حفیظ شیخ کو کیوں نکالا؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے

جناب وزیر اعظم کو اگر ٹی وی سے یہ خبر مل چکی ہو کہ انہوں نے حفیظ شیخ سے قلمدان واپس لے لیا ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان ’آنیوں جانیوں‘ پر اب سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

عمران خان کا تبدیلی کا بیانیہ یہ تھا کہ خرابی نیچے نہیں اوپر ہے اس لیے اوپر ایک دیانت دار شخص آ جائے تو نیچے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمیں بتایا جاتا تھا مچھلی اپنے سر سے سڑتی ہے۔ ہمیں یقین دلایا جاتا تھا کرپٹ وزرائے اعظم سے نجات مل جائے اور ایک دفعہ عمران خان کسی بھی طرح  وزیر اعظم بن جائیں پھر نیچے سب ٹھیک ہو جائے گا۔

اس تبدیلی کو حقیقت بنے اب تین سال ہونے کو ہیں۔ ان تین سالوں میں امور ریاست بازیچہ اطفال بن چکے ہیں۔ معاشی بحران شدید تر ہو چکا لیکن کوئی پائیدار  اور طویل المدتی  پالیسی دینے کی بجائے تیسرے سال میں تیسرا وزیر خزانہ میدان میں اتار دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے خرابی اگر اوپر ہوتی ہے تو تبدیلیوں کے جھکڑ نیچے کیوں چل رہے ہیں ؟ مچھلی اگر سر سے سڑتی ہے تو  اصلاح احوال کا تیشہ بار بار اس کے بدن پر کیوں چلایا جا رہا ہے؟

22 سالہ جدوجہد کا سہرا اس اہتمام سے کہا جاتا ہے کہ یہ ایک دیو مالائی داستان معلوم ہوتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے اس جدوجہد کا حاصل کیا ہے؟ تحریک انصاف نے ان دو عشروں میں ایسے کتنے افراد تیار کیے جنہیں رجال کار نہ بھی قرار دیا جا سکے تو کم از کم امور حکومت کا ماہر تو کہا جائے۔ یہ 22 سال تحریک انصاف نے کیا صرف احتجاجی سیاست کی نذر کر دیے یا کوئی تیاری بھی کی کہ اقتدار مل گیا تو معاملات کیسے چلانے ہیں؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، کیا کوئی ایک شعبہ ایسا ہے جہاں تحریک انصاف کے پاس ماہرین اور منصوبہ بندی موجود ہو؟

پہلے اسد عمر کو لایا گیا اور لانے سے پہلے برسوں ان کی معاشی قابلیت کے رجز پڑھے گئے۔ خدا جانے 22 سالہ جد و جہد میں اسد عمر کہاں تھے۔ ہم نے تو پہلی بار ان کا نام اس وقت سنا جب شہر اقتدار کی سرگوشیوں میں آصف زرداری کی رخصتی اور ایک معاشی مسیحا کی آمد کی نوید دی جا نے لگی۔ یہ معاشی مسیحا جناب اسد عمر تھے۔ پھر یوں ہوا کہ چند ہی سالوں میں وہ تحریک انصاف کے ’نظام الملک‘ بن بیٹھے۔

عمران خان صحافیوں کو بتاتے کہ یہ اسد عمر ہیں جو ہمارے لیے 80 لاکھ کی نوکری چھوڑ کر آئے ہیں۔ یہ البتہ نہ ہم پوچھ سکے نہ انہوں نے کبھی بتایا کہ نوکری چھوڑنے کے بعد ان کے ذرائع آمدن کیا ہیں۔ یہ سوال بھی احترام کی راکھ تلے ہی کہیں سلگتا رہ گیا کہ 80 لاکھ ماہانہ کا نقصان کیا کوئی شخص حساب سود و زیاں کے بغیر’فی سبیل اللہ‘ صرف تبدیلی کی خاطر برداشت کر سکتا ہے؟

