سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوں گے، بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا حتمی نہیں: سپریم کورٹ

Spread the Story
  • 213
    Shares

سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوں گے، بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا حتمی نہیں: سپریم کورٹ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس پر اپنی محفوظ رائے سناتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات آئین کے تحت ہوں گے۔ یہ رائے چار ججز نے دی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلاف کیا ہے۔
عدالت نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین اور قانون دونوں کے تحت آتے ہیں۔ ’الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف اور کرپٹ پریکٹسز سے پاک الیکشن کا انعقاد کروائے۔ آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔‘
سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ ’تمام ادارے اور اتھارٹیز الیکشن کے انعقاد میں الیکشن کمیشن کی معاونت کی پابند ہیں۔ بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا حتمی نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن 218 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لا کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے الیکشن کا شفاف انعقاد یقینی بنا سکتا ہے۔‘
جمعرات کو عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے ریفرنس پر سماعت مکمل کرتے ہوئے رائے محفوظ کی تھی۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں قرار دیا ہے کہ بیلٹ پیپر کا خفیہ رہنا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ووٹ کی شناخت کرنے کا طریقہ کار وضع کر سکتا ہے۔
صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی تھی تاہم پیر کو رائے دینے کے لیے پانچ رکنی بینچ کے بجائے تین رکنی بینچ کورٹ روم میں آیا جس میں چیف جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن موجود تھے۔
چیف جسٹس نے صدارتی ریفرنس پر رائے سناتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس بھیجا تھا۔ جس میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا سینیٹ انتخابات آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت ہوتے ہیں یا نہیں؟
چیف جسٹس نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے چار ایک کے فرق سے یہ رائے دی ہے جبکہ جسٹس یحیی آفریدی نے رائے دینے سے اختلاف کیا ہے۔ وہ اختلافی نوٹ لکھیں گے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس عدالت کی رائے ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین اور قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی بنائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ کو اختیار ہے کہ وہ آرٹیکل 226 میں ترمیم کرے۔
عدالت نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 218 الیکشن کمیشن کو اختیار دیتا ہے کہ وہ شفاف الیکشن کے انعقاد کروائے۔ تمام ادارے اس کے ساتھ تعاون کے پابند ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ عدالت پہلے ہی ایک کیس نیاز احمد بنام ریاست قرار دے چکی ہے کہ بیلٹ پیپر کا خفیہ ہونا ہمیشہ کے لیے نہیں۔ اس لیے الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کو بروئے کار لائے اور بیلٹ پیپر کی شناخت کا طریقہ کار وضع کرے۔

’صدارتی آرڈیننس ختم‘

سپریم کورٹ کی رائے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر قانون دان اکرام چوہدری نے اردو نیوز کو بتایا کہ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہی ہوں گے۔
’آئین کے آرٹیکل 226 میں الیکشن کا خفیہ ہونا یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے بعد تو الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہمیشہ سے یہی تھے کہ وہ انتخابات کو شفاف بنانے کے اقدامات کرے۔‘
انھوں نے کہا کہ اب سینیٹ الیکشن کے حوالے سے جاری کیا گیا صدارتی آرڈیننس بھی ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے سینیٹ کے حالیہ انتخابات خفیہ ہی ہوں گے۔

ریفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرنے والے وکیل رضا ربانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے بڑی واضح ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہیں۔ اس لیے تین مارچ کو ہونے والے انتخابات خفیہ بیلٹ پیپر پر ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بیلٹ پیپر کی سیکریسی کے حوالے سے ہمارا موقف نہیں مانا لیکن سو دوسری باتیں مانتے ہوئے ان انتخابات کو آئین کے تحت قرار دیا ہے۔
رضا ربانی نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ قانون کے تحت شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے تاہم ووٹ کی شناخت کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس کا تعین تفصیلی رائے سامنے آنے کے بعد ہی بات ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے 23 دسمبر 2020 کو صدر مملکت کے ذریعے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی کہ آئین کے آرٹیکل 226 کی تشریح کی جائے کہ آیا سینیٹ انتخابات اس آرٹیکل کے تحت ہوتے ہیں یا پھر الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت ہوتے ہیں۔
ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سینیٹ انتخابات کا طریقہ کار آئین میں واضح نہیں ہے۔ سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے، سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہوسکتا ہے اور اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی۔
ریفرنس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کی تھی جبکہ پاکستان پیپپلز پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین، پاکستان مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام ف، جماعت اسلامی پاکستان، پاکستان بار کونسل، سندھ بار کونسل سمیت کئی افراد انفرادی حیثیت میں فریق بنے۔
اٹارنی جنرل نے اس ریفرنس میں طویل دلائل دیے۔ انھوں نے موقف اپنایا کہ عام انتخابات اور سینیٹ انتخابات میں فرق ہوتا ہے۔ عام ووٹر فری ووٹر ہوتا ہے جبکہ سینیٹ انتخابات میں ووٹر ایم پی اے یا ایم این ہوتا ہے جو پارٹی پالیسی کا پابند ہوتا ہے اس لیے اسے فری ووٹر نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا طریقہ کار اپنایا جائے کہ اگر پارٹی سربراہ چاہے تو وہ چیک کر سکے کہ کون سے ایم پی اے یا ایم این نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ڈیپ سٹیٹ کو تو خفیہ بیلٹ پیپر تک بھی رسائی ہوتی ہے۔ اگر بیلٹ پیپر اوپن کر دیا گیا تو ڈیپ سٹیٹ ارکان پارلیمنٹ کو بلیک میل کرے گی۔
الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ میں اس حوالے سے دو ٹوک موقف اپنایا اور اپنے جواب میں بتایا کہ سینیٹ انتخابات خفیہ ہی ہیں اور آئین میں ترمیم کیے بغیر اوپن بیلٹ کے ذریعے انعقاد ممکن نہیں ہے۔
چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے کئی مواقع پر اہم ریمارکس سامنے آئے۔ چیف جسٹس کا کئی مواقع پر کہنا تھا کہ جب سپریم کورٹ کے سامنے ایک ریفرنس آ گیا ہے تو عدالت اس پر اپنی رائے ضرور دے گی۔ ایک موقع پر انھوں نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ پارلیمان کا اختیار استعمال نہیں کرے گی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے متعدد بار الیکشن کمیشن کے کردار پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ اس نے کرپٹ پریکٹسسز روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے؟ الیکشن کمیشن ایک سویا ہوا ہاتھی ہے جسے متعدد بار جگانے کی کوشش کی ہے لیکن وہ جاگ نہیں رہا۔
ریفرنس کی سماعت کے دوران ہی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کے لیے آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کی لیکن اس پر ووٹنگ نہ ہو سکی۔ دوسری جانب حکومت نے اوپن بیلٹ کے حوالے سے صدارتی آرڈینینس بھی جاری کیا۔ آرڈیننس کو الیکشن ترمیمی آرڈیننس 2021 نام دیا گیا جبکہ آرڈیننس کو سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے سے مشروط کیا گیا۔ آرڈیننس کے مطابق اوپن ووٹنگ کی صورت میں سیاسی جماعت کا سربراہ یا نمائندہ ووٹ دیکھنے کی درخواست کرسکے گا۔
آرڈیننس میں واضح کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ سے سینیٹ انتخابات آئین کی شق 226 کے مطابق رائے ہوئی تو خفیہ ووٹنگ ہوگی اور اگر عدالت عظمیٰ نے سینیٹ انتخابات کو الیکشن ایکٹ کے تحت قرار دیا تو اوپن بیلٹ ہوگی۔
سپریم کورٹ میں اس آرڈینینس کو بھی چیلنج کیا گیا لیکن عدالت کا کہنا تھا کہ وہ صدارتی آرڈینینس جاری کرنے کا صدر کے اختیار کو ختم نہیں کر سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.