’کی دم دا بھروسہ یار دم آوے نہ آوے‘ سعید گیلانی رخصت

Spread the Story
  • 213
    Shares

پشاور سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے نامور نغمہ نگار، شاعر و ادیب سید احمد شاہ سعید گیلانی پانچ اپریل کی صبح اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اکا دکا اخباروں میں اور ٹی وی چینلز پر ان کے حوالے سے چھوٹی موٹی لیکن زیادہ تر نامکمل خبریں پڑھنے کو ملیں۔

اتنا ضرور ہوا کہ کئی لوگوں کو پہلی مرتبہ علم ہوا کہ ایسی ایک شخصیت پشاور میں مقیم تھیں جن کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ ہندوستان میں بھی اپنے گیتوں، فلموں اور شاعری کی وجہ سے مقبولیت حاصل تھی، یہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے مشہور گائیکوں نے ان کے لکھے ہوئے سینکڑوں گیت بھی گائے۔

GCN نے جب سعید گیلانی کے حوالے سے ان کے محلے میں مختلف عمر اور جنس کے لوگوں سے پوچھا کہ کیا انہیں معلوم تھا کہ اتنی بڑی شخصیت ان کے اتنے قریب رہتی تھی جو اس قدر زیادہ شہرت کی حامل تھی۔ حیرت انگیز طور پر کئی لوگوں نے نفی میں جواب دیتے ہوئے کہا اور بعض نے کہا کہ گزشتہ روز ان کی وفات کے بعد انہیں میڈیا سے معلوم ہوا۔

مرحوم کے بیٹے سید ارشد عباس نے GCN سے بات کرتے ہوئے غمزدہ لہجے میں کہا کہ اگرچہ والد کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا اور ان کی وفات کے بعد انہوں نے ان کی جان پہچان کے بعض لوگوں کو بروقت مطلع بھی کیا تھا لیکن نماز جنازہ پر شعر وادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والے فقط  تین چار لوگ ہی آسکے۔

سعید گیلانی پشاور کے سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے آباواجداد پرانے زمانے سے اندرون شہر لاہوری گیٹ کے پاس رہتے تھے۔ یہیں پر ایک پورا محلہ ان کے دادا کے نام سے موسوم ہے۔

نوجوانی میں جب وہ ایڈورڈز کالج میں گریجویشن کر رہے تھے تو انہیں اردو کے پروفیسر طہ خان کی سرپرستی حاصل ہوئی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسی زمانے میں شعر لکھنے سے طبع آزمائی شروع کی اور اسی سبب وہ بی- اے سے زیادہ آگے نہ پڑھ پائے۔

مرحوم سعید گیلانی کو جب جوانی میں شاعری سے شغف ہوا تو انہوں نے اپنے والد سید امراللہ شاہ جو خود اپنے زمانے کے ایک جانے مانے شاعر تھے، سے ذکر کیا کہ وہ اپنی شاعری کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔  والد نے انہیں فارغ بخاری (احمد شاہ) سے ملوا دیا۔

پشاور کے علاقے کریم پورہ میں اس وقت فارغ بخاری کی ڈسپنسری ہوا کرتی تھی جہاں اکثر شعرا کا تانتا بھی بندھا رہتا تھا جن میں احمد فراز، خاطر غزنوی، محسن احسان، اشرف بخاری و دیگر شامل تھے۔

سعید گیلانی کے حوالے سے لکھے گئے پی ایچ ڈی مقالے میں تاج مسیح نامی ایک سکالر نے مرحوم کی زبانی اس بات کو کچھ اس طرح لکھا ہے۔

’میں شروع میں ان شعرا کو صرف سنتا تھا۔ پھر فارغ بخاری نے میری ایک غزل دیکھی اور کہا کہ اس زمین میں کل ایک اور غزل لکھ کر لانا۔ میں غزلیں لکھتا رہا۔ آٹھ دن بعد انہوں نے کچھ اشعار منتخب کیے اور باقی کے بارے میں کہا کہ ان میں کمی ہے۔ دو مہینے تک میں ان سے اصلاح لیتا رہا اور ان سے شاعری کے گر سیکھتا رہا۔ ‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گیلانی 1970 میں والدہ کے علاج کے لیے لاہور گئے تو انہوں نے وہاں اردو اور پنجابی گیت لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو کئی دہائیوں تک چلتا رہا،اس دوران لاہور میں ان کا حلقہ دوستان و یاراں وسیع ہوتا چلا گیا۔ تاہم پاکستان فلم انڈسٹری کے خراب حالات اور ذاتی وجوہات کے سبب وہ دوبارہ پشاور میں اپنے پرانے محلے ’فیل باناں‘ میں بس گئے۔

پشاور آ کر انہوں نے ہندکو زبان میں شاعری اور نثر لکھنا شروع کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بیٹی نے GCN کو بتایا کہ ان کے والد کی چار کتابیں ابھی بھی زیر اشاعت ہیں۔ البتہ کتابوں کی مکمل فہرست خاندان کے کسی فرد کو معلوم نہیں تھی۔

 سعید گیلانی تقریباً چالیس سال تک فلمی دنیا کے ساتھ وابستہ رہے اور اس دوران انہوں نے تقریباً تین ہزار سے زائد گیت لکھے۔ ان کے مشہور فلمی گانوں کی فہرست اگرچہ کافی لمبی ہے البتہ بعض مشہور گیتوں میں ’سونا نہ چاندی نہ کوئی محل تجھ کو میں دے سکوں گا‘ ’کی دم دا بھروسہ یار ، دم آوے نہ آوے‘ ’جانو سن ذرا، پلکیں تو اٹھا‘ شامل ہیں۔ میڈم نور جہاں، احمد رشدی، ناہید اختر، وارث بیگ، سلمیٰ آغا اور مہدی حسن سمیت ان کے گانے بھارت میں بھی کمار سانو اور ادت نرائن نے گائے۔

عارضہ قلب مرض الموت ثابت ہوا۔ اہل خانہ کے مطابق وہ اپنے دو جوان سال نواسوں کی ناگہانی موت کے بعد افسرہ رہنے لگے تھے۔ بیماریوں نے انہیں جکڑ لیا تھا اور وہ بمشکل چل پاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کم ہو گیا تھا اور وہ مشاعروں کی محفلوں کی بجائے گھر کے ایک کونے میں زندگی گزارنے لگے تھے۔

سید سعید گیلانی کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن میں سے کسی کو نہ تو شعر وادب سے لگاؤ ہے اور نہ ہی انہیں والد کی اس میدان میں سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ معلومات تھیں۔

سعید گیلانی مرحوم کے وفات کے بعد ان کے کمرے سے بس چند پرانی تصویریں اور کتابیں ہی مل سکیں۔

چند تصویر بتاں، کچھ حسینوں کے خطوط
بعد مرنے کے مرے گھر سے یہی ساماں نکلا





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.