افغان حکومت میں طالبان کی شمولیت ایک چیلنج

Spread the Story
  • 213
    Shares

امریکی انسٹی ٹیوٹ آف پیس کی حال ہی میں شائع کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امن معاہدہ طے پا جاتا ہے اور جنگ ختم ہو جاتی ہے تو افغان حکومت کے ڈھانچے میں طالبان کی شمولیت حکومت اور عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔

پیس انسٹی ٹیوٹ نے پیش گوئی کی ہے کہ امن معاہدے کے بعد 60 ہزار طالبان جنگجوؤں اور ان کے ہزاروں حمایتیوں کو سرکاری ڈھانچے میں شامل کرنا پڑے گا۔

رپورٹ کے مطابق طالبان جنگجوؤں کو اسلحہ چھوڑنے پر رضامند کرنا ممکن نہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ان جنگجوؤں کی شمولیت کا معاملہ امن مذاکرات کے سب سے اہم نکات میں سے ایک ہونا چاہیے۔

امریکی پیس انسٹی ٹیوٹ نے مشورہ دیا ہے کہ طالبان کی اداروں میں شمولیت کی تیاری کی جائے اور اس معاملے کو حل کرنے کے موجودہ طریقوں پر بھی غور کیا جائے۔ ساتھ ہی ادارے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان حکومت کی اس وقت تک حمایت جاری رکھے جب تک ان جنگجوؤں کو افغان حکومت میں ضم کرنے کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔

طالبان جنگجوؤں کی شمولیت کا معاملہ ایک طویل عرصے سے عالمی برادری خاص طور پر امریکہ کی پریشانی کا باعث رہا ہے، جس نے افغانستان کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

2009 کے آخر میں افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکہ کے مقرر کردہ خصوصی انسپکٹر جنرل جان سیپکو نے امریکی کانگریس کو ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ افغان حکومت کے ڈھانچے میں طالبان کو شامل کرنا بہت مشکل اور مہنگا عمل ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اس وقت سے ہی اس اہم معاملے کے لیے منصوبہ بندی کرنا چاہتے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’درحقیقت امن معاہدے کے بعد ہزاروں جنگجوؤں کی حالت زار حکومت اور افغانستان کے عوام دونوں کے لیے بڑی تشویش ہونی چاہیے۔‘

امن مذاکرات کے آغاز کے بعد سے میدان جنگ میں موجود ہزاروں طالبان جنگجوؤں کے مستقبل کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہوا ہے۔ یقیناً اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ کچھ طالبان کمانڈر کبھی بھی امن عمل میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن افغانستان کے اندر موجود کچھ طالبان گروپوں نے طالبان کے نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ موقعے کی مناسبت سے طالبان میں شمولیت اختیار کی تھی۔

طالبان میں شامل ہونے کی ایک اہم وجہ غربت اور محرومی ہے۔ طالبان نے لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے غربت کو استعمال کیا ہے ۔ یقینی طور پر امن کے ساتھ یہ لوگ معاشی سرگرمیوں کی طرف لوٹ آئیں گے اور پرامن زندگی کا سہارا لیں گے۔

طالبان کا ایک حصہ بھی پیٹ کے ہاتھوں مجبور ہے، انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حکومت کسی پر منحصر ہے یا آزاد ہے۔ وہ جنگ کو آمدن کا واحد راستہ سمجھتے ہیں، لہذا طالبان کا یہ حصہ یا تو آزادانہ طور پر جنگ جاری رکھے گا یا پھر القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں کی طرف مائل ہوگا۔

جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ان میں سے کچھ اپنے گاؤں اور آبائی علاقوں کو لوٹ جائیں گے اور جانوروں کی پرورش اور کھیتی باڑی کرتے ہوئے اسی طرح کی زندگی گزاریں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے کسی کو سرکاری محکموں میں ضم ہونے والے 80 ہزار جنگجوؤں کی فکر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ طالبان جنگجوؤں کا ایک قابل ذکر حصہ منظم نظام میں داخل ہو جائے گا، لیکن باقی بچ جانے والے لوگوں کا انتظام کرنا بھی آسان کام نہیں ہے۔

طالبان جنگجوؤں کو ڈی ڈی آر یا ڈی آئی اے جی پروگراموں کی بنیاد پر خود غرضی کی طرف نہیں دھکیلا جا سکتا۔ طالبان رہنماؤں کو یقینی طور پر افغان حکومت کی سکیورٹی فورسز پر اعتماد نہیں ہے، اسی وجہ سے اسلامی فوج بنانے کا معاملہ کئی بار اٹھایا جا چکا ہے۔

تاہم عالمی برادری اور افغان حکومت نے کہا ہے کہ افغان فوج ان کی ریڈ لائن ہے اور افغان فوج کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

اس لیے طالبان کو دوسرا راستہ استعمال کرنا پڑے گا۔ وہ اپنے جنگجوؤں کو باقاعدہ ڈھانچے میں لائیں گے تاکہ باقاعدہ طور پر فوج میں ان کے وفادار موجود ہوں لیکن ایک ایسی فوج جو دنیا کے تجربہ کار فوجی اطالیقوں کی تربیت یافتہ ہے اور وہ اس کی نگرانی کر رہے ہیں، کے لیے ان لوگوں کو برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوگا جو کسی اصول کو قبول نہیں کرتے۔

اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ عوامی فورس قائم کی جائے یا ماضی کی طرح نیم فوجی دستے بنائے جائیں۔ ان دستوں کو بھاری ہتھیار نہ دیے جائیں بلکہ ان کی سویلین زندگی میں واپسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے افغان فوج میں انفنٹری کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

اس بات کا امکان نہیں ہے کہ طالبان کا پورا گروپ امن عمل میں شامل ہوگا، تاہم اب سے طالبان جنگجوؤں کو مربوط کرنے کی حکمت عملی کا محتاط اور وسیع پیمانے پر جائزہ لیا جانا چاہیے اور انہیں افغان فوج کی طاقت پر سمجھوتہ کیے بغیر تیار کرنا چاہیے۔


اس رپورٹ میں شامل خیالات مصنف کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.