_The_School_of_Athens__by_Raffaello_Sanzio_da_Urbino.jpg

وکی پیڈیا کے دور میں کیا سب کچھ پڑھنا ٹھیک ہے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

موجودہ نظام تعلیم کا یک رخاپن خامیوں سے بھرا ہوا ہے۔ گذشتہ 50 سالوں میں کھلنے والی پہلی نئی یونیورسٹی دی لندن انٹر ڈسپلنری سکول اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے

طالب علم خسارے میں جا رہے ہیں۔ لیکن اس کا سبب کلاسوں میں نہ جانا یا موج مستی کرنا (سوائے غیر قانونی قسم کی) ہرگز نہیں۔ مسئلہ بہت گہرا لیکن اس کے باوجود اتنا واضح، اتنا سامنے کا اور اس قدر عام ہے کہ لوگوں کی اکثریت اس کا جائزہ لیے بغیر سرسری گزر جاتی ہے۔

اعلیٰ تعلیم آپ کو ’بیوقوف عالم‘ بنا رہی ہے۔ اس کا تعلق آپ کے سیکھنے سے نہیں بلکہ ہر وہ چیز جسے نہ آپ سیکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں، چاہے اپنی مرضی سے یا مجبوری سے۔ اس تعلیمی جہالت کا آغاز سکول سے ہوتا ہے جس کا نقش کالج میں مزید گہرا کر دیا جاتا ہے۔

آپ کی زندگی سیدھے خطوط پر استوار فرض کر لی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ آپ دراصل زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت آپ کو ایئرلائن پائلٹ یا پلمبر بننے، ہیومینٹیز یا سائنسز پڑھنے کی طرف زبردستی دھکیل دیا جاتا ہے۔ کسی خام بونے پروفیسر کی طرح۔ پھر آپ اس مقام پر فائز ہو جاتے ہیں جہاں آپ کو لگتا ہے مزید کچھ جاننے کی ضرورت نہیں۔ اعلیٰ تعلیم جہالت کی اعلیٰ شکل کے سوا کچھ نہیں۔ ہم مسلسل کم سے کم چیزوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ سکھا رہے ہیں۔

قدیم یونیورسٹیوں کے زیادہ تر مضامین کے ذریعے بالخصوص آکسفورڈ اور کیمرج میں طلبہ کی لا متناہی دانشورانہ جستجو کی جبلی خواہش دبا دی جاتی ہے۔ اکثر یونیورسٹی سے نکلتے وقت وہ دل شکستہ اور گھٹن کا شکار ہوتے ہیں (اس موقع سے پہلے شاید ہی کبھی وہ اس قدر مایوس ہوتے ہوں)۔

خوش قسمتی سے تعلیمی میدان میں لندن انٹر ڈسپلنری سکول کی صورت میں ایک ایسے ادارے کی داغ بیل پڑی ہے جو بالآخر تنگ اور محدود نصابی دائرے کے بجائے دنیا کے متعلق مزید جاننے کی بنیادی جبلت کی تسکین کا عزم رکھتا ہے۔

جیسا کہ مشہور فلسفی وٹگن شٹائن نے کہا ہے کہ ’دنیا حقائق کے مجموعے کے سوا کچھ نہیں۔‘ کچھ عرصے بعد موجودہ سال میں باقاعدہ آغاز کرنے والا دی لندن انٹر ڈسپلنری سکول (ہم اسے مختصراً ایل آئی ایس لکھیں گے) سر دست اومنی سائنس کا مضمون شروع نہیں کر سکتا لیکن ایسا کرنا ضرور چاہتا ہے۔ نئے ادارے کے پس پشت ایک مرکزی شخصیت کارل گومبرچ کہتے ہیں، ’آپ ہر چیز کو کلی طور پر بدل نہیں سکتے ۔ لیکن اپنے تئیں آپ کسی ایسے سلسلے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو کسی حد تک دکھ کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔‘ وکی پیڈیا کے دور میں ایل آئی ایس اعلی تعلیم کی پیشکش کرتا ہے۔ میرا گمان ہے یہ موجودہ نظام کو تیزی سے دقیانوسی، روایتی اور بے سود ثابت کرے گا۔

