ابھی نندن سے اجیت ڈوول تک

Spread the Story
  • 213
    Shares

امن کی تلاش کس کو نہیں ہوتی اور پھر بھارت کے ساتھ امن؟ یہ تو موجودہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اگرچہ میرا تجزیاتی نکتہ نظر اس امر کی مخالفت کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن ذاتی طور پر بھی مجھے بھارت کے ساتھ مل کر امن کی فاختائیں فضا میں چھوڑنے پر کوئی اعتراض نہیں۔

میری بڑی خواہش ہے کہ میں تاج محل دیکھوں اور سوا تین سو سالہ مغلیہ دور کے تاریخی نقوش سیر و تفریح کے ذریعے اپنے بچوں تک پہنچاؤں۔ ہمارا تاریخی ورثہ کتابوں تک محدود رہ گیا ہے۔ ماضی کی عظمتیں جگانے کے لیے نئی نسلوں کو ’آنکھوں دیکھا حال‘ قسم کا تجربہ کروانا ضروری ہے۔

میرے خاندان نے بھی جنگ اور تشدد کی قیمت ادا کی ہے۔ میرے دادا مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کے قافلے کو نئے پاکستان میں پہنچانے کی سرکاری ڈیوٹی دیتے ہوئے سکھوں کے ہاتھوں جان کھو بیٹھے۔ وہ قافلہ لاہور تک آن پہنچا مگر یہ پولیس افسر بھارت کی زمین کو اپنے لہو سے تر کرنے کے بعد واپس نہ لایا جا سکا۔

میرے پاس جو سرکاری دستاویزات موجود ہیں ان کی بنیاد پر میں جالندھر کے تھانوں سے خاندانی تاریخ کے اس ناتمام باب کو تکمیل کرنے کی کامیاب کوشش کر سکتا ہوں۔ دونوں ممالک کے درمیان امن ہو گا تو ذاتی، تاریخی اور قومی معاملات سدھریں گے۔ مجھے اس کا بخوبی علم ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ علاقائی تجارت اور اکٹھے معاشی منصوبے پاکستان اور بھارت میں بہترین فلاح کا باعث بن سکتے ہیں۔

مگر مسئلہ امن کی اچھائیوں سے آگاہی نہیں بلکہ اپنی انڈیا پالیسی کی ان کوتاہیوں، کلابازیوں اور تضادات کا ہے جن کو سمجھتے سمجھتے بال سفید ہو گئے مگر یہ جانچ نہ پائے کہ ہم دہلی سرکار سے کس قسم کے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔

پچھلا سارا ہفتہ ابھی نندن کی ٹھوک بجا کر بے عزتی کرتے ہوئے گزرا۔ نمائشی کرکٹ میچ، قومی نغمے، مفتوح صحافیوں کے ذریعے جہازوں کو گرائے جانے کے قصے اور نجانے کیا کیا سننے، دیکھنے اور پڑھنے کو ملا۔ ایسا جوش و خروش اور خود ستائشی اس وقت بھی نظر نہیں آئی جب یہ واقعہ ہو رہا تھا۔ تب ابھی نندن کو پکڑنے کے بعد چھوڑنے کی اتنی جلدی تھی کہ ہم اس بھارتی اثاثے کی بیچارگی سے صحیح طریقے سے لطف اندوز بھی نہ ہو پائے۔

پکڑ والی یلغار کی بازگشت ختم ہونے سے پہلے ہی امن کی پکار بلند ہوئی اور ہم نے اعلی ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ پائلٹ واپس بھیج دیا۔ بڑے دل کی بات ہے کہ جو شخص ہماری سرزمین پر ہمارے بچوں کو بمبوں کا نشانہ بنانے آیا تھا ہم نے چائے پلا کر رخصت کیا۔

مگر اب ایک سال بعد ابھی نندن کی غیر موجودگی میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے کچوکے لگا کر ہمارا خوش ہونا سمجھ سے بالا ہے۔ اگر اس کو چھوڑنا اعلی ظرفی تھی تو اس سال اس کے پکڑے جانے کی خوشیاں منانا کیا کہلائے گا؟ [ریکارڈ کے لیے یہ بتاتا چلوں کہ میں ابھی نندن کو چھوڑنے کے حق میں دیے گئے وضاحتوں سے مطمئن نہیں ہوں]۔