خیال تھا اسد عمر آئیں گے اور کوئی معاشی انقلاب برپا نہ بھی کر سکے  تو کم از کم معیشت کی سمت ضرور درست کر دیں گے، لیکن چند ہی ماہ میں معلوم ہو گیا ان تلوں میں تیل نہیں۔ معاملہ معاشی مہارت کا نہیں ایک ’پوسٹ ٹروتھ‘ کا تھا۔ پہلی ہی بارش میں سارے رنگ اتر گئے۔ اسد عمر کے بعد تحریک انصاف کے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں تھا جو معیشت دیکھ سکتا چنانچہ مشرف دور میں سندھ کے وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر نج کاری اور پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر خزانہ رہنے والے حفیظ شیخ صاحب کو خزانے کی وزارت کا قلمدان دے دیا گیا اور انہوں نے آتے ہی قوم کو یہ ’بڑی خبر‘ دی کہ معیشت کو  ہم نے نہیں، ہم سے پہلے والے حکمرانوں نے تباہ کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکومت تحمل اور بصیرت سے چلتی ہے، ہیجان اور عجلت سے نہیں۔ معیشت کی دنیا تو نسبتاً زیادہ ٹھہراؤ اور اعتماد مانگتی ہے۔ غیر یقینی صورت حال میں سب سے پہلے سرمایہ بھاگتا ہے۔ یہاں عالم یہ ہے کبھی ندیم بابر اور شبر زیدی آتے ہیں کبھی نکال دیے جاتے ہیں، کبھی اسد عمر آتے ہیں، کبھی حفیظ شیخ تو کبھی حماد اظہر۔ ابھی کل تک یہ عالم تھا کہ اسی حفیظ شیخ کی خاطر تحریک انصاف اس بحران سے دوچار ہوئی کہ پھر اعتماد کا ووٹ لینا پڑ گیا۔ اسی وقت ان سے استعفیٰ لے لیا جاتا تو تحریک انصاف اخلاقی طور پر سرخرو ہو سکتی تھی کہ سینیٹ کا انتخاب ہارنے کے بعد مشیر خزانہ سے استعفیٰ لے کر اس نے ایک شاندار پارلیمانی روایت قائم کر دی ہے۔ لیکن تب  وزیر اعظم نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا اور انہیں کام جاری رکھنے کا کہا اور ابھی ایک ماہ نہیں گزرا کہ اچانک ان سے قلمدان واپس لے لیا گیا۔ اس ہیجان اور افراتفری میں ہم سرمائے اور سرمایہ کار کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

یہ انداز حکومت انتظامی سطح پر بھی مسائل کا باعث بنتا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ نصف درجن آئی جیز بدلے جا چکے ہیں۔ وزیروں کو میڈیا بتاتا ہے کہ عالی جاہ اب آپ وزیر نہیں رہے اور وہ آگے سے بے چارگی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ فیصلے ہی نہیں ان کا جواز بھی غلطی ہائے مضامین بن چکا ہے۔ کل تک کہا جا رہا تھا ملک میں مہنگائی ہے ہی نہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی علمی اور عقلی دلائل دے کر قوم کی تربیت کرنے پر زور دیا جا رہا تھا اور آج بتایا جا رہا ہے کہ جو مہنگائی تھی ہی نہیں اسی مہنگائی کی وجہ سے حفیظ شیخ صاحب کو ہٹا دیا گیا ہے۔

اب تو عمران کو دیکھتے ہیں تو جون ایلیا یاد آتے ہیں:

محبت بری ہے،  بری ہے محبت
کہے جا رہے ہیں، کیے جا رہے ہیں

غالباً وہ شورش کاشمیری تھے۔ ان کے پاس ایک اخبار کے مالک آئے اور کہا شورش صاحب کوئی مشورہ دیجیے۔ اخبار نہیں چل رہا۔ ایڈیٹر، سب ایڈیٹر اور چیف رپورٹر تک بدل چکا ہوں لیکن بات نہیں بن رہی۔  شورش مسکرائے اور کہا: ’پھر ایک دفعہ مالک بدل کر دیکھ لیجیے۔‘





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.