لوکا اتاناسیو: ’متاثر کن مسکراہٹ‘ کے حامل اطالوی سفیر کانگو میں قتل

Spread the Story
  • 213
    Shares

جمہوریہ کانگو میں پیر کے روز ایک حملے میں ہلاک ہونے والے اطالوی سفارت کار لوکا اتاناسیو افریقی امور میں گہری دلچسپی رکھنے والے اپنے ملک کے سب سے کم عمر سفیر تھے۔

43 سالہ لوکا اتاناسیو کو گرم جوشی اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے اور ان کی موت سے سیاست دان اور ان کے ساتھی شدید صدمے سے دوچار ہیں۔

اٹلی کی وزارت خارجہ کے مطابق 23 مئی 1977 کو میلان کے شمال مغرب میں واقع شمالی سارونو میں پیدا ہونے والے اتاناسیو 2003 میں سفارت کاری کے میدان میں داخل ہوئے۔

وہ 2017 سے جمہوریہ کانگو میں اٹلی کی نمائندگی کر رہے تھے، جہاں پہلے وہ مشن کے سربراہ تھے اور پھر اکتوبر 2019 میں وہ سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگے۔

2018 سے لے کر گذشتہ ماہ تک اٹلی کی نائب وزیر خارجہ رہنے والی ایمانوئل ڈیل ری نے انہیں ’غیر معمولی ہمت، انسانیت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ایک ہنر مند آدمی‘ کی حیثیت سے سراہا ہے۔

ڈیل ری نے کہا کہ انہوں نے کانگو سے تعلق رکھنے والی ایک ’بہت بیمار‘ راہبہ کی ہنگامی وطن واپسی کے معاملے پر اتاناسیو کے ساتھ کام کیا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے ان کی متاثر کن مسکراہٹ، ان کی کلاس اور افریقی امور کے بارے میں ان کا زبردست علم یاد ہے۔ الوداع میرے پیارے محترم لوکا۔‘

شمالی مشرقی صوبے کیوو میں لوکا اتاناسیو کی موت پیر کو اقوام متحدہ کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں ہوئی۔ اس واقعے میں ایک اطالوی پولیس اہلکار اور اقوام متحدہ سے منسلک ایک ڈرائیور بھی ہلاک ہوا۔

اٹلی کے وزیر خارجہ لوگی دی مائیو نے کہا: ’اٹلی کے لیے یہ ایک تاریک اور افسوسناک دن ہے۔‘ دوسری جانب صدر سرگیو میٹاریلا اور وزیراعظم ماریو ڈریگی نے بھی اظہار تعزیت کیا۔

میلان کی ممتاز بوکونی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے لوکا اتاناسیو نے بین الاقوامی سیاست میں بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی جبکہ انہوں نے بزنس کنسلٹنٹ کی حیثیت سے بھی مختصر کام کیا تھا۔

بیرون ملک پہلے مشن کے طور پر وہ 2006 سے 2010 تک سوئٹزرلینڈ میں اٹلی کے سفارت خانے میں بطور ٹریڈ سکریٹری تعینات رہے جبکہ 2010 سے 2013 تک مراکش کے شہر کاسا بلانکا میں انہوں نے قونصل کے طور پر خدمات انجام دیں۔

2013 سے 2015 تک انہوں نے روم میں وزارت خارجہ میں کام کیا، جہاں وہ عالمگیریت اور عالمی امور کے شعبے کے چیف سکریٹری رہے۔

وہ نائیجیریا میں اطالوی سفارت خانے میں پہلے کونسلر کی حیثیت سے 2015 میں افریقہ واپس آئے اور ستمبر 2017 میں کنشاسا (کانگو) چلے گئے۔

اکتوبر میں لوکا اتاناسیو کو انسانی حقوق سے متعلق کام کرنےکے اعتراف میں اطالوی ایوارڈ برائے امن ’انٹرنیشنل نسیریہ پرائز‘  دیا گیا۔

ان کی تین بیٹیاں ہیں جبکہ کاسابلانکا سے تعلق رکھنے والی ان کی اہلیہ ذکیہ صدیقی، فیس بک پر اپنے آپ کو ایک چیریٹی تنظیم ’ماماسوفیا‘ کی بانی اور صدر کے طور پر بیان کرتی ہیں۔



اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.