فراغت کا اعلیٰ ترین درجہ اور ہماری عوام

فراغت کا اعلیٰ ترین درجہ اور ہماری عوام

Spread the Story
  • 213
    Shares

آج صبح آفس آتے ہوئے ایک کشادہ سڑک پر ٹریفک جام ملا۔ حیرت ہوتی اگر وہ کوئی پرہجوم شاہراہ ہوتی یا پھر چھوٹی روڈ ہوتی مگر وہ بڑی شاہراہ تھی اور وہاں کبھی کوئی ٹریفک جام نہیں ہوتا۔

خیر ہم کوشش کرتے کرتے آگے پہنچے جس میں آٹھ، دس منٹ لگ گئے۔ ذہن میں یہ تھا کہ کوئی حادثہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔

بہرحال جب ہم جائے حادثہ پر پہنچے تو کیا دیکھا کہ ایک گاڑی والا اور ایک بائیک والا آپس میں لڑ رہے تھے۔ بائیک والے نے ہلکا سا گاڑی کو ہٹ کیا تھا جس کی وجہ سے گاڑی کی سائیڈ پر ایک ڈینٹ پڑ گیا۔

ایک ہلکے سے ڈینٹ پر گاڑی والے نے عجیب دھما چوکڑی مچائی ہوئی تھی لیکن اگر صرف بائیک والا اور گاڑی والے اس معاملے پر مکالمہ کرتے تو بات الگ تھی، مگر ایک ہجوم اس منظر کو دیکھنے میں محو تھا۔

درجنوں لوگ موبائل فون سے ویڈیو بنانے میں مشغول تھے اور پورا ہجوم اپنی گاڑیاں چھوڑ کر اور بائیک بیچ سڑک پر کھڑی کر کے قریب سے یہ منظر ملاحظہ فرما رہےتھےاور پورا ٹریفک بلاک کر بیٹھے تھے۔

یہ مزاج تقریباً پوری قوم کا بن گیا ہے، انھیں بس موقع چاہیے اپنا اور دوسرے کا وقت ضائع کرنے کا اور پھر لوگ ہیں اور فراغت کے مختلف نظارے۔

سڑک پر کوئی واقعہ ہو جائے تو مدد کی بجائے ویڈیو بناتے ہیں، اگر جھگڑا ہو تو چھڑوانے کی بجائے مزے لیے جاتے ہیں۔ ایک یا دو بندے بائیک روک کر پل سے نیچے دیکھتے ہیں تو تجسس سے لبالب عوام آہستہ آہستہ بائیک، گاڑیاں اور رکشے روک کر باجماعت پل سے نیچے دیکھنے لگتے ہیں۔

یقین نہیں آتا تو آپ ذرا خود تجربہ کرکے دیکھیے۔ اس طرح کے منظر جا بجا دیکھنے کو ملیں گے۔ موبائل پر بھی یہ بس ایسے ہی کام کرتے ہیں جو بس فارغ ذہن کا کارخانہ ہیں۔

ایسے ہی کاموں میں تنقید برائے تنقید، جیسے کسی کو کافر قرار دینا، کسی کو بے دین کہنا، کسی کے کپڑے کو دیکھ کر فحش کا لقب عطا کرنا، کسی کو غدار کہنا اور اس طرح کے بہت سے ایسے کام ہیں جو اس قوم کی فراغت کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔

کچھ اور مثالیں بھی دیکھ لیجیے: کسی کی تاک میں لگے رہنا، آگ لگانا، لگائی بجھائی کرنا، بڑھا چڑھا کر بولا، غیبت کرنا، اپنے گھر میں پکی کھچڑی کا پتہ نہیں ہوتا لیکن جب بات کریں تو پتہ چلے گا کہ امریکہ، روس، یورپ اور اسرائیل کے خفیہ ادارے جو کرتے ہیں، وہ ساری خفیہ پلاننگ ان تک راتوں رات پہنچ جاتی ہے۔

کوئی چھوٹی بیماری آتی ہے تو وہ موسم کی خرابی ہوتی ہے اور کوئی بڑی عالمی وبا آتی ہے تو وہ یہودیوں کی سازش قرار دی جاتی ہے، پولیو ڈراپ بھی نامردی کی سازش مانی جاتی ہے۔

حتیٰ کہ انہیں یہ تک پتہ ہوتا ہے کہ زلزلہ کیوں آیا، آندھی کیوں چلی، سیلاب نے کسی علاقے کو کیوں ڈبویا۔ فوراً یہ اسے لوگوں کے گناہوں کا شاخسانہ قرار دے کر مطمئن ہو جائیں گے جیسے زلزلہ ان سے اجازت لے کر آیا تھا۔

الغرض جوعمل ان کے کند ذہنو ں میں نہ آئے وہ سازش ہے، وہ سراسر جھوٹ ہےاور قوم و مسلمانوں کے خلاف سازش۔

بحثیت مجموعی ہماری قوم کے مزاج میں فراغت سرایت کر گئی ہے۔ فراغت مطلب فضول اور بنا مقصد وقت گزارنا، اب سوچیے ہم اپنی فراغت میں قوم کو کیسے کیسے شامل کر لیتے ہیں بلکہ ہم تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم فراغت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہو گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.