کشمالہ طارق کے بیٹے کے واقعہ پر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا کی وزیراعظم پر تنقید

Spread the Story
  • 213
    Shares

پروگرام کے دوران رؤف کلاسرا وزیراعظم عمران خان پر برس پڑے

اسلام آباد (گلوبل کرنٹ نیوز) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کشمالہ طارق کے بیٹے والے واقعہ پر وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ انہوں نے پروگرام میں کہا کہ ہم نے جس طریقے سے گذشتہ دو ڈھائی سالوں میں اسلام آباد کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا اور یہ تبدیلی ایک بُری تبدیلی ہے۔
اسلام آباد میں پہلے بھی ایلیٹ ہوتے تھے لیکن ایسے ایلیٹ نہیں تھے۔ کابینہ میں یہ باتیں کی جائیں گی کہ ایلیٹ کو پکڑ لیا گیا ہے لیکن اسلام آباد میں اس وقت جو ایلیٹ کلچر چل رہا ہے وہ سمجھ سے باہر ہے ۔ ایسے لوگ اسلام آباد میں آ گئے ہیں جن کے پاس بے شمار گاڑیاں ہیں، انہوں نے اپنے ساتھ گارڈز بھی رکھے ہوئے ہیں۔
اُن کے ساتھ اُن کی گاڑیاں اور گارڈز سفر کرتے ہیں ۔

اسلام آباد میں نہ تو کہیں پولیس نظر آتی ہے اور نہ ہی کوئی ٹریفک پولیس ۔ اس وقت اسلام آباد میں جتنی تیز رفتار گاڑیاں چلتی ہیں اور جتنی ریس لگتی ہیں اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو ڈھائی سالوں میں اسلام آباد بہت تبدیل ہو گئی ہے۔ یہاں تو پولیس افسران بھی بغیر سفارش کے بھرتی نہیں ہوتے۔ اسلام آباد میں کبھی بھی اشارہ نہیں توڑا جاتا تھا، لیکن اب ایسے کئی واقعات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک بدمعاشی کلچر آ گیا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے ، جس کے پاس چار پانچ بندے ہیں اُس نے پولیس اپنے ساتھ لگائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی سب سے ناکام پولیس ہے، ان سے کوئی کرائم کنٹرول نہیں ہوتا ، یہاں ڈاکے بھی پڑ رہے ہیں، چوریاں بھی ہو رہی ہیں ، قتل بھی ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سی ڈی اے ، آئی سی ٹی ، پولیس اور ضلعی انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہے۔ جنہوں نے مارا ہے اُن کو یہ علم تھا کہ ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، واقعہ ہونے کے بعد پولیس غالباً ایک گھنٹے بعد پہنچی ہے۔ یہاں سے حساب لگا لیں، انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے ناکام ترین اور بے کار پولیس دیکھنی ہے تو وہ اسلام آباد کی پولیس دیکھ لے۔ اسلام آباد کی موجودہ صورتحال پر رؤف کلاسرا نے وزیراعظم عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.