پتوکی ریڈ لائٹ ایریا سے تین نابالغ بچیوں کی بازیابی پولیس کے لیے معمہ

سنہرا ایوبی دور؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

ایک منظم پروپیگینڈا مہم کے تحت جمہوریت کو بدنام اور رسوا کرنے کے لیے پاکستان میں آمروں کے ادوار کو ہمیشہ سنہری عہد کے طور پر پیش کیا گیا جس میں پاکستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھی۔ اس پروپیگینڈا کے تحت یہ فراوانی اور معاشی ترقی سیاست دانوں کے اقتدار میں آنے کے بعد تمام ہوئیں۔

ان تمام آمری فضائل کا ذکر کرتے ہوئے کرائے کے تاریخ دان ان حقیقتوں سے عوام کی چشم پوشی کراتے رہے کہ انہی آمروں کے دور میں امیروں اور غریبوں کی درمیان تفاوت میں بےتحاشہ اضافہ ہوا، ہمارے دریا اونے پونے داموں بیچ دیئے گئے، ملک دولخت ہوا، امریکی اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی اختیار کی گئی، معیشت کو قرضوں پر چلانے کی روایت شروع کی گئی، وطن عزیز میں کلاشنکوف اور ہیروئن کے کلچر کا فروغ ہوا، سیاچن گلیشیر ہم سے چھن گیا، پاکستان کی کئی دفاعی تنصیبات غیر ممالک کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، دہشت گردی کو فروغ ملا، کشمیر کے مسئلے پر مبہم پالیسی اختیار کی گئی اور ایسے منصوبے تیار کیے گئے جن سے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا گیا۔

غرض یہ آمریت کے سیاہ ادور پاکستان کے لیے سیاسی، معاشی اور سماجی ناکامیوں کے سال تھے لیکن اس کی گمراہ کن تشہیر کرتے ہوئے انہیں ہماری تاریخ کے روشن ترین عہد کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ ان کے اختتام پر پاکستان سیاسی طور پر تقسیم، معاشی و ذہنی غربت کا شکار اور ایک کمزور دفاعی قوت تھا۔

ہماری جمہوریت پر سب سے پہلا شب خون مارنے والے آمر ایوب خان تھے۔ انہوں نے اقتدار پر ناجائز قبضہ کرنے کے لیے سازشیں 1953 سے ہی شروع کر دی تھیں۔ اس پہلی فوجی بغاوت نے بعد میں آنے والے آمروں جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کو آئینی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی شہ اور ہمت دی۔

ایوبی آمریت کے پرستار ان کے عہد کو ترقی کا دور کہتے رہے جس میں پاکستان میں نمایاں معاشی ترقی ہوئی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ نئی نئی صنعتیں لگائی گئیں اور ملکی زراعت میں سبز انقلاب برپا ہوا۔ ملک دفاعی طور پر مضبوط ہوا جس کی وجہ سے 1965 کی جنگ جیتی گئی۔ لیکن ان خوش کن دعوؤں کی حقیقت قدرے مختلف ہے۔

یقینا 50 کے مقابلے میں 60 کی دہائی میں معاشی ترقی ہوئی مگر اس طرح کی ترقی ایک آمر کی حکومت کے بغیر بھی ہوسکتی تھی۔ یہ ترقی ایک بہت بڑی امریکی معاشی امداد کی وجہ سے ممکن ہوئی جب ہم نے سرد جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کا خمیازہ ہمیں اپنی ملکی حاکمیت کا سودا کرنے کی صورت میں دینا پڑا۔ یہ معاشی ترقی صرف ایک مخصوص گروہ کے لیے سود مند رہی اور اس ترقی کا فائدہ نہ عام عوام تک پہنچا اور نہ ہی اس کے ذریعے پاکستانی حکومت کے محصولات میں اضافہ ہوا۔

اس معاشی ترقی کا فائدہ کچھ خاندانوں کو ہوا اور نام نہاد معاشی ترقی سے پیدا شدہ دولت صرف 22 خاندانوں تک محدود رہی۔ یہ خاندان ایوب خان کے قریب تھے اور اس میں بعد میں ان کا اپنا بیٹا گندھارا انڈسٹریز بنانے کے بعد شامل ہوگیا تھا۔

ایوبی معاشی پالیسیوں سے دولت کا ارتکاز کچھ ہاتھوں میں ہوا جو اب تک جاری ہے۔ ان 22 خاندانوں کے پاس پاکستان کی 66 فیصد صنعتیں تھیں، یہی خاندان 80 فیصد بینکوں کے مالک تھے اور 97 فیصد بیمہ کا کاروبار بھی ان ہی کے ہاتھوں میں تھا۔

ان 22 خاندانوں پر اپنا سرمایہ باہر منتقل کرنے پر کسی قسم کی پابندی نہیں تھی جس کی وجہ سے ان خاندانوں نے اپنے منافع کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی بجائے اسے بیرون ملک محفوظ کرنا بہتر سمجھا۔ اس چھوٹے سے گروہ کے مفادات کی وجہ سے کچھ ایسی صنعتیں قائم کی گئیں جن میں مقابلے کی صلاحیت نہیں تھی اور وہ حکومت کی مدد کے بغیر مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔ اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں ایک پر اعتماد کاروباری ذہن فروغ نہیں پا سکا اور آج تک زیادہ تر صنعتیں حکومتی سبسڈی اور مدد کے بغیر نہیں چل پاتیں۔

سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایوب خان کے دور میں معیشت بہت اچھے نتائج دکھا رہی تھی تو ٹیکسوں کی وصولی میں اتنی کمی کیوں تھی۔ ایک تحقیق کے مطابق ہمارے ٹیکسوں کی وصولی ہماری مجموعی اندرونی پیداوار سے دس فیصد سے بھی کم تھی۔ اس کے علاوہ یہ معاشی ترقی کچھ حصوں تک محدود رہی جس کی وجہ سے علاقائی ناہمواری اور ملک کے دو بازوؤں میں سیاسی اختلافات میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان کے دولخت ہونے کا عمل ایوبی دور سے شروع ہوا۔ اس دور میں مشرقی پاکستان کی معاشی ترقی کو جان بوجھ کر مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ سارے بڑے صنعتی منصوبے مغربی پاکستان میں لگائے گئے۔

اسی طرح سیاسی فیصلہ سازی اور قوت بھی مغربی پاکستان میں مرکوز کر دی گئی اور مشرقی پاکستان کو بڑے سیاسی اور معاشی فیصلوں سے مکمل طور پر علیحدہ کر دیا گیا۔ ستم در ستم مشرقی پاکستان کی مصنوعات کے مغربی پاکستان آنے پر ٹیکس لگایا جاتا تھا لیکن مغربی پاکستان کی مصنوعات اس ٹیکس سے مبرا تھیں۔

ایوبی پالیسیوں سے ایسا صاف نظر آرہا تھا کہ وہ مشرقی پاکستان کو پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ اس کا اظہار ہمارے سابق چیف جسٹس محمد منیر کی کتاب  ’جناح سے ضیا تک‘ میں نظر آتا ہے۔ جسٹس منیر، ایوب خان  کی حکومت میں وزیر قانون تھے اور وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ انہیں ایوب خان، جو کہ مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کے ممبروں کی مغربی پاکستان کے بارے میں تنقیدی تقریروں سے جن میں مشرقی پاکستان کے معاشی استحصال اور سوتیلی ماں جیسا سلوک کی بات ہوتی تھی، تنگ آچکے تھے انہیں کہا کہ وہ مشرقی پاکستان کے رہنماؤں سے معلوم کریں کہ وہ اپنے معاملات اپنے ہاتھوں میں کیوں نہیں لے لیتے۔

جسٹس منیر نے جب ایک مشرقی پاکستانی رہنما سے اس کے بارے میں بات کی تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا آپ علیحدگی کی بات کر رہے ہیں اور اگر ایسا ہے تو ہم مشرقی پاکستانی اکثریت میں ہیں اور ’ہم پاکستان ہیں‘ اور بطور اقلیتی صوبہ اگر علیحدہ ہونا ہے تو اس کا فیصلہ آپ کو یعنی مغربی پاکستان کو کرنا ہو گا۔ اس طرح  کے ذہن اور مشرقی پاکستان سے تقریبا نفرت جیسے رویے سے ایوبی دور میں پاکستان کے دولخت ہونے کے عمل کی ابتدا ہوئی۔

ایوبی دور کا ایک اور کارنامہ پانی کی تقسیم کا بھارت کے ساتھ ناقص معاہدہ سندھ طاس کرنا تھا جس کے تحت پنجاب کے تین اہم دریاؤں کا پانی بھارت کو دے دیا گیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے یہ دریا تقریبا خشک ہوگئے اور لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین بنجر ہو کر صحرا میں تبدیل ہوگئی۔

ایوبی دور میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کی حاکمیت کو ہوا جب ہم امریکہ کے مکمل زیردست ملک بن گئے۔ امریکی افواج کی رہائش کے لیے اور سوویت یونین کے خلاف امریکی جاسوسی طیاروں کی پروازوں کے لیے پشاور کے قریب ایک پورا فضائی اڈہ تیار کر کے امریکیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ اس قدم نے پاکستان کی سلامتی کو اس وقت شدید خطرے میں ڈال دیا جب سوویت رہنما خروسشیف نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے عالمی نقشے پر پشاور کے ارد گرد سرخ دائرہ لگا دیا تھا۔

انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے دوران اور اس کے بعد عوام کو یقین دلایا گیا کہ اس لڑائی میں بھارت کو شکست فاش ہوئی لیکن متنازعہ تاشقند معاہدے کے بعد بظاہر ہماری فتح کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں رہی۔

غرض ایوبی دور نام نہاد معاشی ترقی کے باوجود ملک کی سلامتی کے لیے ایک سیاہ دور ثابت ہوا جس میں ملک کی تقسیم کی بنیاد پڑی اور ایک آمر کے ذاتی مفادات کے دفاع کے لیے ہماری امریکی اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی کی ابتدا ہوئی۔

اس لیے ملکی سالمیت اور حمیت کے لیے اس سیاہ عہد حکومت کو کسی طرح بھی سنہری دور نہیں کہا جا سکتا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.