سینیٹ انتخابات: مسئلہ کیا ہے، حل کیا ہے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

خفیہ ووٹنگ یا شو آف ہینڈز کی بحث مکمل طور پر نان ایشو ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اراکین پارلیمان کی حیثیت اور افادیت کیا ہے؟ کیا ان کا مقام محض ایک پارلیمانی مزارع کا ہے کہ قیادت نے جو حکم دے دیا انہوں نے اس کی تعمیل کرنی ہے یا بطور رکن پارلیمان کچھ معاملات میں وہ اپنی شعوری رائے کے مطابق بھی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں؟

اس سوال کا پہلا جواب نواز شریف صاحب نے 14 ویں ترمیم کی صورت میں دیا اور زبان حال سے اعلان فرما دیا کہ معزز اراکین کی حیثیت پارلیمانی مزارع سے زیادہ نہیں ہے اور بطور رکن پارلیمان انہیں کسی بھی معاملے میں اپنے فہم و شعور کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کی صورت ڈیفیکشن کا ایک ایسا آمرانہ اصول وضع کیا گیا جو پارلیمان کی توہین سے کم نہ تھا۔

اس قانون کے مطابق کسی بھی معاملے میں اراکین پارلیمان پارٹی ہدایات سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے تھے، اور اگر کوئی رکن ایسا کرتا تو پارٹی کا سربراہ اس کے خلاف سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو ریفرنس بھیجتا۔ سپیکر اور چیئرمین پابند تھے کہ دو دنوں میں معاملہ الیکشن کمیشن کو بھجواتے اور الیکشن کمیشن سات دنوں میں متعلقہ رکن کو نااہل قرار دینے کا پابند تھا۔

سپیکر، چیئرمین سینیٹ اور چیف الیکشن کمشنر کے پاس پارٹی سربراہ کے حکم سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ پارٹی سربراہ کی ایسی آئینی آمریت قائم کر دی گئی کہ وہی شکایت کنندہ، وہی مدعی، وہی منصف۔ پھر بھی اگر کوئی کسر باقی رہ گئی تھی تو ذیلی دفعہ چھ میں یہ لکھ کر پوری کر دی گئی کہ کسی عدالت، حتی کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کو بھی ایسے معاملے کی سماعت کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ ایسے کسی معاملے میں کوئی حکم جاری کر سکیں گی۔

اس سوال کا دوسرا جواب پرویز مشرف صاحب کے دور میں 17ویں ترمیم کے ذریعے دیا گیا۔ پارٹی ڈسپلن اور فرد کی آزادی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ اراکین پارلیمنٹ صرف تحریک اعتماد، تحریک عدم اعتماد یا قائد ایوان کے انتخاب کے موقعے پر پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ نہیں دے سکتے اور نہ ہی ان مواقع پر پارٹی ہدایات کے برعکس غیر حاضر رہ سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں ان پر ڈیفیکشن کلاز لگے گی اور وہ نااہل ہو جائیں گے۔

لیکن اگر وہ اپنی پارٹی سے مستعفی نہیں ہوتے یا کسی دوسری جماعت میں شامل نہیں ہوتے بلکہ اپنی پارٹی کا حصہ رہتے ہیں تو محض اس وجہ سے ان پر ڈیفیکشن کلاز نہیں لگ سکتی کہ انہوں نے مندرجہ بالا صورتوں کے علاوہ کسی مرحلے پر پارٹی ہدایات کے برعکس ووٹ دیا ہو۔

گویا اب انہیں اس بات کی اجازت تھی کہ سینیٹ کے انتخاب میں وہ پارٹی امیدوار کی بجائے کسی اور کو ووٹ دے سکتے ہیں۔ سیاسی اخلاقیات اور پارلیمانی روایات میں بھلے یہ عجیب سا لگے لیکن آئینی صورت حال یہی تھی۔ سترہویں ترمیم میں آئین میں ایک تبدیلی یہ بھی کی گئی کہ ڈیفیکشن کے تحت کسی رکن کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا اختیار پارٹی سربراہ سے لے کر متعلقہ ایوان میں پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کو دے دیا گیا۔

اس کے بعد اٹھارویں ترمیم آئی جو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مشترکہ فکری کاوش تھی۔ اس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ نواز شریف والے فارمولے کی بجائے پرویز مشرف والا فارمولا بہتر ہے اور سینیٹ انتخابات میں پارٹی امیدوار کو ووٹ نہ دینے کی صورت میں ڈیفیکشن اور نا اہلی نہیں ہو گی۔ اس ترمیم کے ذریعے آرٹیکل تریسٹھ اے میں صرف ایک تبدیلی کی گئی کہ ریفرنس بھیجنے کا اختیار پارلیمانی پارٹی کے سربراہ سے لے کر ایک بار پھر واپس پارٹی سربراہ کو دے دیا گیا۔ یعنی اختیارات کی اتنی سی منتقلی بھی گوارا نہیں تھی۔

