کشمیر کمیٹی: شہریار آفریدی جواب دیں گے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

کشمیر کمیٹی کی افادیت کیا ہے؟ کیا یہ رویت ہلال کمیٹی کی طرح بعض اعلی حضرتوں کو اکاموڈیٹ کرنے کے لیے سیاسی رشوت اور مال غنیمت ہے یا اس کا کوئی فائدہ بھی ہے؟

ایک طویل عرصہ مولانا فضل الرحمٰن اس کمیٹی کے سربراہ رہے، قریبا دس سال۔ روایت ہے کہ کشمیر اور کرکٹ میں مولانا کی دلچسپی اور سمجھ بوجھ ایک جیسی ہے۔ لیکن وہ ایک طویل عرصہ اس کے سربراہ رہے۔ ان دس سالوں میں کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کا سوال پوچھا جائے تو مولانا کے وابستگان خفا ہو جاتے ہیں۔

وزارت خزانہ کے اعداد و شمار البتہ بتاتے ہیں کہ ان دس سالوں میں کشمیر کمیٹی کے لیے 47 کروڑ روپے مختص کیے گئے جن میں سے اس نے 46 کروڑ روپے خرچ کیے۔ 35 لاکھ روپے تفریح و تحائف کی مد میں برباد کیے گئے۔ راز کی یہ بات جاننے کے لیے ایک خصوصی کمیشن بٹانا چاہیے کہ 73 کے آئین کے تناظر میں کشمیر کمیٹی کے لیے تحائف اور تفریح کی مد میں فنڈز رکھنے کی حکمت کیا ہے؟

ان دس سالوں میں کشمیر کمیٹی نے مبلغ 24 اجلاس فرمائے اور 64 پریس ریلیز جاری کیں۔ یعنی ہر پانچ ماہ کے بعد ایک اجلاس اور قریب ہر دو ماہ کے بعد ایک پریس ریلیز۔ اجلاس تو تشریف آوری اور تشریف جاوری کے سوا کچھ نہیں ہوتیں۔ اصل بات یہ ہوتی ہے کہ ان کا حاصل کیا ہے۔ تو ان کا حاصل یہ 64 پریس ریلیزیں تھیں۔ یعنی اس قوم نے ان 64 پریس ریلیزوں پر 46 کروڑ روپے خرچ کیے۔ اس کے علاوہ ان دس سالوں میں کشمیر کمیٹی نے کوئی کام کیا ہو تو مولانا فضل الرحمٰن اس قومی راز سے پردہ اٹھا کر ممنون فرما سکتے ہیں۔

یہ منصب جب مولانا کے پاس تھا تو ان پر بہت تنقید ہوتی تھی اور تحریک انصاف اس تنقید میں پیش پیش ہوتی تھی۔ اب تحریک انصاف کی حکومت ہے تو یہ منصب شہر یار آفریدی کے پاس ہے۔ سوال یہ ہے کہ شہریار آفریدی کی مسئلہ کشمیر میں دلچسپی اور اس مسئلے کی مبادیات سے واقفیت کا عالم کیا ہے؟ کیا تحریک انصاف کے پاس کوئی اور آدمی نہیں تھا کہ اتنا اہم منصب اس شخص کو دے دیا جس کی سیاسی کارکردگی کا حاصل بس یہ اقوال زریں ہے کہ ’میں نے جان اللہ کو دینی ہے‘ اور جسے یہ معلوم نہیں کہ ایک اہم موقعے پر ووٹ کیسے دیتے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کشمیر کمیٹی پارلیمانی کمیٹیوں میں سے اہم ترین کمیٹی ہے۔ یہ وہ واحد کمیٹی ہے جس کے سربراہ کا درجہ وفاقی وزیر کے برابر ہوتا ہے۔ یہ وہ واحد کمیٹی ہے جس کے سربراہ کو وزرا کالونی میں رہائش دی جاتی ہے۔ چیئر مین صاحب کو ایک 1300 سی سی کار ملتی ہے اور 360 لیٹر پٹرول ماہانہ مفت میں دیا جاتا ہے۔ دس سال مولانا نے ان مراعات کے مزے لوٹے اور اب اس منصب پر شہر یار آفریدی کے مزے ہیں۔ سوال وہی ہے کہ کارکردگی کیا ہے؟ یہ بندر بانٹ ہے یا ذمہ داری؟

