عمران خان اور کشمیر کی آزادی

Spread the Story
  • 213
    Shares

وزیر اعظم عمران خان کی کوٹلی میں حالیہ تقریر نے جہاں پاکستان کے بعض سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے وہیں لائن آف کنٹرول کے آر پار رہنے والے بیشتر کشمیریوں کی یہ امید بھی بندھ گئی کہ مکمل آزادی حاصل کرنے میں پاکستان کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔

عمران خان نے پانچ فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے موقع پر کوٹلی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جب کشمیری پاکستان کے ساتھ مل جائیں گے اس کے فورا بعد انہیں یہ فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا کہ وہ آزاد ہونا چاہیے گے یا پاکستان کے ساتھ رہنا پسند کریں گے۔

اس اعلان پر پاکستانی میڈیا پر بیشتر مبصرین نے تبصرہ کیا کہ وزیر اعظم نے اپنے آئین کا مطالعہ کئے بغیر یہ فیصلہ کر کے کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن کو مزید کمزور کیا ہے اور ایسے وقت اس بیان سے گریز کرنا چاہیے تھا جب بھارت نے متنازع جموں و کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانے کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سلسلے میں بیرونی ملکوں میں آباد کشمیریوں کی مدد سے افراتفری پیدا کرنے کے اپنے منصوبے پر سرعت سے کام بھی کر رہا ہے۔ اس کا ذکر یورپی ڈس انفولیب کے حالیہ انکشافات میں بھی کیا گیا ہے۔

بعض مبصرین نے یہ تک کہہ دیا کہ عمران خان نے کشمیر پر سودے بازی کی ہے اور ان کا یہ بیان محض ایک لولی پاپ ہے۔

جموں وکشمیر میں گو کہ پاکستان اور یہاں کے میڈیا کی خبروں کو زیادہ تر بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے اور سوشل میڈیا کی سخت نگرانی کے باعث لوگ خود بھی پاکستان سے آنے والے خبروں کو دیکھنے یا رائے دینے سے گریز کرتے ہیں۔

عمران خان کے حالیہ اعلان پر اندرونی طور پر اتنی خوشی ضرور محسوس کی گئی کہ انہوں نے کوٹلی میں آ کر کشمیر کے حقوق پر کھل کر بات کی اور ان چند لوگوں کے منہ بند کر دیئے جو پاکستان کی مدد یا اخلاقی حمایت کو مخلصانہ نہیں سمجھتے ہیں۔

بعض آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ عمران خان نے آئین کا لحاظ کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں بات کی جو کہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد کشمیریوں کو یہ حق ہوگا کہ وہ بعد میں کون سا راستہ اختیار کریں گے۔ مگر ماہر آئین شق 257 کی تشریح کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں کہ الحاق کے بعد کشمیریوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ کیا وہ پاکستان کے ساتھ ضم ہو کر ایک اور صوبہ بننا چاہتے ہیں یا خصوصی حیثیت حاصل کر کے پاکستان کے زیر انتظام علاقے کی شکل میں بدستور رہنا چاہیں گے۔ ان کے خیال میں مکمل آزادی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور نہ اس کا تصور ہی پاکستانی آئین میں کہیں نظر آتا ہے۔

اگر اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں پر نظر ڈالیں گے تو درجن سے زائد قرار دادوں میں استصواب رائے کروانے کا حق دیا گیا تھا اور جس کے لیے پانچ رکنی ٹیم بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن اس وقت چونکہ بھارت پاکستان دو قومی نظریے کے تحت منقسم ہوگئے تھے اور دونوں جموں وکشمیر پر اپنا حق جتا رہے تھے یقینی طور پر مسلمان ریاست کی حثیت سے اسے پاکستان میں ضم ہونا تھا لیکن مہاراجہ ہری سنگھ نے اس کو آزاد ریاست بنانے کا ارادہ ظاہر کیا حالانکہ گلگت، بلتستان اور پونچھ میں مہاراجہ کے خلاف بغاوت پہلے ہی شروع ہوچکی تھی۔

پنڈت نہرو نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو کشمیر بھیج کر مہاراجہ کو  بھارت سے الحاق کرنے پر آمادہ کروایا، ساتھ ہی کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کو رہا کر کے الحاق کی حمایت میں سامنے لایا گیا تھا جو اس وقت کشمیریوں کی واحد آواز تھی۔

مورخ السٹر لیمب اپنی کتاب ’کشمیر دا ڈسپیوٹڈ لیگیسی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’برطانوی سامراج نے اپنے انڈیپینڈینس ایکٹ میں اس کو واضح کر دیا تھا کہ جہاں مسلم علاقے پاکستان کا حصہ بنیں گے اور ہندو علاقے بھارت میں شامل ہوں گے وہیں 563 ایسی ریاستوں کے بارے میں جو راجے مہاراجوں کی مملکتیں تھیں لکھا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے آزاد رہنے کی حق دار بھی ہوں گی۔

بھارتی رہنماؤں نے ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مل کر اس ایکٹ کی نفی کرتے ہوئے مہاراجہ ہری سنگھ کے آزاد رہنے کے فیصلے کو واپس لینے پر مجبور کردیا۔‘

 بھارت کی حکومت نے اب مہاراجہ کے الحاق کو بھی بلائے طاق رکھ کر نہ صرف جموں و کشمیر کو  بھارت میں ضم کیا بلکہ کشمیریوں کی خصوصی حثیت کو ختم کر کے خود اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالا ہے جو بھارت کے کہنے پر ہی اقوام متحدہ نے منظور کروائی تھیں۔

البتہ اب تک اقوام متحدہ نے اس پر ایک بیان بھی جاری نہیں کیا جس پر عالمی برادری کو متحرک کیا جاسکتا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے خود اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نے کشمیریوں کے حقوق کی بات کر کے کشمیریوں کے دل ضرور جیتے ہیں مگر ساتھ ہی اس بات کو بھول گئے کہ جموں و کشمیر کو حاصل کرنے کے بعد ہی وہ حق دیا جاسکتا ہے کہ کشمیری پاکستان کا صوبہ بنیں گے یا خصوصی ریاست کے طور پر الگ رہنا چاہیں گے۔

اچھا ہوتا پہلے بھارت کو 5 اگست 2019 والا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جاتا، 1947 کی پوزیشن پر جموں و کشمیر کو واپس لایا جاتا، پھر اقوام متحدہ کو استصواب رائے کرنے کے اپنے وعدے پر کاربند کیا جاتا اور لوگوں کو اپنا مستقبل متعین کرنے کا حق دیا جاتا اور پھر کشمیریوں سے پوچھا جاتا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ہیں یا ادغام کے۔

ظاہر ہے اس پر کام کرنے سے پہلے دانشوروں، پالیسی سازوں اور سیاسیات کے استادوں کی صلاحیت اور قابلیت کا استعمال کیا جاتا ہے جو ایک ویژن پیپر تیار کر کے وزیراعظم سمیت ملک کے اہم اداروں کو جائزے کے لیے دیتے ہیں تا کہ مسئلے کی اہمیت، حساسیت اور نزاکت کا ادراک ہو اور جس کے بعد عالمی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے میں اتنی دشواری نہیں ہوتی جتنی زبانی جمع خرچ اور جذباتی باتوں سے ہوتی ہے۔

وقت، مطالعہ اور اہمیت جاننے سے پہلے کنفیوثن پیدا کرنا کشمیر جیسے متنازع مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ہے جس کا بہرحال  بھارت فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.