1950 کی دہائی میں برطانوی سائنس دان اور ناولسٹ سی پی سنو نے اسے ’دو کلچروں‘ کی تقسیم کے طور پر دیکھا تھا۔ ان کے مطابق ایک طرف سفید کوٹ میں ملبوس سائنس دان اور دوسری جانب کہنیوں پہ لگے پیوندوں والی معمولی جیکٹیں پہنے اور پائپ پیتے ادب، تاریخ اور فلسفے کے طالب علم۔ یہ دو گروہ کھانے کی میز یا کامن روم کے علاوہ کبھی ایک ساتھ نہیں بیٹھتے۔ (سوشل سائنسز کے وسیع اور پھیلتے ہوئے دائرہ کو سنو نظر انداز کر گئے)۔

یہ تقسیم سکول کی سطح پر عام تھی بالخصوص چھٹی جماعت سے، جہاں ادب اور آرٹس کے طالب علم سائنس والوں کو حقارت کی نظر سے تجربہ گاہ کے چوہے کہتے اور سائنس کے طلبہ پلٹ کر خود کو ’nerd،‘ ’geek‘ اور ’ٹیکنالوجی کے ماہر‘ کہے جانے پر فخر کا اظہار کرتے۔ سکول گروہ بندی کا گڑھ تھے۔ ہر گروہ دوسرے کو نفرت سے دیکھتا۔ یہ دانشورانہ عصبیت تھی۔

اس فضا میں پرورش پاتے ہوئے میرے لیے عجیب چیز یہ تھی کہ میں آرٹس کا طالب علم تھا اور میرا جھکاؤ پھٹی ہوئی کہنیوں اور ٹوپی (اپنے معاملے میں) کی طرف تھا جبکہ میرا جڑواں بھائی (واقعی، وہ کوئی استعاراتی شخصیت نہیں) راکٹ سائنسدان بن گیا جس نے ایکس رے فلکیات میں پی ایچ ڈی کی۔ اس لیے پسند یا نا پسند سے قطع نظر مجھے کوانٹم مکینکس، نظریہ اضافت اور فلکیات کی شد بد حاصل ہو گئی (اگرچہ میرا نہیں خیال کہ میرا جڑواں بھائی کبھی ابتدائی فرانسیسی سے زیادہ کچھ سیکھ سکا ہو جو خیر سے اب وہ بھی بھول چکا ہے)۔

ایل آئی ایس کے وجود کا مقصد نئی نسل کو اس عظیم خلیج سے نجات دلانا اور میرے اور میرے جڑواں بھائی کی آمیزش پیدا کرنا ہے۔ آخر کس لیے ممکنہ علوم کے وسیع میدان کو نظر انداز یا منفی کر کے اس کے دروازے خود پر بند کر دیے جائیں؟ فزکس بھی مزے کی چیز ہو سکتی ہے۔ بالکل جیسے پروست ہو سکتا ہے۔ کیا ہمارے لیے کسی ایک کو چننا ضروری ہے؟

موجودہ مغربی نظام تعلیم افلاطون کی قائم کردہ قدیم ایتھنز اکادمی سے متاثر ہے جو عوام پر حکومت کے لیے ’فلسفی بادشاہوں‘ کی تیاری کے لیے تھی لیکن پھر فلسفے نے حقیقت، سچ اور حسن کو اپنے دائرے میں شامل کر لیا (موسیقی، شاعری، حساب، جدلیات، جمناسٹک اور افلاطون کا پسندیدہ ترین کھیل ریسلنگ بھی اس کا حصہ بن گیا)۔

افلاطون کے گرو اور رہنما سقراط نے کہا تھا، ’میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا،‘ جس کا مطلب ان تمام افراد (جیسے سیاستدان اور کاریگروں) پر برتری تھی جو سمجھتے تھے کہ وہ کم از کم کچھ نہ کچھ جانتے ہیں، لیکن جو بہت جلد کسی ایک شعبے میں تحقیق تک خود کو محدود کر لیتے ہیں۔ یہ ان پر لطیف پیرائے میں طنز تھا یا دوسرے لفظوں میں ایک گزارش تھی کہ گھوم پھر کے ہر چیز کے متعلق جاننے کی کوشش کرو، کم از کم اپنے دل و دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھو اور کسی بھی چیز سے مانوس ہونے کی صلاحیت پیدا کرو۔