دس سال مولانا فضل الرحمٰن نے کشمیر کمیٹی کے صدقے وفاقی وزیر کے برابر سٹیٹس انجوائے کیا اور وزرا کے لیے مختص کالونی میں رہائش رکھی۔ کارکردگی کا سوال پوچھیں تو جواب میں طنز یہ قوالی شروع ہو جاتی ہے۔ اب شہر یار آفریدی ہیں، کوئی ذرا پوچھ کر تو دکھائے ان سے کہ جناب کارکردگی کیا ہے شام تک تحریک انصاف کا سوشل میڈیا ونگ آپ کو ادھیڑ کر رکھ دے گا۔ کشمیر کمیٹی کا ایک مینڈیٹ ہے۔ اس منصب کے مزے لینے والوں کو اس مینڈیٹ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنی کارکردگی کا جواب تو دینا ہے۔ سوال کرنے والے کو اپنے اپنے حصے کے بے وقوفوں کی یلغار سے خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔

قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر اس کمیٹی کی ذمہ داریوں کی ایک فہرست موجود ہے۔

پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنا اور اس معاملے کو متعلقہ فورمز پر اٹھانا۔ مولاانا کے دس سالوں میں اور اب شہر یار آفریدی کے دور میں اس کمیٹی نے کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر کوئی دس صفحوں کی رپورٹ بھی جاری کی ہو تو بتائیے۔

اس کمیٹی کی دوسری ذمہ داری اندرون ملک اور بیرون ملک مسئلہ کشمیر پر آگہی پیدا کرنا ہے۔ اس آگہی کے لیے جب سے یہ کمیٹی بنی ہے اس نے کوئی کام کیا ہو توہم طالب علم جاننا چاہیں گے۔

اس کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے معاملات کو وقتا فوقتا اپنی پارلیمان کے سامنے رکھے۔ سوال یہ ہے کیا آج تک اس کمیٹی نے اپنی کوئی سفارش پارلیمان کو پیش کی؟

اس کی ذمہ داریوں میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ مسئلۂ کشمیر پر دنیا میں رائے عامہ ہموار کرے۔ اقوام متحدہ کی قرارددادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کے حصول کے لیے کشمیریوں کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی مدد دینا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے اتنا بڑا کام کیا یہ کمیٹی کر سکتی ہے؟ یہ اس کمیٹی کے کرنے کا کام ہے جس کے چیئر مینوں کے لیے انگریزی زبان میں مسئلہ فیثا غورث بن جاتی ہو یا یہ وزارت خارجہ اور آپ کے سفیروں کے کرنے کا کام ہے اور آپ نے کمیٹی کی ذمہ داریوں کے نیچے چند اقوال زریں لکھ کر بس فائل کا پیٹ بھر رکھا ہے؟

کارکردگی کا یہ عالم ہے کہ بجائے اس کے کہ یہ کوئی ڈھنگ کا کام کرے یہ اپنے ہی نامعقول ٹویٹس کی وضاحتیں کرتی پائی جاتی ہے۔ سید علی گیلانی کے بارے میں کشمیر کمیٹی کا وضاحتی ٹویٹ تو تسلیم کر لینا چاہیے لیکن اس کی ناتراشیدہ عبارت کا کیا کریں۔

وضاحتی عبارت میں لکھا ہےLet me make it clear.  اور ساتھ ہی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ ٹویٹ چیئر مین شہر یار آفریدی نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ پھر کمیٹی کے نام سے ٹویٹ کون کرتا ہے؟ کون ہے جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایک پارلیمانی کمیٹی کے ٹویٹ میں Let me کی بجائے Let us کے الفاظ استعمال ہونے چاہییں۔ اس حد تک غیر پیشہ ورانہ رویے کے حامل نا اہل لوگ اتنی اہم کمیٹی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ چلا رہے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ادارے کے ٹویٹ میں Let me جیسی نرگسیت نہیں ہوتی۔

ایک ذمہ دار پارلیمانی کمیٹی کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہے اور حال یہ ہے کہ وہاں عام لوگوں سے الجھا جا رہا ہوتا ہے اور ایسے ٹویٹس ری شیئر کیے جا رہے ہوتے ہیں جن میں شہر یار آفریدی پر تنقید کو حب الوطنی کے تقاضوں کی نفی قرار دیا گیا ہوتا ہے۔ یہ پارلیمانی کمیٹی ہے اور اس میں دیگر جماعتوں کی بھی نمائندگی موجود ہے۔ کیا ان تمام اراکین نے اجازت دے رکھی ہے کہ کمیٹی کے نام پر ایسے غیر ذمہ دارانہ ٹویٹ کیے جائیں۔

ساری بحث کو ایک سوال میں سمیٹتے ہیں: سوال یہ ہے کہ کشمیر کمیٹی کی کارکردگی کیا ہے؟ ڈھنگ کا کوئی ایک کام؟ کیا شہر یار آفریدی جواب دیں گے؟





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.