فلپائن: کرفیو کی خلاف ورزی پر بطور سزا اٹھک بیٹھک لگانے والا ہلاک

فلپائن: کرفیو کی خلاف ورزی پر بطور سزا اٹھک بیٹھک لگانے والا ہلاک

Spread the Story
  • 213
    Shares

فلپائن میں پولیس کی جانب سے کرونا (کورونا) وائرس کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر سزا کے طور پر 300 اٹھک بیٹھک (Squats) لگانے والے 28 سالہ شخص کی موت واقع ہوگئی۔

پولیس نے ڈیرن مناگ پینئرڈونڈو کو مبینہ طور پر یکم اپریل کو اس وقت کرونا پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑا جب وہ صوبہ کیوٹ کے جنرل ٹریاس شہر میں کرفیو کے اوقات کے دوران پینے کا پانی خریدنے کے لیے گھر سے باہر جارہے تھے۔

حکام نے صوبہ کیوٹ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے سخت کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

متاثرہ شخص کی ایک رشتے دار ایڈرین لوسینا نے فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پولیس نے پینئرڈونڈو اور کرفیو کی خلاف ورزی میں ملوث دیگر افراد کو ایک سو اٹھک بیٹھک کرنے کا حکم دیا۔ حکام نے انہیں بتایا کہ اگر انہوں نے درست طریقے سے ایسا نہ کیا تو انہیں بار بار یہ مشق کرنا پڑے گی، اس طرح ان کی اس سزا کا خاتمہ 300 اٹھک بیٹھک پر ہوا۔

پینئرڈونڈو کی پارٹنر ریچلین بلیس نے مقامی خبر رساں ادارے ’ریپلر‘ کو بتایا کہ اس سزا کے اگلے روز تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ہلنے جلنے کے بھی قابل نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سارا دن چلنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ محض رینگ ہی پائے۔ کئی گھنٹوں کے بعد پینئرڈونڈو کو دورے پڑنے لگے اور وہ ہوش ہو گئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بے ہوشی کے بعد وہ مختصر وقت کے لیے زندہ رہے لیکن ان کی موت واقع ہو گئی۔

جنرل ٹریاس شہر کے پولیس چیف مارلو سولیرو نے کہا کہ قرنطینہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کوئی بھی جسمانی سزا نہیں دی جاتی، انہیں صرف لیکچرز دیئے جاتے ہیں اور بعض اوقات ان سے کوڑا کرکٹ اٹھانے جیسی کمیونٹی سروس بھی کروائی جاتی ہے۔

سی این این فلپائن کے مطابق پولیس چیف نے بتایا کہ ان کے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے تصویری شواہد موجود ہیں کہ متاثرہ شخص کو جسمانی اذیت نہیں پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ محکمے کی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ اس رات ڈیوٹی پر موجود عملے میں سے کسی نے بھی کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی بھی قسم کی مشق کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ ’جب انہیں رہا کیا گیا تو ان کی جسمانی حالت اچھی تھی۔‘

جنرل ٹریاس شہر کے میئر اونی فیریر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے پولیس چیف کو منصفانہ تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ سال کہا تھا کہ فلپائن میں کرونا وائرس کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار افراد کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔

عالمی تنظیم نے مزید کہا کہ پولیس اور مقامی عہدیداروں نے گرفتار افراد کو کتے کے پنجروں کے قریب قید کیا اور انہیں سزا کے طور پر دوپہر کے وقت دھوپ میں بیٹھنے پر مجبور کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.