یہ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بھارتی حکومت کے اس پائلٹ کی گرفتاری سے متعلق داستانیں سنا کر ہم جس جذبہ جہاد و ایمان کو ابھار رہے ہیں اس کا ہماری حقیقی پالیسی سے کیا تعلق ہے؟ ان قومی تقریبات سے دو دن پہلے خفیہ سفارت کاری کے ذریعے ہماری سرکار نے بھارت کی سرکار سے ہاتھ ملاتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کا ایک باقاعدہ معاہدہ کیا۔ مشترکہ بیان جاری ہوا۔ زیادہ معلومات بھارت کی میڈیا نے جاری کیں جن کے مطابق نریندر مودی کے دست راست اجیت ڈوول سے ہمارے ہرکارے براہ راست ملنے کے بعد وہ سازگار ماحول بنا پائے جس کے نتیجے میں یہ معاہدہ ممکن ہوا۔

اب معید یوسف، معاون خصوصی برائے قومی سلامتی، یہ وضاحتیں دے رہے ہیں کہ ان کی اجیت ڈوول سے ملاقات کا اس معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ یہ بھی بتا دیتے کہ پھر ان ملاقاتوں میں وہ کن امور پر بات کر رہے تھے؟ کیا وہ ان الزامات کی تحقیق کر رہے تھے کہ جو وزیر اعظم عمران خان اپنے مخالف نواز شریف پر لگاتے ہیں کہ وہ بھارت میں کاروبار چلانے کے لیے مودی سرکار سے یاری بنانا چاہتے تھے؟

یا پھر وہ اجیت ڈوول کو کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اس دستاویزات کی کاپی پیش کر رہے تھے جو ہمارے بیان کے مطابق اقوام متحدہ سمیت اہم بین الاقوامی اداروں اور ممالک میں تقسیم ہونے کے بعد نریندر مودی کو دائمی شرمندگی سے دوچار کر چکی ہیں؟ کیا وہ تقسیم کشمیر کے اس پلان کو دوبارہ سے زندہ کر رہے تھے جو جنرل پرویز مشرف کے دور میں عمل درآمد کے نکتے پر پہنچ کر رک گیا تھا؟ یا وہ ڈوول تک وزیر اعظم عمران خان کا یہ پیغام پہنچا رہے تھے کہ نریندر مودی نئے دور کا ہٹلر ہے اور بھارت کی فوج نازیوں والے کام کرتی ہے؟ کچھ پتہ تو چلے کہ ان کے خفیہ دورے کون سے مقاصد حاصل کرنے کے لیے تھے؟

فی الحال عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد ہم نے بھارت کی طرف تانے ہوئے ڈنڈے پر سفید جھنڈا لہرانا شروع کر دیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے واشنگٹن میں ہماری قدر و منزلت بڑھ جائے گی۔ ہم اپنی بنائی ہوئی اس پالیسی کو یکسر بھول گئے ہیں جس کے تحت ہم نے بھارت کے ساتھ ہر قسم کا رابطہ اس وقت تک منقطع رکھنے کا عہد کیا تھا جب تک وہ کشمیر میں اٹھائے گئے اقدامات کو واپس نہیں لیتا جس کے تحت اس نے اس متنازعہ علاقے کے دو حصے کر کے وفاق کے ساتھ اس کو ضم کر دیا۔

ہم اپنی اس پالیسی کو بھی بھول گئے جس کے تحت ہم نے تمام قوم کو اس وقت تک متحرک رکھنا تھا جب تک نریندر مودی اپنے اقدامات کو زائل نہیں کر دیتے۔ یاد رہے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جن القابات سے نواز چکے ہیں اس کے بعد ان کی حکومت کے کسی فرد کے ساتھ ملاقات، بات چیت اور معاہدہ ایسا ہی ہے جیسے دوسری جنگ عظیم سے پہلے برطانوی وزیر اعظم چیمبر لین نے ایڈولف ہٹلر کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔

تو بڑی کنفیوژن یہ ہے کہ ہم جیسے عام فہم پاکستانی شہری جن کو بھارت کے مکمل بائیکاٹ کی ہر لمحہ ترغیب دی جاتی ہے، نریندر مودی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کس نظر سے دیکھیں۔ وہ کشمیری جو پاکستان کی سفارت کاری پر مکمل طور انحصار کرتے ہیں امن کی اس آشا کا کیا تجزیہ کریں؟ وہ کیا سمجھیں کہ نریندر مودی ایک خونخوار حکمران ہے یا امن کے ایک خاموش اور خفیہ سفر میں ایک اہم دوست اور یار؟

اگر یہ کنفیوژن دور ہو جائے تو ہمیں یہ جاننے میں آسانی ہو جائے گی کہ ہماری اصل پالیسی ابھی نندن کی حزیمت پر مبنی سرکاری تقریبات میں پنہا ہے یا اجیت دوول معید یوسف ملاقاتوں میں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.