technology-3940306_1280.jpg

مصنوعی ذہانت کے دور میں طالب علم اچھی تحریر کیسے لکھیں؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی طالب علموں نے پینسل، قلم اور کی بورڈ سنبھال لیا ہے۔ دفتروں میں کمپیوٹر سافٹ ویئر اتنی مہارت سے لکھنا سیکھ رہا ہے کہ ممکن ہے وہ چند سالوں میں انسانوں سے بھی بہتر لکھنے کے قابل ہو جائیں۔

بعض اوقات وہ پہلے سے ایسا کر رہے ہیں جس کی ایک مثال ’گریمرلی‘ (Grammarly) جیسی ایپسس ہیں۔ عین ممکن ہے معمول کی جو چیزیں آج انسان لکھ رہے ہیں وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بہت جلد مشینیں تحریر کرنے لگیں۔

موبائل فونز اور ای میل سافٹ ویئر پر پری ڈکٹو ٹیکسٹ (predictive text) کا چلن ہے جس کے تحت کسی لفظ کے ابتدائی ہجے لکھتے ہی پورا لفظ خود بخود سامنے آ جاتا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کی ایک عام مثال ہے جسے بے شمار انسان روزانہ استعمال کرتے ہیں۔

 انڈسڑی معاملات کے تحقیقاتی ادارے گارٹنر کے مطابق 2022 تک انٹرنیٹ پر موجود کل مواد میں 30 فیصد حصہ مصنوعی ذہانت کے خود کار طریقہ پیداوار کا ہو گا۔ کچھ نثر، شاعری، تنقیدی جائزے، اطلاع نامے، اداراتی مضامین، منشور اور سکرپٹس پہلے ہی مصنوعی ذہانت لکھ رہی ہے۔

اس کا مطلب ہے طلبہ کے لیے اب محض روایتی انداز تحریر سیکھنا کافی نہیں۔ اس کے بجائے انہیں فن تحریر میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہوں گی  جو مصنوعی ذہانت کے دائرے سے ماورا ہوں۔

روایتی طرز تحریر اپنانا یا اس سے بچ کر چلنا؟

2019 میں PISA کے نتائج ( پروگرام فار انٹرنیشنل سٹوڈنٹ ایسیسمنٹ) کے نتائج میں آسٹریلوی طلبہ کی شماریاتی اور خواندگی امتحان میں بری کارکردگی کے بعد وزیر تعلیم ڈین ٹیہن نے سکولوں کو روایتی طریقہ اپنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ لیکن کمپیوٹر پہلے ہی اس پر مہارت حاصل کر چکا ہے۔

این ایس ڈبلیو ٹیچرز فیڈریشن، دی این ایس ڈبلیو ایجوکیشن سٹینڈرڈ اتھارٹی اینڈ دی این ایس ڈبلیو، کیو ایل ڈی، وکٹورین اینڈ ایکٹ گورنمنٹس جیسے اہم اداروں نے NAPLAN (دا نیشنل ایسسمنٹ پروگرام لٹریسی اینڈ نمبریسی) کی خاطر سکولوں میں بچوں کو روایتی فن تحریر پر لگانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

بعض سکولوں میں طلبہ مضامین لکھتے ہوئے جملے کی ساخت، الفاظ کی نشست و برخاست، اقتباسات کی تعداد اور ترتیب ایک مخصوص لگے لپٹے انداز میں رکھتے ہیں۔ کمپیوٹر کے لیے ان پر مہارت حاصل کرنا بہت ہی معمولی بات ہے۔ ایسے طرز نگارش پر روبوٹ نہایت آسانی سے عبور حاصل کر سکتے ہیں۔

اے انسانو کیا تم ابھی سے خوف زدہ ہو؟

2019 میں دا نیو یارک میگزین نے تجرباتی طور پر جانچنے کی کوشش کی کہ کیا آئی ٹی کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کا خود کار زباں ساز سافٹ ویئر GPT-2 میگزین کے مخصوص انداز میں مکمل مضمون لکھ سکتا ہے۔ کئی غلطیاں کرتے ہوئے یہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا۔

لیکن 2020 میں پہلے سے زیادہ معلومات تک رسائی رکھنے والے مشین کے نئے ورژن GPT-3 نے گارڈین اخبار کے لیے ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’ایک روبوٹ نے یہ مکمل مضمون لکھا ہے۔ اے انسانو کیا تم ابھی سے خوف زدہ ہو؟‘

ایلون مسک کی مالی امداد سے تیار ہونے والے اوپن اے آئی تحقیق اور بہتر نتائج کے لیے اب پہلے سے کہیں زیادہ سرمایہ لگا رہے ہیں جس کی وجہ سے بہتر صلاحیت کی حامل تازہ ترین مشین صحافتی شعبے کے مستقبل پر دور رس مضمرات کی حامل ہو گی۔

روبوٹس کے پاس الفاظ ہیں لیکن روح نہیں

سکول کی سطح پر اساتذہ مجبور ہوتے ہیں کہ طلبہ کو تحریری امتحان میں کامیابی کے لیے محدود دائرے میں رہتے ہوئے لکھنا سکھائیں۔

لیکن انسانوں کی ’تکنیکی بے روزگاری‘ یا متروک ہونے کا امکان مد نظر رکھتے ہوئے اس کے بجائے فوراً ان چیزوں پر توجہ دینی چاہیے جو انسان کر سکتے ہیں لیکن مصنوعی ذہانت نہیں بالخصوص تخلیقی قوت اور انسانی جذبات کو بروئے کار لاتے ہوئے۔

