واٹس ایپ پہ بیماری پوچھنے والے مفتے اور دوسرے تیمار دار

واٹس ایپ پہ بیماری پوچھنے والے مفتے اور دوسرے تیمار دار

Spread the Story
  • 213
    Shares

‘او بھائی تجھے کچھ نئیں ہوا، اٹھ شابا، کھڑا ہو، کیا منحوسوں کی طرح بستر میں لیٹا ہوا ہے۔ تو بیمار ہی اس لیے ہوا ہے کہ ہر وقت پڑا رہتا ہے۔ اٹھ تھوڑا چل پھر، فریش ہوا کھا۔’

‘چل باہر کا چکر لگا کے آئیں، دیکھ کیسے دو منٹ میں ساری بیماری شیماری اڑتی ہے۔ عجیب بندہ ہے! او تجھے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں! یہ رپورٹیں، ڈاکٹر، سب بکواس ہے۔ ایویں ڈرامے بازیاں ہیں ان لوگوں کی، تو بیمار نہیں ہو گا تو یہ روٹی کدھر سے کھائیں گے؟ سب سے بڑی بات ہے رپوٹیں غلط بھی ہو سکتی ہیں۔ لیبارٹریوں کا بھروسہ کیا ہے، کوئی پتہ نہیں تیرے سیمپل کا رزلٹ کسی اور کو دے دیا ہو۔ وہ اس دن اخبار میں پڑھا نہیں تھا؟ جتنا ہسپتالوں کے چکر لگائے گا اتنا ذلیل ہو گا۔ چل اٹھ شابا۔’

آپ کو چاہے نمونیا ہوا پڑا ہو، کالی کھانسی ہو، اللہ نہ کرے کوئی اور خطرناک بیماری ہو، اس طرح والے تیمار دار نے آپ کو بخشنا نہیں ہے۔ تازہ ہوا چاہے ٹھنڈی ہو، مٹی والی ہو، آپ کی صحت مزید تباہ ہو جائے لیکن انہوں نے آپ کو گھما کر لے کے آنا ہے واپس، پھر پوچھنا بھی ہے ‘ہاں دیکھ اب، پڑا نا فرق؟ بس اتنی سی بات تھی۔’ اس طرح کے لوگ صرف کرونا سے یرکتے ہیں۔ فون پہ ہی ٹھنڈے ہو جائیں گے ‘اچھا! چل یار ٹھیک ہو جا تو بناتے ہیں پروگرام، کر کر تو ریسٹ کر۔’ 

دوسری قسم کے تیماردار ہمارے سرائیکی علاقے میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ آپ کو ایک آدھ دن ایویں دو چار چھینکیں آئی ہوں گی، یہ اتفاقا گھر ملنے آئے ہوں گے اور انہیں پتہ لگے گا کہ آپ کو نزلہ ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے، چیک کریں۔

‘ہائےےےے کیسی پیلی پٹک شکل بنا لی ہے بیٹا تم نے، ادھر آگے ہو، ماتھا چیک کراؤ، اوئے ہوئےےے تمہیں تو  بڑا تیز بخار ہو رہا ہے۔ ٹانگیں دیکھو اپنی، بازو دیکھو، پتلے چوہے جیسے ہو رہے ہیں۔ بیٹا کھانا باہر کا کھاتے ہو یا گھر کا؟ کیسی اتری ہوئی سی شکل ہو گئی میرے شہزادے کی۔ آنکھیں دیکھو، یہ کالے سیاہ حلقے پڑے ہوئے ہیں، کوئی ضرورت نہیں ہے کالج جانے کی، ہمارے وسیم کو بھی پچھلے مہینے ہوا تھا بخار، پورا ایک ہفتہ میں نے چھٹی کرائی، اب دیکھو ماشااللہ، کھلی ہوئی شکل ہے۔ بیٹا تم سگریٹ تو نہیں پیتے؟’ (جیسے آپ کو ہی بتانا ہے!)

پھر تیمار داروں میں سے ایک وہ ہوتے ہیں جنہیں آپ کی بیماری کا جیسے ہی پتہ لگتا ہے انہیں کوئی خواب یاد آ جاتا ہے۔ ‘میں نے پچھلے ہفتے خواب میں دیکھا کہ چاچو چھت پہ کھڑے ہوئے ہیں، بڑی سی چیل آتی ہے، ان کے دونوں کان اپنے پنجوں میں پکڑتی ہے اور نا انہیں اڑا کے دور لے جاتی ہے۔ میں بتانا بھول گئی بس، آپ صدقہ نکالیں فورا، خیرات کریں، صدقے میں بڑی طاقت ہوتی ہے، آئی بلاؤں کو ٹال دیتا ہے، وہ چیل والا خواب بس میں بھول ہی گئی، ابھی یاد آیا۔’ (بھائی ہم اتنے ہی پیارے ہیں تو سو دو سو کا صدقہ فورا جیب سے کر دینا تھا، اب بیمار کی پائنتی پہ بیٹھ کر یہ کیا ریڈیو خوابستان چالو کر دیا ہے!)