یورپ میں نشاط ثانیہ نے اس نکتے کو سنجیدگی سے اپنایا اور قدیم محفوظ شدہ دستاویزات کا مطالعہ کرتے (مسلمان علما کے توسط سے) اور انہیں اپنے عہد پر لاگو کرتے ہوئے لیونارڈو ڈاونچی جیسی ہر فن مولا شخصیت پیدا کی جو سائنس اور آرٹ کے متعلق ایک جیسے علم سے مالا مال تھی اور جس نے اڑنے والی مشینیں اور مکینیکل شیر ایجاد کیے۔ لیکن ممکن ہے لینارڈو نے رسمی تعلیم حاصل ہی نہ کی ہو اور نشاط ثانیہ کے عہد میں یونیورسٹیوں کے دروازے عورت کے لیے بند تھے۔

اپنے مشہور ڈرامے ’ہیملٹ‘ میں شیکسپیئر کی ایک سطر ’تمہارے فلسفے میں موجود چیزوں کے علاوہ کائنات میں بہت کچھ ہے‘ جزوی طور پر تعلیمی زندگی کی محدودات پر تنقید ہے کہ کیسے یونیورسٹی کی تعلیم تنگ دائرے میں سمٹ کر رہ گئی ہے (خود شیکسپیئر گریمر سکول سے حاصل کردہ اپنی تعلیم پر مطمئن تھے)۔ نشاط ثانیہ کے سنجیدہ اہل علم ’زیادہ سے زیادہ‘ جاننے کی فکر میں رہتے تاکہ ’حقائق کو کلی شکل‘ میں دیکھ سکیں۔

’یونیورسٹی‘ کا تصور، ایک ایسا شہر جس میں پوری کائنات بند ہو، مثالی ریاست کی طرح ہمیشہ کچھ زیادہ ہی رجائیت پسند رہا۔ اگر ہم پیچھے مڑ کر 11ویں صدی میں پیرس، بولونیا اور آکسفورڈ میں یونیورسٹی کا ابتدائی عہد دیکھیں تو اس وقت طلبہ ہر چیز پڑھتے تھے۔ ایک ہی کورس تھا جس میں ہر وہ چیز شامل تھی جو اس وقت ضروری خیال کی جاتی تھی (’سات لبرل آرٹس‘ کے علاوہ زیادہ تر الہیات)۔

لیکن جیسے جیسے یونیورسٹیاں ترقی کرتی گئیں اور دائرہ وسیع ہوتا گیا ویسے ویسے ان کا دانشوارانہ محیط سکڑتا گیا۔ بلاشبہ اب زیادہ مضامین لیکن آپ کو سختی سے اپنے پسندیدہ مضمون تک محدود رہنا ہوتا تھا۔ ثقافتی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ہی کام کی تقسیم در آئی۔ ہمارے لیے ہر چیز کے بجائے ایک چیز پر مہارت ضروری ہو گئی ۔

ایل آئی ایس کے بانیوں میں سے ایک ایڈ فیڈو ’پرسنل سٹیٹمنٹ‘ کو بالکل صحیح آڑے ہاتھوں لیتے ہیں جو داخلے کے خواہش مند طلبہ کے لیے درخواست کے ساتھ شامل کرنا ضروری ہوتی ہے۔ اس سٹیٹمنٹ میں آپ کو بتانا ہوتا ہے کہ آپ اس ایک چیز کے لیے کتنے بے تاب ہیں۔ کیسے آپ کی پوری زندگی محض اسی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ وہ بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سکول اس ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ’آپ اس چنگل سے کیسے بچتے رہے؟

’ہم بیک وقت کئی علوم کے ماہر طلبہ پیدا کرتے ہیں جو کسی ایک شعبے کی طرح ہر شعبے میں بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ اپنی تازہ ترین کتاب ’دا پولی میتھ‘ میں پیٹر برک ارسطو کے متعلق کہتے ہیں کہ ’وہ بالعموم فلسفی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہیں منطق، اخلاقیات اور مابعد الطبییعات سے دلچسپی تھی لیکن انہوں نے علم ریاضی، علم البیان، شاعری، نظریہ سیاست، فلکیات، علم الاعضا، جسمانیات، تاریخ کائنات اور علم الحیوانیات پر بھی لکھا۔‘ 17ویں صدی سے بلیز پاسکل کی ہی مثال لے لیجیے جو نہ صرف الٰہیات اور فلسفے کے حقائق دان تھے (Pensées کے مصنف) بلکہ علم ریاضی کے بھی ماہر تھے جنہوں نے کیلکولس کے ابتدائی خد و خال واضح کیے اور کمپیوٹر کی ابتدائی شکل ایجاد کرنے والوں میں سے ایک ہیں (ان کی عمر محض 39 تھی)۔