مصنوعی ذہانت کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ الفاظ سجا سکتی ہے لیکن ان کے اندر روح نہیں بھر سکتی۔ جیسا کہ ’نیو یارکر‘ کے مضمون نگار جان سیبروک کہتے ہیں کہ انسان ’لگے لپٹے انداز سے منحرف ہوتے ہوئے تحریر میں رنگ، ذاتی شخصیت کی خوشبو اور جذبات شامل کر سکتا ہے۔‘ اس لیے طلبہ کو لکھنے کے اصول سکھانے چاہیے لیکن انہیں یہ حوصلہ بھی دینا چاہیے کہ وہ انہیں توڑ سکیں۔

تخلیق اور مشینی تخلیق دونوں رہنمائی طلب ہیں۔ مشینیں جدت پسندی، تخیل اور معنی خیز انداز کے بجائے محدود مواد کی مدد سے نتائج اور جواب اخذ کرنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔

بامقصد تحریر

مصنوعی ذہانت ابھی تک کسی منصوبے کو وضع کرنے اور اس کے مطابق لکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ طلبہ کو اپنی صلاحیتیں ایسے نکھارنی چاہیے کہ وہ کسی خاص ہدف کو مد نظر رکھتے ہوئے معنی کی ترسیل کر سکیں۔

بدقسمتی سے نیپلین ایسے طرز تحریر سکھانے کی راہ میں رکاوٹ ہے جس کا اہم حصہ منصوبہ بندی اور ایڈیٹنگ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مختصر نوعیت کے امتحانات میں اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کیونکہ وہاں سامع کوئی نہیں ہوتا۔

طلبہ کو ان موضوعات پر زیادہ مشق کرنی چاہیے جو ان کی دلچسپی کے ہوں، جن پر وہ زیادہ سوچتے ہوں اور توقع کرتے ہوں کہ یہ دنیا اور ان کے مخصوص قارئین میں بہتر تبدیلی کا باعث ہوں گے۔ مشین یہ کام نہیں کر سکتی۔

مصنوعی ذہانت انسانی ذہن کی پیچیدگی سے ابھی تک محروم ہے۔ انسان مزاح اور طنز کا تڑکا لگاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ الفاظ تہہ در تہہ کئی معانی اور جہات رکھتے ہیں۔ انسان بصیرت اور شعور سے مالا مال ہیں اس لیے وہ پہلے ہی فیصلہ کن انداز میں بتا سکتے ہیں کہ یہ تحریر اچھی ہے یا بری۔

مستقبل میں روبوٹ کی تحریر کو پرکھنے اور کانٹ چھانٹ کرنے کے لیے انسانوں کی اچھی خاصی مانگ برقرار رہے گی۔

روبوٹ اخلاق سے عاری

مصنوعی ذہانت کی کوئی اخلاقی سمت نہیں۔ اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں۔ اوپن اے آئی کے منتظمین بادی النظر میں GPT-3 کی نمائش سے اس لیے دستبردار ہو گئے کہ کیونکہ انہیں تشویش تھی کہ یہ مصنوعات کے جائزے یا انتخابات پر تبصروں جیسے مقاصد کے لیے غلط طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔

مصنوعی تحریر لکھنے والے بوٹس بالکل شعور نہیں رکھتے اور ممکن ہے انسانوں کو اس کی ویسے ہی بیخ کنی کرنا پڑے جیسے نسل پرست ٹوئٹر پروٹو ٹائپ کی کر چکے ہیں۔

روبوٹس کے تحریر کردہ مواد کا تنقیدی جائزہ، جذبات اور نزاکت احساس، متن کی ترتیب اور پرکھ، فیصلہ سازی اور قارئین سے ہم آہنگی پیدا کرنے جیسے تمام کام مستقبل کے جمہوری معاشرے میں تحریر کے اہم عناصر ہیں۔

مستقبل کے لیے صلاحیتیں

بہت عرصہ پہلے 2011 میں انسٹی ٹیوٹ فار فیوچر نے مستقبل میں کام کاج کے لیے چند بنیادی صلاحیتوں کو لازمی قرار دیا جن میں سماجی ذہانت (دوسروں سے براہ راست گہری ہم آہنگی پیدا کرنے کی قابلیت)، نئے مسائل میں نئے راستے نکالنا، بین ثقافتی سوجھ بوجھ، وسعت نظری، ورچوئل تعاون اور فوری فیصلہ سازی کی صلاحیت شامل ہیں۔

2017 میں فاؤنڈیشن فار ینگ آسڑیلین کی ایک رپورٹ کے مطابق طلبہ کے لیے مستقبل میں پیچیدہ مسائل حل کرنے کی صلاحیت، فیصلہ سازی، تخلیقی قوت اور سماجی ذہانت اہم ترین صلاحیتیں ہوں گی۔

یہ سب کچھ “subordinate clauses اور “nominalisation جیسی بے تکی گریمر اور quixotic اور acaulescent کے ہجے کرنے جیسی رٹے بازی یا فارمولے کے تحت لکھنے سے بالکل الٹ ہے۔ تحریر سکھانے اور امتحانات منعقد کرتے ہوئے حقیقی دنیا کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔


نوٹ: یہ تحریر دا کنورسیشن کے شکریے کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.