ابھی جو تیماردار سب سے عام قسم کے ہوتے ہیں ان میں سے ایک ٹائپ وہ ہے جو بیماری کا سنتے ہی نسخہ بتانا شروع کر دیتا ہے۔ ‘اچھا، تو خون میں ریڈ بلڈ سیل کم ہیں۔ بھائی جان آپ پئیں چقندر کا جوس، بیچ میں گاجر ملا لیں، تھوڑے سے کینو بھی ڈال لیں، اوپر کالی مرچ اور ایسے ذرا سا نمک، اوئے ہوئے ہوئے، وہ لالیاں آئیں گی نا منہ پہ، کہیں سے لگے گا نئیں کہ یہ والا آپ کا منہ ہے۔ بڑی طاقت رکھی ہے بھائی جان اللہ میاں نے سبزیوں میں، بڑی شفا ہے۔ آپ ایک بار ٹرائے تو کریں، اچھا یہ نہیں ہوتا تو کالے بکرے کی کلیجی بھون کے کھائیں، اس میں ذرا سا ادرک کا پاؤڈر چھڑک لیں، ذائقے کا ذائقہ ہو جائے گا، خون تو ایسے بنے گا کہ سوچ ہے آپ کی۔ یہ منو کی دفعہ آپ کی بھابھی کے ساتھ یہی پرابلم ہوا تھا، قسم لے لیں بھائی جان ایک ہفتے میں ٹانگوں پہ کھڑی ہو گئی تھی۔’ (سرکار، کم از کم زچگانہ صحت کے نسخے تو ہر جگہ نہ اپلائے کریں!)

یہ قسم سب سے خطرناک ہوتی ہے۔ یہ آپ کے سرہانے میت والا منہ بنا کے کھڑے ہو جائیں گے۔ ‘وڈے پائین کے سسر کو اللہ بخشے یہی تکلیف ہوئی تھی۔ یہ جیسے آپ لیٹے ہوئے ہیں نا، بس شام کو مسجد سے گھر آئے، کہنے لگے وضو کرتے میں چک پڑ گئی ہے۔ بس جی لیٹ گئے۔ یہ اسی کروٹ پہ لیٹے تھے جو آپ کا پوز ہے نا، بڑی دوا دارو کی، دو کو ہفتے رہے چارپائی پہ، فیر بس بچوں کے کندھوں پہ قبرستان کا ای منہ دیکھا۔ بڑے خوش نصیب تھے جی، ماشااللہ چار بیٹے، پانچ بیٹیاں ہیں۔ سارے بڑے نیک پاک، نمازی! پائین میں تو کہتا ہوں ایک پھیرا ادھر لاہور کا مار لیں، وڈے ہسپتال جا کے ایکسرا نکلوائیں، یہ چک جو ہے یہ کوئی پتہ نئیں حرام مغز میں کوئی خرابی ہو، ایک ڈاکٹر نے کہا بھی تھا وڈے پائین کے سسر کو، ان کے دماغ میں پانی پڑ گیا ہے، کسی نے سنی ہی نہیں۔ اللہ آپ کو صحت دے جی۔ سلاما لیکم! 

گوگل جب سے عام ہوا ہے ڈاکٹر بھی گھر گھر پائے جاتے ہیں۔ آپ کی ‘آئے’ نکلی نہیں اور اگلے دوائیوں تک پہنچ جائیں گے۔ نہ صرف دوائیاں بلکہ پھر ان کے جو سائیڈ ایفیکٹس ہوں گے انہیں ٹھیک کرنے کے لیے بھی مزید دوائیاں ڈاکٹر گوگل سے ہی پوچھی جائیں گی۔ یہ ہسپتال بھی آپ سے ملنے آئیں گے تو دواؤں کو ان کے نام سے نہیں، فارمولے سے پکاریں گے۔ ‘اچھا، آپ ڈکلوفینک سوڈیم لے رہے ہیں، یار یہ معدے پہ اثر ڈالتی ہے، ڈاکٹر سے پوچھ کے ڈکلوفینک پوٹاشیم لے لیں، اوہو، اچھا ساتھ اومیپرازول بھی لکھی ہوئی ہے، چلیں پھر تو گزارا چل جائے گا، لیکن یہ ڈیکسامیتھازون تو سٹیرائیڈ ہے، یہ کیوں دی ہے ڈاکٹر نے؟ یہ تو گردے اڑا کے رکھ دیتی ہے، اچھا تین دن کے لیے ہے، چلیں خیر ہے، علاج بھی تو کرنا ہے۔’ یہ لوگ اسی طرح ہاں نہیں میں آپ کی ہوا نکال کے چلے جائیں گے۔ 

کچھ تیماردار خالص واٹس ایپی ہوتے ہیں، فون پہ بھی کال نہیں کریں گے، ٹوٹل مفتوں مفتی! آپ تکلیف میں پڑے ہوئے ہیں، یہ 20 کلومیٹر دور گھر سے ویڈیو کال کریں گے۔ ‘میں نے کہا بھائی جان کا حال پوچھ لوں۔ بھائی جان دیسی چوزے کی یخنی بنوا کے پئیں اور ساتھ میں تھوڑے بہت چاول کھا لیں۔ روٹی سے پرہیز کریں۔ میں انشااللہ جلد حاضر ہوتا ہوں۔ بچے ابھی گئے ہوئے ہیں، گاڑی آتی ہے تو میں دیکھتا ہوں۔ اور کچھ بھائی جان میرے لائق؟ ہیں پھر؟ چلیں ملتے ہیں۔’ ماما آدھے گھنٹے کی دوری پہ گھر ہے تیرا، خود بنوا کے لے آ یخنی! ایہڈے تسی ریندے نئیں حال چال لین آلے! 