17ویں صدی کے یسوعی فرقے کے رکن ایتھانیسیئس کرچر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ’وہ ہر چیز کے متعلق جاننے والے آخری فرد تھے۔‘ 18ویں صدی میں انسائیکلو پیڈیا (’سائنسز، فنون اور دستکاری کے متعلق منظم لغت،‘ یونانی میں enkuklios paideia یا ’عام معلومات‘) کے عہد سے پہلے ہی، جس میں روسو اور دیدرو جیسے مصنفین نے دلیری سے روشن خیالی کا پرچار کیا، ہم ہر چیز جاننے کے تصور اور فلسفے کی صنعت کاری سے پہلے والے ہر فن مولا فلسفیوں کو خیر آباد کہہ چکے تھے۔ کچھ قابل قدر شخصیات کو چھوڑ کر 19ویں صدی سے ہم لامتناہی پیداواری سلسلے میں کھڑے ایک لاچار مزدور ہیں جو ہمیشہ مخصوص معلومات تک محدود رہتا ہے۔

پھر اس میں حیرت کیسی اگر عہد حاضر کے طلبہ آخر میں کارل گومبرچ کے بقول ’اجنبیت‘ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ لفظ کارل مارکس استعمال کرتے رہے کہ کیسے مزدور طبقہ اپنے کام سے شدید اجنبیت محسوس کرتا ہے۔ لیکن بالکل نئے معنی میں گومبرچ کمیونزم کے نقطہ نظر کے بجائے یہ لفظ وسیع تر تناظر میں ’نیٹ ورک تھنکنگ‘ کے لیے استعمال کرتے ہیں جس میں تعلیم بھی شامل ہے۔ نیٹ ورک کا تصور، بکھرے ہوئے افراد کو یکجا کرنا، شاید اب سکہ رائج الوقت ہے۔ ایل آئی ایس اس پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

 گومبرچ کے بقول ’انٹرنیٹ کے بغیر یہ ناممکن ہوتا۔ لوگ یوٹیوب اور وکی پیڈیا پر مختلف طریقوں سے سیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے روابط خود استوار کر سکتے ہیں۔ ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے کہ انہیں ایک کتاب ہی پڑھنا ہو گی۔ اگر وہ ادب کے متعلق کوئی تحقیق کر رہے ہیں تو کتاب منہا نہیں کی جا سکتی۔ لیکن ہمیں ڈیجٹل کو اختیار کرنا اور اس کی عادت ڈالنا ہو گی۔‘

 دراصل گومبرچ یونیورسٹی کالج لندن میں پروفیسر تھے جہاں انہوں نے مستقبل کی فکر سے آزاد ہو کر پڑھائے جانے والے مضمون ’آرٹس اینڈ سائنس‘ کے اجرا کے لیے طویل عرصے تک جد و جہد کی جس میں آپ ایک ساتھ کیمسٹری اور عربی یا چینی زبان پڑھ سکتے ہیں۔ وہ فخر سے کہتے ہیں، ’ہمارے طلبہ چوٹی کے نمبر حاصل کرتے ہیں۔ ہم نے جارحانہ اور منفی رویے کو خود سے دور رکھا۔‘

مجھے اندازہ ہے انہیں کس قدر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ امریکی نظام یا جیسا کہ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے، ’نظام کم بد انتظامی زیادہ ‘کے مشاہدے اور مختلف یونیورسٹیوں سے وابستگی کے کے بعد میں وہاں میسر تدریس کے وسیع دائرے پر حیران رہ گیا بالخصوص پہلے سال میں (جیسے جیسے یہ آگے بڑھتا ہے محدود ہوتا جاتا ہے بالخصوص قدیم اداروں میں)۔

لیکن جب میں نے کیمرج میں ایسا کرنے کی کوشش کی تو مجھے فرانسیسی، لاطینی اور یونانی زبان کے مختلف ماہرین نے آڑے ہاتھوں لیا کیونکہ ان سب کا خیال تھا اگر ایسا کیا گیا تو طلبہ کی زیادہ تعداد فرانسیسی، لاطینی اور یونانی پڑھنے لگے گی۔ وہاں کسی اعلی بصیرت کا تو سوال ہی نہ تھا۔ بات محض دو ثقافتوں تک نہیں رہی بلکہ محدود ذہنیت کے حامل افراد کی زیر نگرانی یونیورسٹی خود ساختہ کئی چھوٹے ’شعبوں‘ میں تقسیم ہو چکی ہے۔

