ایک ماہ کی تاخیر کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

ایک ماہ کی تاخیر کے بعد افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات دوبارہ شروع

Spread the Story
  • 213
    Shares

افغانستان میں تشدد میں اضافہ ہو چکا ہے جب کہ مسئلے کے دونوں فریق افغان حکومت اور طالبان ایک ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بعد مذاکرات کی میز پر واپس آ گئے ہیں۔ اس پیشرفت سے امید پیدا ہو گئی ہے کہ فریقین تشدد میں کمی اور آخرکار مکمل جنگ بندی پر متفق ہو جائیں گے۔

طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے پیر کی رات اپنی ٹویٹ میں بتایا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی بات چیت کے بارے میں زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں تاہم یہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں اور اس عزم کے ساتھ ہو رہے ہیں کہ بات چیت جاری رہنی چاہیے۔

یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے بات چیت کا ایجنڈا طے کیا جائے گا۔ اس سے پہلے مذاکرات شروع ہونے کے چند دن بعد جنوری میں اچانک ختم ہو گئے تھے۔ اس موقعے پر دونوں جانب سے اپنا اپنا ایجنڈا پیش کیا گیا تھا۔ اب دونوں فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایجنڈے میں شامل اپنے نکات پر نظرثانی کریں اور ان معاملات پر اتفاق کریں جن پر بات چیت ہونی ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے کیا جائے گا کہ پہلے کون سا معاملہ نمٹایا جائے گا۔

افغان حکومت، امریکہ اور نیٹو تینوں کی ترجیح تشدد میں سنجیدگی کے ساتھ کمی لانا ہے تاکہ جنگ بندی ہو سکے۔ طالبان کا مؤقف ہے کہ اس معاملے پر بات چیت کی جا سکتی ہے تاہم وہ اب تک کسی بھی فوری جنگ بندی کی مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

امریکہ فروری 2020 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ ہونے والے اس امن معاہدے پر نظرثانی میں مصروف ہے جس کے تحت امریکی کو یکم مئی تک افغانستان سے فوج کو نکالنا ہے۔

طالبان افغانستان میں امریکی فوج کے قیام کی مدت میں مختصر توسیع کے بھی مخالف ہیں لیکن واشنگٹن میں اس بات پر اتفاق رائے میں اضافہ ہو رہا ہے کہ فوج کے انخلا کی ڈیڈلائن میں توسیع کر دی جائے۔

یہ تجویز بھی ہے کہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کام کرنے والی مختصر فورس کو افغانستان میں رکھا جائے جو اپنی توجہ صرف انسداد دہشت گردی اور اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے والی تنظیم داعش پر مرکوز کرے جس نے مشرقی افغانستان کو ہیڈکوارٹر بنا رکھا ہے۔

امریکہ اور نیٹو دونوں نے ابھی افغانستان میں موجود تقریباً دس ہزار غیرملکی فوجیوں کے مستقبل کے بارے میں اعلان کرنا ہے۔ اس فورس میں امریکہ کے 2500 فوجی بھی شامل ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے طول پکڑ جانے والی افغان جنگ کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ انتظامیہ نے زلمے خلیل زاد کا کردار برقرار رکھا ہے جنہوں نے امریکہ اور افغانستان کے درمیان معاہدے کروانے کے لیے بات چیت میں حصہ لیا۔ آگے کیا کرنا ہے اس حوالے سے بائیڈن انتظامیہ نے ابھی تک کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

دوحہ میں مذاکرات کے دوبارہ آغاز سے پہلے تیزی سے سفارتی سرگرمیاں جاری رہی ہیں جن میں افغان حکام کے تسلسل کے ساتھ ہونے والے پاکستان کے دورے اور پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کردار شامل ہے۔

طالبان کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے اور ان عسکریت پسندوں پر افغانستان میں جاری تشدد میں کمی لانے کے لیے دباؤ ڈالنے کے حوالے پاکستان کے کردار کو اہمیت دی جا رہی ہے جن کا ہیڈکوارٹر پاکستان میں ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کنیتھ مکیزی گذشتہ ہفتے ہی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ اسی طرح روسی صدر ولادیمیر پوتن کے افغانستان کے لیے نمائندے ضمیر کابلوف اور قطر کی وزارت خارجہ کے خصوصی نمائندے کے مطلق بن الماجد القہطانی بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔

توقع ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کے خصوصی نمائندے عمرداؤد زئی بدھ کو اسلام آباد پہنچیں گے۔

غیرملکی نمائندوں کی پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی تفصیل تو حاصل نہیں ہو سکیں تاہم ان میں افغانستان کا معاملہ سرفہرست رہا۔ بات چیت سے آگاہ حکام نے کہا ہے کہ افغانستان میں تشدد میں کمی اور بالآخر جنگ بندی بات چیت کا مرکزی نکتہ رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.