ایل او سی سے آگے— کشمیر کو لے کر اور واجپائی بن کر

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان بھارت کے نہایت بگڑتے ہوئے تعلقات میں یک دم 26 فروری کو ایک امید کی کرن دکھائی دی۔ جس ایل او سی پر گذشتہ کچھ برسوں میں آگ گولہ بارود برستے رہے اور لوگوں کی جانیں لیتے رہے، اب وہاں جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔ راولپنڈی اور دہلی سے کہا گیا ہے کہ دونوں افواج 2003 کی جنگ بندی کے معاہدے کے اب پابند رہیں گی۔

یہ بہت اہم تبدیلی ہے مودی حکومت کے پچھلے پانچ سال کی پالیسسی میں – بالاکوٹ پر حملہ، کشمیر کا بٹوارہ اور بھارت سےالحاق، کشمیری شہریوں پر قید و بند کے مظالم اور پابندیاں۔

5 اگست، 2019 کو مودی حکومت نے بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سخت وار کیا- مودی سرکار نے پوری پوری کوشش کی کہ کشمیریوں کو فتح کرنے کے لیے اسی طرز پر آگے بڑھے جس طریقے سے اسرائیل نے ناکام کوشش کی فلسطینیوں کو فتح کرنے کی۔

پاکستان کے خلاف منظم طر یقیے سے دہشت گردی، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف زہرآلود میڈیا پروپیگینڈا، سارک کو معوف کرنے کی مہم – تو ہر اقدام اٹھا اور وہ وہ بات ہوئی جس سے پاکستان کو نقصان پہنچے۔

اس پس منظر میں تو یہ ایل او سی کا ایک بڑا فیصلہ ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان میں جو کہا جا رہا ہے وہ یہ کہ پاکستان بھارتکے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشن چند ماہ سے بات کر رہے تھے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر فائرنگ سے انسانی نقصانات ہوتے ہیں ان کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔  اس وجہ سے اس سیز فائر پر پہلے دونوں ممالک کی فوجی قیادت نے بات کی پھر اپنی سیاسی قیادت سے بات چیت کی اور بلاآخر اس پر سیاسی قیادت نے بھی رضا مندی ظاہر کی۔

26 فروری کے سیز فائر سے آگے توقع تو یہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت باقاعدہ طور پر شروع ہو جائے گی اور دونوں ممالک کے ہائی کمشنر جو کچھ برس پہلے جو 2019 میں نکال دیئے گئے تھے واپس بھیج دیئے جائیں گے۔

لیکن یہ بات آگے کہاں تک بڑھتی ہے، معاملات پر بات چیت کس سطح پرہوتی ہے اس کا تعلق اس سے ہے کہ یہ اس نہج پر اس سیز فائر پر بات پہنچی کیسے یا کیوں اور اس کے محرکات کیا ہیں۔ اسلام آباد کا جہاں تک تعلق ہے عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں تواتر کے ساتھ پاکستان بھارت اور خطے کے بہتر تعلقات کی بات کرتے رہے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے۔

سری لنکا کے حالیہ دورے میں وزیر اعظم نے کھل کر کہا کہ ان کا جو ویژن ہے وہ یہ ہے کہ ہر مسئلہ بات چیت کے ساتھ حل ہو یعنی کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات اچھے ہوں تاکہ غربت ختم ہو اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کا حق خودارادیت ان کو ملنا چاہیے۔ ان کی یہ ایک مربوط سوچ ہے خطے میں امن کے حوالے سے جو نوازشریف کی بھی تھی لیکن وزیر اعظم اور فوجی کمانڈ معاملات کو مل کر چلا رہے اور آگے لے کر جا رہے ہیں۔

اگر بھارت بات چیت صاف نیت سے کرے گا اور سوچ سمجھ کر کرے گا تو بات چیت کافی آگے بڑھ سکتی ہے۔ سوال تو یہ کہ بھارتکی کیا وجہ رہی ہے۔ بھارت کے اپنے مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ پچھلے ایک سال سے چین کے ساتھ جو بھارت کی کشیدگی پیدا ہوئی اور ایک قریب جنگ کی سی صورت حال رہی اس کا بھارت پر بہت دباؤ رہا ہے۔ 

سوچ بیچار رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ بھارت کی ایک غلط پالیسی رہی ہے۔ حال ہی میں چین کے ساتھ بھی بھارت کی بات چیت شروع ہوئی ہے۔

اسی طرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مودی حکومت نے اندرون خانہ نفرت کے جو بیج بوئے ہیں ان کے ثمرات بھی کچھ اچھے نہیں مل رہے۔ پھر پاکستان کے ساتھ جو دشمنی مول لی ہے اس کا بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ پاکستان کو کوئی ایسا نقصان۔ اقتصادی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اور CPEC میں پیش رفت کی خاطر پاکستان اپنی مغربی سرحد کے پار حالات بہتری کی طرف لے جا رہا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ وسطی ایشیا اور افغانستان میں امن اور اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان نے تو اپنا مشکل لیکن اہم کام جاری رکھا ہوا ہے نقصان میں بھارت رہا ہے اور دہلی کو شاید اب یہ سمجھ آ رہی ہے۔

امریکہ میں بھی نئی قیادت ہے جو انسانی حقوق، اقتصادیات، افغانستان میں قیام امن کی کوششیں ہیں اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھائے گی۔ تو بھارت نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کی نہیں نفرت کی اور دہشت گردی کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس کا نقصان ہی ہے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں۔ شاید مودی حکومت نے یہ طے کر لیا ہے کہ کشیدگی ختم کر کے بات چیت شروع کی جائے۔

یہ بات تو یقینی ہے کہ سیز فائر بات چیت کے بغیرنہیں ہوا ہو گا کیونکہ یہ جنگ بندی یقینا تفصیلی ایکشن پلان کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ دونوں ممالک نے یہ پہلا قدم اٹھایا ہے تعلقات کو معمول کی جانب لانے کے لیے۔ 

2003 کے آخر میں جب بھارت اور پاکستان کی کشیدگی کا ایک باب اختتام پذیر ہو رہا تھا اس وقت قومی سلامتی کے مشیر بریجیش مشرا کی ڈی جی آئی ایس آئی سے اس وقت بھی ملاقات اور تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں پھر بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان سارک سمٹ کے لیے آئے تھے۔

جنوری 2004 میں اور اس کے بعد پاکستان بھارت کے تعلقات کی جو آگرہ سربراہ اجلاس کی وجہ سے برف پگلی تھی۔ تو اب بھی کچھ یہی صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا مودی اٹل بہاری واجپائی کی طرح آگے بڑھ سکیں گے؟ مسئلہ کشمیر نہ پاکستان کسی صورت چھوڑ سکتا ہے اور نہ بھارت اس معاملے پر پردہ ڈال سکتا ہے تو جیسے بات چیت اب شروع ہو گی تو کشمیر پر بات لازم ہے۔

مودی کو اگر بھارت کی اور خطے کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے تو ان کو اب بھارتیہ جنتا پارٹی کا رہنما اٹل بہاری واجپائی بننا ہو گا- کیا وہ بن سکیں گے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.