60 کی دہائی میں ’نئی‘ یونیورسٹیوں سسیکس، ایسیکس اور ایسٹ اینگلیا نے کچھ ہلچل مچائی اور تدریس کے نئے راستے اپنانے کی کوشش کی۔ لیکن روایتی قدیم ادارے ایسے نئے اقدامات پر اپنی بے عملی مسلط کرنے میں کامیاب رہے۔ اِمپیریئل کالج سے مکینیکل انجنیئیرنگ کرنے والے ایڈ فیڈو کہتے ہیں، ’قدیم یونیورسٹی کو بدلنا ناممکن تھا۔ اس لیے ہم نے سوچا بہتر یہی ہے کہ نئی کی بنیاد رکھی جائے۔‘ ان کے پاس لندن میں نئے تعلیمی ادارے ’سکول‘21 بنانے کا تجربہ تھا اس لیے یہ خیال کچھ زیادہ غلط بھی نہ تھا۔

امپیریئل کالج کے بعد فیڈو نے بزنس ڈگری شروع کی لیکن پھر بالکل نئی سمت میں چلتے ہوئے تھیئٹر جا پہنچے اور اداکار اور پروڈیوسر بن گئے۔ وہ اپنی اندر کئی شخصیتیں رکھتے ہیں۔ اِمپیریئل میں اپنے ساتھ پیش آئے تجربے کو وہ رچرڈ جینکنز کی مثال سے واضح کرتے ہیں جو انتہائی ذہین طالب علم تھا لیکن یونیورسٹی کا رویہ اس سے مناسب نہ تھا۔ ’وہ انتہائی عظیم انجنیئیر ایک غیر معمولی شخص تھا لیکن اسے ایک سال دہرانے پر مجبور کر دیا گیا۔‘

پہلے ہی اپنی کشتی تیار کرنے اور 16 سال کی عمر میں بحر اوقیانوس میں چلانے والے جینکنز نے بعد میں ہوا کے زور سے چلنے والی گاڑی کی مدد سے زمین پر تیز رفتاری کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔ فیڈو کہتے ہیں ’بطور طالب علم آپ یہی سوچتے ہیں کہ آپ غلط تو نہیں سمجھ رہے نہ یہ کہ آیا وہ غلط تو نہیں۔‘

2016 میں ’چیلنجر یونیورسٹیز‘ وائٹ پیپر کے بعد فیڈو، گومبرچ اور کرس پریسن نے گذشتہ چند سال اجازت نامہ فراہم کرنے والے اداروں سے معاملہ بندی کرتے ہوئے ان گنت مشکلات میں گزارے جہاں سے بالآخر یونیورسٹی کا درجہ اور ڈگری دینے کا اختیار مل ہی گیا۔ دی لندن انٹر ڈسپلنری سکول گذشتہ 50 برس میں پہلی نئی یونیورسٹی ہے۔

ستمبر سے برسک لین کے پاس وائٹ چیپل کے مقام پر کمپس میں 100 طلبہ پر مشتمل پہلا گروپ لیکچرز حال میں اپنی نشستیں سنبھالنے والا ہے۔ پہلے سال میں وہ اپنی بنیادیں وسیع کریں گے اور اس کے بعد مختلف شعبہ جات کی ایک ساتھ تعلیم اور پھر الگ الگ شعبوں کو اختیار کریں گے۔ لیکن مشکل صورت حال میں راہ نکالنے کی بنیادی خوبی انہیں اکٹھا رکھے گی۔

گومبرچ کہتے ہیں کہ بیک وقت ہر طرح کی تعلیم، نئی تحقیق اور کئی فنون پر حاوی ایک نسل ’نئی نشاط ثانیہ‘ ثابت ہو گی۔ ’کچھ بھی سیکھنے کی علمی کوشش قابل قدر ہے۔ لیکن ہم وسیع اور اعلی سطح کی کامیابی کے خواہش مند ہیں۔‘

ایل آئی ایس کے مزاج میں کسی حد تک فلاسفر کارل پوپر کے نظریہ تعلیم ’قیاس اور تردید‘ کا بھی عمل دخل ہے۔ ’آپ کسی حقیقی مسئلے سے دوچار ہوتے ہیں اور پھر جو بھی جاننے کی ضرورت ہو آپ بروئے کار لاتے ہیں۔ یہ ریاضی بھی ہو سکتی ہے اور لکھنا بھی۔ لیکن یہ امکان بھی ہے کہ آپ بالکل مختلف راستہ اختیار کریں۔‘

