سینٹ الیکشن کا ڈراما اور کامیابی کا معیار

سینٹ الیکشن کا ڈراما اور کامیابی کا معیار

Spread the Story
  • 213
    Shares

[aبحیثیت قوم ہماری عادت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ یعنی جو چیز ہمارے ذاتی یا گروہی مفاد کی ہو وہ ہمیں فورا نظر آ جاتی ہے جبکہ جو چیز مفاد عامہ کی ہو اس پر ہماری آنکھیں بند رہتی ہیں۔

امریکہ کو دیکھیں جہاں کانگریس پر حملہ ہونے کے بعد دونوں سیاسی جماعتیں آنکھیں کھول کر مسئلے کا حل تلاش کر رہی ہیں اور اگر ریپبلکن پارٹی نے اپنی ایک آنکھ بند رکھی تو مستقبل میں امریکہ کی جمہوریت پر اس طرح کے حملے مزید شدت سے ہوں گے۔

لیکن صرف یہی ایک مثال نہیں ہے۔ جرمنی میں جب عدم برداشت بڑھی تو انہوں نے بھی اس پر دونوں آنکھیں کھول کر حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ انگیلا میرکل کو ذاتی نقصان ہوا اور عوام میں ان کی پزیرائی کم ہوئی مگر انہوں نے صحیح فیصلہ کرنے پر زور دیا۔

صرف جمہوری ہی نہیں وہ ملک جنہیں اپنے مستقبل کی فکر ہے دونوں آنکھیں کھلی رکھتے ہیں۔ چین کو دیکھیں ہانگ کانگ میں جب ہنگامے ہوئے تو انہوں نے دانش مندی کا مظاہرہ کیا اور زور بازو سے اسے کچلنے کی بجائے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کیا۔

ہم ایک آنکھ سے کام لیتے ہوئے بلوچستان پر تین مرتبہ عسکری چڑھائی کر چکے ہیں جس سے مسئلہ حل ہونے کی بجائے گھمبیر ہو چکا ہے۔

اب آج کل کے سینٹ الیکشن کے ڈرامے کو لے لیں۔ ساری پارٹیاں ایک آنکھ سے اس مسئلہ کو دیکھ رہی ہیں۔ لیکن اس طرز عمل کو عمران خان نے نئی بلندی عطا کی ہے۔ انہیں تمام کرپشن دوسری پارٹیوں میں نظر آتی ہے۔ ان کی اپنی پارٹی کے ہی لوگ ووٹ اور ٹکٹ خرید اور بیچ رہے ہیں مگر انہیں غصہ دوسری پارٹیوں پر ہے۔

2015 میں جب انہوں نے اپنے 20 صوبائی اسمبلی کے ارکان کو نکالا تو پلڈاٹ اور فافن اس پر بھنگڑے ڈال رہے تھے کے کمال ہوگیا اور جمہوریت لوہے کی طرح مضبوط ہو گئی ہے۔ اس وقت چاہیے تو یہ تھا کہ ووٹ بیچنے والوں کو سزا دی جاتی۔ ٹکٹ بیچنے والوں اور ووٹ خریدنے والوں کو بھی سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے تھی مگر ووٹ اور ٹکٹ خریدنے والے اس ملک کے امیر ترین لوگ ہیں اور ان لوگوں کو یہ نظام کوئی سزا نہیں دے سکتا۔

یہ تو بندہ مار دیتے ہیں تو بچ جاتے ہیں سینٹ کا میلہ مویشیاں تو معمولی بات ہے۔

اب عمران خان شکوہ کر رہے ہیں کہ کرپٹ پارٹیاں ان کی نیت پر شک کر رہی ہیں اور سینٹ کے الیکشن کو شفاف نہیں بنانا چاہتیں۔ اگر کھلا ووٹ ہی ڈلوانا ہے تو الیکشن کروانے کا تکلف کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہر پارٹی کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گنتی کر لیں اور آپس میں تمام اس بنیاد پر بانٹ لیں۔ جہاں اس پر فیصلہ نہ ہو سکتا ہو وہاں ٹاس کر لیں ویسے بھی ہم ہر وقت ملک کی تقدیر پر سٹہ کھیلتے ہیں۔ سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور عوام سب کا وقت بچائیں۔ یہ ملک تو بنا ہی اشرافیہ کے لیے ہے۔ اگر یہ آپس میں لڑنا چھوڑ دیں تو قوم ان کی شکر گزار ہوگی۔

