردیا ، ملک بھر کی تمام جامعات میں رواں سمسٹر کے امتحانات آن لائن ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جامعات میں امتحانات کا انعقاد روک دیا جائے ، تمام یونیورسٹیاں مڈٹرم اور فائنل امتحانات آن لائن لیں گی ، یہ فیصلہ ملک میں عالمی وباء کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
ایچ ای سی نے ہدایات جاری کی ہیں کہ طلبہ آن لائن امتحانات کے دوران اپنے کیمرے بھی آن رکھیں جب کہ ملک بھر کی تمام جامعات میں کورونا سے بچاو کی حفاطتی ایس او پیز پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جائے۔ یہاں بتاتے چلیں کہ آن لائن امتحانات کے حق میں ملک کے مختلف شہروں میں طلبا نے احتجاج کیا ، جس کی وجہ سے آن لائن امتحانات کے لیے پُر تشدد احتجاج کرنے والے نجی یونیورسٹی کے طلبا کے خلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ، جس میں 94 نامزد جبکہ پانچ سو افراد کو نامعلوم رکھا گیا ، مقدمے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے مؤقف اپنایا کہ طلبا کو دھرنا دینے سےمنع کیا گیا جس پر وہ حملہ آور ہوئے، اس دوران ملزمان نے یونیورسٹی میں جلاو گھیراؤ کے ساتھ توڑ پھوڑ کی، ملزمان نے سیکیورٹی گارڈز کو زخمی کیا اور املاک کو بھی نقصان پہنچایا ، جب کہ رہنما احتجاجی طالب علم محمدزبیر صدیقی نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی والے صرف پیسےبنانے کے لیے فزیکل امتحان کروانا چاہتے ہیں، ہم نے یونیورسٹی سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے ہماری بات نہ سنی۔
واضح رہے گذشتہ روز لاہور میں مشتعل طلبا نے یونیورسٹی کے دروازے کو آگ لگائی تھی، احتجاجی طلبا پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں دو طلبا زخمی جبکہ متعدد طلبا کو گرفتار کرلیا گیا تھا، طلبا کا مطالبہ تھا کہ آن لائن پڑھائی کی طرح امتحان بھی آن لائن لیے جائیں ، پولیس کی مزید نفری بھی موقع پر پہنچی اور طلبا کو منتشر کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان موقع پر پہنچے اور کہا کہ پُرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے والوں سے نمٹا جائے گا ، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی ، انہوں نے مظاہروں میں طالبعلم کی ہلاکت کو جھوٹ قرار دیا ، یادرہے کہ گذشتہ روز طلبا کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی سے خیابان جناح روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.