ابتدائی توجہ کا مرکز بننے والا ایک موضوع یہ ہو سکتا ہے کہ خوشی کیا ہے۔ اسے صحت، جینیات، کاگنیٹو سائنس، لسانیات یا علم البشر کے آئینے میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ گومبرچ کہتے ہیں، ’اداسی کا پورا فلسفہ ہے۔ ویسے خوش نہ رہنے میں کیا مسئلہ ہے؟‘

زیر بحث باقی ’مسائل‘ میں موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور اخلاقیات، عوامی صحت اور بذات خود تعلیم شامل ہیں۔ یہ سب بڑے اور گہرے مسائل ہیں جو ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ آپ کوویڈ کے دور میں ریاضی یا سائنس کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

وہ زور دے کر کہتے ہیں یہ اپنی پسند نا پسند کا معاملہ نہیں ہے جو امریکہ کے کالجوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ بلکہ کسی حد تک ان کے ساتھ نقطہ اشتراک بھی ہے۔ سٹی یونیورسٹی آف نیو یارک کے گریجویٹ سنٹر کے سابق پرووسٹ اور امریکین کونسل آف لرنڈ سوسائٹیز کے موجودہ صدر پروفیسر جوئے کنولی کہتے ہیں، ’ملک بھر میں یہ بین الشعبہ جاتی پروگرامز ہی ہیں جو سب سے اچھے جا رہے ہیں: فوڈ سٹڈیز، ماحولیاتی انصاف، پیس سٹڈیز، سیاسی معاشیات، فن ترجمہ نگاری، پبلک ہیلتھ سٹڈیز یا پالیسیز۔‘

اس کے ساتھ ہی امریکین بزنس سکول کے ساتھ ایک اور نقطہ اشتراک بھی ہے۔ ایل آئی ایس نہ صرف با صلاحیت اور بلند حوصلہ بلکہ کاروباری ذہنیت کے طلبہ کا بھی منتظر ہے۔ وہ پورے تین سالوں کے دوران انٹرن شپ کی پیشکش کرتے ہیں۔ خوابوں کی دنیا سے حقیقی دنیا میں قدم رکھنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ ان کے کاروباری ساتھیوں کو بھی دعوت دی جاتی ہے۔ گومبرچ کہتے ہیں، ’یہ حقیقی دنیا کے مسائل ہیں۔ آپ کی الگ سی خوابوں کی دنیا ہونی چاہیے لیکن جو نصاب میں پڑھا اس کا عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔‘

کیا یہ فاصلاتی تعلیم کے ذریعے ممکن ہے جب طلبہ لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے ہوں؟ فیڈو اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’بہت ساری چیزیں آن لائن کی جا سکتی ہیں۔ کچھ کرونا نے بھی اس کا عادی بنا دیا ہے۔ لیکن جسمانی موجودگی کی ضرورت پھر بھی برقرار رہتی ہے۔ اصلی جگہوں پر۔ کسی چیز کی موجودگی محسوس کرنا۔ کہ میں وہاں جا کر وہ کام کرنا چاہتا ہوں۔‘

بین الشعبہ جاتی تعلیم محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی بھی ہے۔ اس میں آکسبریج (Oxbridge) سے زیادہ عملی وابستگی اہم ہے۔ رابرٹ پرسگ کا ناول ’زین اینڈ آرٹ آف موٹر سائیکل مینٹینس‘ تعلیمی تفریق سے اٹھتی بے وقوفی کی منظر کشی ہے کیونکہ مکمل تنخواہ یافتہ فلاسفر کو بھی اپنا موٹر سائیکل درست کرنا آنا چاہیے۔

جیسا کہ فلسفی وٹگنشٹائن نے انتہائی دانشمندانہ بات کہی کہ اگر آپ فلاسفر بننا چاہتے ہیں تو کار مکینک بنیں محض فلسفے کی کتابیں ہی نہ پڑھتے رہیں۔ میں ایل آئی ایس میں مستقبل کے فلسفیوں کو ایسا دیکھنا چاہتا ہوں کہ انہیں اپنے ہاتھ میلے ہونے کی پروا نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.