عیادت کے لیے ایک دو بندے جائیں تو سمجھ میں آتا ہے۔ جو قسم اب بتائی جائے گی، یہ والے تیمار دار بمعہ اہل و عیال ہسپتال جانے پہ یقین رکھتے ہیں۔ ایک بچہ کونے میں کھڑا شرما رہا ہو گا، ایک مریض کی پہیوں والی ٹیبل کو ہلکے ہلکے چلا کے دیکھ رہا ہو گا، ایک کو آپ ہی کے پاس سے اٹھا کے جوس کا ڈبہ دیا جائے گا، پھر حال پوچھیں گے وہ آپ کا۔ پھر یہ بتا دیا جائے گا کہ اصل میں آج ان سب کی چھٹی تھی تو ان کی امی نے کہا کہ آپ کو پوچھ آتے ہیں، بس یہاں سے وہ ساتھ والے پارک چلے جائیں گے، بچے ہیں، ان کا دل بہل جائے گا۔ بندہ پوچھے کہ یار میری نہیں تو بچوں کے لیے ہی حیا کر لو، چھتیس قسم کے جراثیم ہوتے ہیں ہسپتالوں میں، کیا اخیر آ جاتی اگر انہیں دوسرے پھیرے میں پارک لے جاتے؟ 

ایک بڑی خاص قسم وہ ہے تیمار داروں کی جنہیں آپ کے پاس بیٹھتے ہی وہ تمام علامات اپنے اندر محسوس ہوں گی جو آپ بتا رہے ہیں۔ یا تو پہلے وہ سب ان کے ساتھ ہو چکا ہو گا، یا انہیں لگے گا کہ عین اس وقت یہی بیماری ان کے ساتھ بھی چل رہی ہے۔ ڈائیلاگ ملاحظہ کریں۔ ‘یہ یہ یہ، بالکل یہی، جیسے آپ نے بتایا نا، کمر کے نیچے سے درد نکل کے ایڑھی تک جاتا ہے، پھر واپس نہیں آتا، نئی لہر جاتی ہے، تین لہروں کے بعد لگتا ہے جیسے دماغ بند ہو گیا ہے، ہے نا؟ بالکل یہی ہوا تھا پچھلے سال میرے ساتھ، ڈاکٹر نے بتایا تھا شئیاٹیکا ہے، اچھا آپ نوٹ کریں، درد یہیں سے اٹھ رہا ہے نا، ہاں ں ں، چھوڑیں جی ادھر کے چکر، شئیاٹیکا ہی ہے، یہ لیں پورا نسخہ میں دیتا ہوں، اللہ کے فضل سے بڑا آرام ہے۔’ انہی میں سے دوسری قسم وہ ہو گی جنہیں آپ کے پاس سے اٹھتے اٹھتے خود کے شیاٹیکے کا یقین ہو جائے گا۔ 

آخری قسم تیمار داروں کی غذا سے علاج پہ یقین رکھتی ہے یا آلٹرنیٹ میڈیسن پر۔ وہ تین چار فروٹ کے تھیلوں سے لدے پھندے آئیں گے، آپ کیلا تک نہیں لے سکتے وہ خربوزے بھی لائیں گے۔ ان کی پہلی کوشش یہ ہو گی کہ آپ کسی طرح ان کے خلوص سے مجبور ہو کے پھل کھانا شروع کر دیں، ڈاکٹر جائے بھاڑ میں۔ اگر آپ نہیں کھا رہے تو پھر وہ بتائیں گے کہ اسی مرض میں ان کے ابا نے بیلاڈونا اور نکس وامیکا کھائی تھی، ایک ہفتے میں بیماری جڑ سے غائب تھی۔ ہومیوپیتھی پہ بھی اگر آپ کا ایمان نہ ہوا تو پھر اسطوخودوس، خمیرہ گاؤزبان، دماغونہ یا اسی قسم کی حکیمی دواؤں پہ راغب کریں گے، پہلی خوراک خود لانے کا وعدہ کریں گے اور اگر آپ نے بھولے سے ہاں کہہ دی تو بس پھر راستہ ہی دیکھیں گے آپ ان کا! 

یہ تو وہ اقسام ہیں جو فی الوقت میرے دماغ میں ہیں۔ اگر آپ کا پالا کسی اور نئی قسم کے تیمار دار سے پڑا ہے تو کمنٹس میں ضرور بتایے گا۔ و اذا مرضت فھو یشفین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: اس تحریر میں مذکور ادویات صرف برائے مزاح تھیں، کسی بھی بیماری کی صورت میں اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیجیے۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.