اس وقت آئین کی رو سے ایسی کوئی پابندی نہیں کہ اراکین پارلیمان اپنی ہی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن عملا صورت حال اس کے برعکس ہے۔ خفیہ ووٹنگ اور شو آف ہینڈ کی تازہ بحث اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ جو گنجائش آئین میں موجود ہے وہ گنجائش گوارا نہیں۔

یہاں پر قانون کے ساتھ سماجی اور سیاسی پہلو بھی اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ ووٹوں کی یہ خرید و فروخت کیا صرف سینیٹ میں ہوتی ہے یا قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخاب میں بھی ووٹ خریدے جاتے ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ جو حساسیت سینیٹ میں دکھائی جا رہی ہے وہی حساسیت عام انتخابات میں نہیں دکھائی جاتی؟

اگر عام انتخابات میں دولت، طاقت اور الیکٹیبل ہونے کی بنیاد پر معاملہ کیا جاتا ہے تو سینیٹ میں دولت کے فیکٹر کو یکسر نظر انداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟ نیز یہ کہ سینیٹ کی ووٹنگ میں دولت کی نفی کرنے پر بضد قیادت سینیٹ کا ٹکٹ جاری کرتے وقت خود اس دولت والے پہلو کو نظر انداز کر پاتی ہے یا کچھ ٹکٹ تجوری کا سائز دیکھ کر دیے جاتے ہیں؟

تقویٰ کا جو معیار سینیٹ میں ووٹروں کے لیے طے کرنے کی خواہش ہے، کیا ایسا ہی کوئی معیار ٹکٹ جاری کرنے والی قیادت کے لیے بھی ہے؟ پیسہ لے کر سینیٹ کا ووٹ دینا گوارا نہیں تو پیسہ دے کر قومی اسمبلی کا ووٹ لینا کیوں گوارا ہے؟ پیسے کی نفی کرنا مقصود ہو ترقیاتی فنڈز کا دستر خوان موقع دیکھ کر کیوں پھیلایا جاتا ہے؟

اصلاح احوال کی متبادل صورتیں تین ہیں:

 اگر آئینی گنجائش کے باجود، اسی پر اصرار ہے کہ اراکین پارلیمان اپنی جماعت کی ہدایت کے مطابق ہی ووٹ دیں گے تو پھر سوال یہ ہے کہ اس ’پارلیمانی مزارعت‘ میں الیکشن کے تردد کی ضرورت ہی کیا ہے؟ خواتین کی مخصوص نشستوں کی طرح یہاں بھی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر طے کر لیا جائے کہ کس جماعت کے حصے میں سینیٹ کی کتنی نشستیں آئیں گی؟

سینیٹ کا الیکٹورل کالج بدل دیا جائے اور اراکین سینیٹ کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ سے ہو۔

بائی کیمرل (یعنی دو ایوانوں) کی بجائے یونی کیمرل پارلیمان بنا دی جائے اور سینیٹ اور قومی اسمبلی کو موجودہ افرادی قوت کے فارمولے کے ساتھ ضم کر دیا جائے اور سب کا انتخاب ایک ساتھ براہ راست عوام کے ووٹ سے ہو۔

ایک چوتھی صورت بھی موجود ہے جو جناب شیخ رشید کی بلندی فکر کا اعجاز ہے۔ سرکاری ملازمین پر آنسو گیس استعمال کرنے کی انہوں نے یہ شان نزول بیان فرمائی ہے کہ آنسو گیس کے یہ شیل عرصے سے یوں ہی پڑے تھے ہم نے سوچا انہیں ملازمین پر ٹیسٹ کر لیا جائے۔ اب ظاہر ہے اسلحہ خانے میں آنسو گیس ہی نہیں اور بھی بہت کچھ پڑا ہو گا جسے ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہو گی۔

جناب شیخ کے اس فارمولے کے تحت عام ملازمین پر آنسو گیس ٹیسٹ کی گئی، یعنی معمولی اوقات والے طبقے پر معمولی سا اسلحہ۔ حفظ مراتب کے اس اصول کے تحت چونکہ پارلیمان سب سے بڑاایوان ہے تو اسلحہ خانے کا سب سے بڑا اسلحہ وہاں ٹیسٹ کر لیا جائے۔ شایدمکمل صفائی ہو جائے اور افاقہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.