میرے اکثر دوست مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ میں ایک ناکام سیاست دان ہوں۔ نہ کوئی اچھا تگڑا عہدہ لے سکا اور نہ ہی نظام میں اصلاحات کروا سکا۔ میرے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ مگر سوال یہ ہے کے کیا نواز شریف بہت کامیاب سیاست دان ہیں۔ تین مرتبہ عہدہ ملا مگر اب عدالت سے سزا یافتہ ہیں۔ اپنی عزیز بیوی اور ماں کے جنازوں میں شرکت نہ کرسکے اور جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

کیا زرداری صاحب بہت کامیاب سیاست دان ہیں؟ پورا ملک انہیں کرپٹ کہتا ہے اور دنیا میں مسٹر ٹین پرسنٹ مشہور ہوئے۔ طبیعت اتنی خراب ہے کہ اچھی طرح کھا بھی نہیں سکتے نہ سو سکتے ہیں۔

کیا عمران خان بہت کامیاب ہیں۔ سارا ملک انہیں نالائق، نااہل، سلیکٹڈ اور مسٹر یوٹرن کے القابات سے نواز رہا ہے۔ جتنے کارٹون ان کے بنے ہیں شاید ہی کسی سیاست دان کے بنے ہوں۔ تھوڑا انتظار کریں ان پر کرپشن کے بھی ایسے ایسے الزامات لگیں گے کہ نئی تاریخ بنے گی۔

کیا جنرل مشرف کامیاب آدمی ہیں۔ اس وقت جلاوطنی گزرا رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ عدالت نے حکم دیا آئین شکنی پر انہیں سرعام پھانسی دی جائے۔ یہ بھی اپنی والدہ کے جنازے کو کندھا نہ دے سکے۔  کیا جنرل قمر باجوہ بہت کامیاب ہیں۔ ہر روز انہیں انجینرنگ اور غلط سلیکشن کے طعنے ملتے ہیں۔ کیا جنرل عاصم باجوہ بہت کامیاب ہیں اس لیے کہ انہیں زندگی میں کئی اہم عہدہ ملے؟ مگر آج پاپا جونز پیزا ان کی پہچان ہے۔

ہمیں کامیابی کے معیار کو بدلنا پڑے گا۔ بڑے عہدے کامیابی نہیں ہیں بلکہ ان عہدوں کو کس طرح حاصل کیا اور ان سے کیا کام لیا یہ زیادہ اہم ہے۔ کامیابی فرد کی نہیں بلکہ قوم کی ہونی چاہیے مگر قوم بھی جب کامیاب ہوتی ہے جب فرد کامیاب ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

کیا پاکستان کو ایک کامیاب قوم کہا جا سکتا ہے؟ اگر قوم ناکام ہے تو یہ جو سارے اپنے آپ کو کامیاب سمجھتے ہیں یہ کس طرح ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ جب قوم کامیاب ہوتی ہے تو انفرادی کامیابی بھی اہمیت رکھتی ہے۔

نواز شریف تین دفعہ وزیر اعظم بن کر بھی ناکام ہیں جبکہ صدر ابامہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کامیاب ہیں۔ عزت سے صدارت کی، کوئی کرپشن کا الزام نہ لگا اور اب ایک مشہور مصنف ہیں جن کی کتابیں لاکھ کی تعداد میں بکتی ہیں۔ جہاں جاتے ہیں عزت ملتی ہے۔ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں اور کہیں آنے جانے پر پابندی نہیں ہے۔

انفرادی کامیابی کی کوئی حیثیت نہیں ہے قوم کامیاب ہوگی تو سب کامیاب ہوں گے۔ کیا آپ کے خیال سے بڑا عہدہ لینے کا راستہ مجھے معلوم نہیں ہے۔ مگر جب میاں نواز شریف، عمران خان، زرداری، جرنل مشرف کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں عہدہ نہ ہی ملے تو اچھا ہے۔

اس بات کو سمجھیں یہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے اس میں سب کے لیے ناکامی ہی ناکامی ہے۔ اس نظام کو ہم سب کو مل کر بدلنا ہوگا تاکہ نہ صرف قوم کامیاب ہو بلکہ اس کے شہری بھی زیادہ سے زیادہ کامیاب ہوں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.