کیا ریٹائرمنٹ آدمی کو بےنقاب کر دیتی ہے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان میں بہت کم لوگ ایسے ہیں ریٹائرمنٹ کے بعد جن کے حصے میں پنشن کے ساتھ عزت بھی آ تی ہو۔ سوچتا ہوں کہ معاملہ کیا ہے؟ کیا یہ ریٹائر منٹ ہے جو آدمی کو بے نقاب کر دیتی ہے یا پہلے ہی کوئی حجاب نہیں ہوتا، بس زبانوں پر پہرے ہوتے ہیں جو اٹھ جاتے ہیں تو خلق خدا فسانے سناتی ہے؟

یا پھر یہ اس معاشرے کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے اور یہ زوال کی اس انتہاء کو پہنچ چکا ہے کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے اختلاف کرنے اور ریٹائرمنٹ کے بعداحترام دینے کا عادی نہیں رہا؟

کتنے ہی صاحب منصب ایسے گزرے، گماں ہوتا تھا یہ نہ رہیں تو موسم کروٹ لینا بھول جائیں، دن کے بعد رات نہ اترے اور رات کے بعد دن نہ طلوع ہو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا زمانے کی گردش ان کی جنبش ابرو کے تابع ہے اور بلبل انہیں دیکھ کر نغمے سناتی ہے۔ یقین ہونے لگتا ہے کہ پھولوں میں خوشبو اور قوس قزح میں سارے رنگ انہیں کی پاکی داماں کے ہیں۔ یہ نہ ہوں تو کائنات تھم جائے، چاند اپنی چاندنی کھو بیٹھے اور تارے اپنی لو سے محروم ہو جائیں۔

لیکن یہ رجال کار اپنی ریٹائرمنٹ کے تیسرے ہی دن فعل ماضی مطلق مجہول بن جاتے ہیں۔ کوئی انہیں یاد نہیں کرتا۔ قصیدہ گو اگلے ہی روز نئے درباروں سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور داد سخن پاتے ہیں۔ از سر نو دیوانوں کے دیوان لکھے جاتے ہیں کہ یہ والے صاحب اگر نہ ہوں تو موسم کروٹ لینا بھول جائیں اور تاروں کی لو ختم ہو جائے۔ کسی کو یاد بھی نہیں ہوتا کہ ایسے ہی خوبیوں والے ایک صاحب ابھی چند دن پہلے ہی ریٹائر ہوئے ہیں۔

لوگ اپنے منصب پر ہوں تو ان کے زہد و تقوے کی داستانیں کہی جاتی ہیں اور گماں گزرتا ہے ریٹائر ہو کر صاحب ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کسی ڈیم کے کنارے پہرہ دے رہے ہوں گے اور روکھی سوکھی کھا کر اللہ کا شکر ادا کر رہے ہوں گے۔ لیکن وہ ریٹائر ہو جائیں تو دہائی دی جاتی ہے کہ جاتے جاتے صاحب مراعات کا دریا ساتھ لے گئے۔ پھر ایک لمبی چوڑی فہرست سامنے آ جاتی ہے کہ یہ مراعات کیسے عطا کی گئیں اور خلق خدا یہ تفصیل پڑھ کر حیرت زدہ رہ جاتی ہے کہ وطن عزیز میں ایک طرف لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور دوسری جانب بعض حضرات کو یوں نوازا جاتا ہے جیسے مال غنیمت کی تقسیم ہو رہی ہو۔

صاحب منصب جب کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے تو گماں گزرتا ہے ملک میں گندم کی فصل اچھی ہونا بھی اس کی نظر کرم کا اعجاز ہے اور وطن عزیز پر سورج اس کی اجازت سے طلوع ہوتا ہے۔ اسے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے، لیکن ریٹائرمنٹ کے دو ماہ بعد ہر صاحب منصب کی مقبولیت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ ڈرائنگ روم سے نکلیں تو علاقہ غیر شروع ہو جائے۔

 عروج کے زمانوں کی غلط فہمیاں اوڑھ کر لوگ یہ سوچ کر سیاسی جماعت بناتے ہیں کہ وہی قوم کا نجات دہندہ ہیں اور نرگس بےچاری ہزاروں سال سے رو رہی ہے اس لیے اب میرے جیسے دیدہ ور کو میدان سیاست میں ملک اور قوم کی رہنمائی کرنی چاہیے لیکن اب عالم یہ ہوتا ہے کہ سیاسی جماعت تو بن چکی لیکن قائد انقلاب کونسلر کی نشست نہیں جیت سکتے اور پڑوسیوں کو بھی معلوم نہیں ہوتا قائد انقلاب کی سیاسی جماعت کا نام کیا ہے۔ ریٹائر منٹ سے پہلے بھلے جانثار ہوں اور بے شمار ہوں، ریٹائرمنٹ کے بعد دو چار بھی نظر نہیں آتے۔

منصب کے جاہ وجلال کے زمانوں میں عالم یہ ہوتا ہے کہ جنبش ابرو سے سیاسی صفیں درہم برہم ہو جاتی ہیں اور خام خیالی للکارتی ہے کہ ’میں، میں ہوں‘۔ ریٹائرمنٹ کے بعد مگر کوئی ’ہم خیال‘ تک خبر گیری کو بھی نہیں جاتا کہ مزاج ہی پوچھ آئے۔ وقت کی یہ ساری تقسیم پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ سدا کی بادشاہی صرف سوہنے رب کی۔ باقی سب مغالطے میں رہتے ہیں یہاں تک کہ وقت کروٹ لیتا ہے اور ان کے سارے مغالطے دور کر دیتا ہے۔

سوال مگر محض فرد کا نہیں، سوال اس معاشرے کا بھی ہے۔ یہ کیسی گھٹن ہے کہ صاحب منصب جب تک منصب پر ہے اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ مختلف قوانین کے ذریعے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ یہ رویہ مہذب دنیا میں اجنبی ہے۔ خود اسلامی روایات میں اس رویے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اسلامی تہذیب میں صاحب منصب کی غلطی پر اس کو وہیں ٹوک دینے کی گنجائش موجود تھی اور یہی خیر خواہی تھی۔ تضحیک اور تذلیل ایک الگ چیز ہے جسے گوارا نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم نے توصاحب منصب کو جائز تنقید سے بھی ماورا قرار دے دیا ہے جس کے نتیجے میں ایک گھٹن اور ابن الوقتی کا ماحول معاشرے میں رواج پا چکا۔ اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

چنانچہ جیسے ہی کوئی آدمی ریٹائر ہوتا ہے، خوش فہمیوں کا محل بھی ساتھ ہی ریٹائرمنٹ لے لیتا ہے۔ وہ ساری باتیں سر محفل ہونے لگتی ہیں جو پہلے کوئی سرگوشیوں میں بھی نہیں کر پاتا تھا۔ پھر وہ دھول اڑتی ہے کہ الامان۔ یوں لگتا ہے بس ایک ریٹائرمنٹ کی دیر ہوتی ہے اور بندہ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ تو کیا یہ ریٹائرمنٹ ہوتی ہے جو آدمی کو بے نقاب کرتی ہے؟ یا یہ مجبور سماج کا خوف ہوتا ہے جو اسے ریٹائر منٹ سے پہلے بات کرنے نہیں دیتا؟

ہر دو صورتوں میں یہ معاملہ قابل توجہ ہے۔ ایک متوازن، مثبت اور بالغ نظر سماج کی تشکیل کے لیے ضروری ہے اس رویے اور اس کے محرکات پر غور کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.