شکریہ فخر زمان اب ہار کا کوئی غم نہیں

Spread the Story
  • 213
    Shares

[ad_1]

آخری اوور اور 31 رنز کا انتہائی مشکل ہدف — میچ دیکھنے والے ہر پاکستانی مداح کو امید تھی کہ فخر زمان یہ ہدف پورا کرلیں گے کیونکہ وہ پاکستان کی کشتی کو وہاں سے کھینچ کر جیت کے ساحل تک لائے تھے جہاں پوری ٹیم اترے ہوئے چہروں سے شکست کو وقت سے پہلے ہی دیکھ چکی تھی لیکن فخر کی تھوڑی سی لاپرواہی نے مختصر سے فاصلے پر کھڑی جیت کو کوسوں دور کر دیا۔

اپنے مخصوص انداز میں کرکٹ کھیلنے والے فخر کی بیٹنگ ہمیشہ پرسکون اور لاپرواہی سے مزین ہوتی ہے۔ وہ نہ تو دفاعی انداز اپناتے ہیں اور نہ ہی پچ پر وقت گزارتے ہیں انھیں تو اعداد و شمار سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔

وہ بس جانتے ہیں تو یہ کہ اگر گیند ایسی آرہی ہے کہ اسے مارا جائے تو دیر نہ کریں اور وہ اپنے کسی غلط شاٹ پر نادم بھی نہیں ہوتے۔

ان کا انداز شاہد آفریدی کی طرح ہے لیکن ان سے کافی بہتر اور قابل دید۔ جب وہ آف سٹمپ پر ہلے بغیر کور ڈرائیو کرتے ہیں تو اس شاٹ کا ایکشن ری پلے کئی بار دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔

اتوار کو جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں کپتان بابر اعظم پر دباؤ تھا کہ وہ انہیں ڈراپ کردیں کیونکہ پہلے میچ میں وہ بہت جلدی آؤٹ ہو گئےتھے لیکن بابر کو ان پر اعتماد تھا اور فخر نے اس اعتماد کو سچ کر دکھایا۔

پاکستان ٹیم کی بیٹنگ، جو ہمیشہ نشیب وفراز کا شکار رہتی ہے، کے سامنے اگر 342 رنز کا ہدف ہو تو آدھا میچ تو ٹیم بیٹنگ سے پہلے ہی ہار جاتی ہے۔

دوسرے میچ میں بھی یہی ہوا۔ ٹیم کے سب سے بہترین بلے باز بابر جلدی کیا آؤٹ ہوئے، سب کی آنکھوں میں اندھیرا چھانے لگا۔ رضوان، دانش، آصف، شاداب اور امام سب نے شکست کا نوشتہ پڑھ لیا اور بے دلی سے آؤٹ ہوتے رہے۔

اگر یہ سب فخر کا ہاتھ بٹاتے تو میچ پاکستان بہت پہلے جیت چکا ہوتا۔ لیکن فخر اس صورتحال سے گھبرائے نہیں۔ وہ اس میچ میں کچھ اور ہی سوچ کر آئے تھے۔ پہلی دفعہ شروع میں احتیاط سے کھیلے اور آہستہ آہستہ دوسرے بلے بازوں کے ساتھ رنز بڑھاتے رہے۔

شاید وہ جانتے تھے آج اکیلے ہی سب کچھ کرنا ہوگا۔ ان کی اننگز میں سنچری تک پہنچنے میں روایتی بیٹنگ تھی لیکن اس کے بعد تو جیسے انہیں کرنٹ لگ گیا۔

ہر شاٹ ایسے لگنے لگا جیسے جوہانسبرگ میں نہیں سوات میں کسی لوکل کلب کے خلاف کھیل رہے ہوں جو گیند سامنے پڑتی وہ باؤنڈری کا رخ کرتی اور ساتھ ساتھ دوسرے بلے باز کو پروٹیز بولنگ سے بچاتے بھی رہے۔

جب آخری 10 اوورز میں 110 رنز چاہیے تھے تو یہ ہدف ناممکن لگنے لگا لیکن فخر نے ایک اوور میں مسلسل پانچ چھکے لگا کر میچ کا رخ ہی موڑ دیا۔

سنچری سے ڈبل سنچری کے قریب تک کا سفر 47 گیندوں میں طے ہوا یعنیٰ 93 رنز صرف 47 گیندوں پر۔ صرف 155 گیندوں پر 193 رنز!!!!

انہوں نے اس سنچری کے دوران کئی ریکارڈ توڑے۔ سب سے اہم ریکارڈ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلین شین واٹسن کا بنگلہ دیش کی خلاف تھا جبکہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف کسی بھی کھلاڑی کی سب سے بڑی اننگز ڈیوڈ وارنز کا ریکارڈ بھی قدموں تلے مسل دیا۔

جب فخر آخری اوور کی پہلی گیند پر دوسرا رنز لے رہے تھے تو پروٹیز وکٹ کیپر نے انھوں دھوکہ دینے کے لیے فیلڈر کو دوسرے اینڈ پر تھرو کرنے کا کہا جس سے فخر پیچھے دیکھے بغیر آہستہ ہوگئے۔

اس اثنا میں مارکرم کی تھرو سیدھی ان کی سمت آئی اور وہ رن آؤٹ ہوگئے۔ اس لاپرواہی پر فخر خود کو شاید معاف نہ کریں کیونکہ جیت اور ڈبل سنچری یقینی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنوبی افریقہ نے پاکستانی بولرز کی خراب بولنگ کا پورا فائدہ اٹھا کر 341 رنز کا پہاڑ جیسا ٹارگٹ دیا تھا۔ اس اننگز میں کوئنٹن ڈی کوک، ٹیمبا باووما اور وان دا ڈوسن کی شاندار بیٹنگ تھی۔

لیکن دنیا بھر میں میچ دیکھنے والے جنوبی افریقہ کی اس جیت کا ذکر نہیں کریں گے کیونکہ ان کے لیے تو سب سے شاندار بات فخر کی طوفانی اننگز تھی جس نے برسوں تک شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں جگہ بنا لی ہے۔

پاکستان میچ ہار گیا لیکن فخر کی شاندار بیٹنگ نے ہار کی تلخی بھلا دی اور ان کے فلک شگاف چھکے اور چوکوں نے شیرینی کی حلاوت کا کام کیا ہے۔

سکون اور اطمینان کے ساتھ بیٹنگ کرنے کا ہنر فخر کے علاوہ اور کسے آتا ہے۔ ان کا بیٹ کبھی کبھی رنز اگلتا ہے لیکن جب بھی چلتا ہے تو پھر رکتا نہیں۔

پاکستان نیوی کے اعزازی لیفٹننٹ کا عہدہ رکھنے والے فخر اتوار کے میچ میں ون مین فورس کی مانند تھے۔ انہوں نے جیت کی جنگ تنہا لڑی۔ وہ میچ تو نہ جیتا سکے لیکن لاکھوں شائقین کے دل ضرور جیت لیے۔

شکریہ لیفٹننٹ فخر زمان اب ہار کا کوئی غم نہیں !!

[ad_2]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.