بنگلہ دیش میں 30 لاکھ لوگوں کے قتلِ عام کا دعویٰ: سچ کیا ہے؟

بنگلہ دیش میں 30 لاکھ لوگوں کے قتلِ عام کا دعویٰ: سچ کیا ہے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

[ad_1]

(اس تحریر کے مصنف اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ وہ Ancient Pakistan کے نام سے فیس بک پر پاکستانی تاریخ کے بارے میں پیج چلاتے ہیں)


میں اپنی بات کا آغاز سب سے بڑے متنازع مسئلے سے کرتا ہوں جو ایک خود ساختہ کہانی ہے کہ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں 1971 کی خانہ جنگی کے دوران 30 لاکھ افراد قتل کیے۔

یہ الزام سب سے پہلے آٹھ جنوری 1972 میں شیخ مجیب الرحمٰن نے لگایا جو بطور ایک حقیقت گردش کرتا نظر آتا ہے۔ لیکن بنگلہ دیشی ذرائع بھی اس کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

اس وقت بی بی سی بنگلہ دیش سے منسلک صحافی اور براڈ کاسٹر سراج الرحمٰن نے 2011 میں برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے لیے ایک مضمون لکھا جس میں وہ اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ 30 لاکھ کا ہندسہ کہاں سے آیا۔

 ’بانیِ بنگلہ دیش شیخ مجیب الرحمٰن کی پاکستان سے رہائی کے بعد میں پہلا شخص تھا جو انہیں آٹھ جنوری 1972 کو ملا۔ انہیں انڈین ہائی کمشنر آپا بھائی پنتھ ہیتھرو سے کلیرج لائے جس کے تقریباً فوراً بعد میں بھی وہاں پہنچ گیا۔

مسٹر پنتھ سے ’یور ایکسیلینسی‘ سن کر مجیب تذبذب میں پڑ گئے۔ جب میں نے بات واضح کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ بنگلہ دیش آزاد ہو چکا ہے اور آپ کی غیر موجودگی میں آپ کو صدر چن لیا گیا ہے تو وہ شدید حیرت زدہ ہوئے۔

بظاہر وہ لندن میں اس احساس کے ساتھ پہنچے تھے کہ بنگلہ دیش کو مکمل علاقائی خود مختاری دے دی گئی ہے جس کے لیے وہ جدوجہد کر رہے تھے۔ اس دن میں نے اور باقی لوگوں نے انہیں جنگ کی مکمل صورتحال سے آگاہ کیا۔

’میں نے کہا، ’زندگی سے محروم ہونے والوں کی مصدقہ تعداد میسر نہیں لیکن مختلف ذرائع کی بنیاد پر ہمارا اندازہ ’تین لاکھ‘ کا ہے۔‘

’لیکن بعد میں جب انہوں نے مشہور برطانوی صحافی ڈیوڈ فراسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’میرے تین ملین لوگ‘ پاکستانیوں نے مار ڈالے‘ تو میں اس وقت ہکا بکا رہ گیا۔ خدا جانے ان کی منتشر ذہنی حالت اس کی ذمہ دار تھی یا انہوں نے ’لاکھ‘ کا غلط ترجمہ ’ملین‘ کر دیا، لیکن بہت سارے بنگلہ دیشی تین ملین کی تعداد کو غیر حقیقی اور ناقابلِ اعتبار سمجھتے ہیں۔

سراج الرحمن کا مضمون ’بنگلہ دیشی اموات پر مجیب کا تذبذب‘ دی گارڈین میں 24 مئی 2011 کو اشاعت پذیر ہوا۔

تاہم بنگلہ دیش کے پہلے سیکریٹری خارجہ سید اے کریم نے 30 لاکھ اموات کے دعوے کے آغاز کی ایک مختلف کہانی بیان کی۔

’جہاں تک جنگ آزادی میں قتل ہونے والے بنگالیوں کی تعداد کا تعلق ہے تو 1972 میں ڈیوڈ فراسٹ کو مجیب کی بتائی گئی تین ملین کی تعداد ناقابل یقین حد تک مبالغہ آمیز ہے۔ یہ تعداد انہوں نے سوویت یونین کے کیمونسٹ پارٹی سے منسلک ’پروادا‘ کے ایک مضمون سے اٹھائی تھی۔‘

سید اے کریم کی کتاب شیخ مجیب: فتح اور المیہ Sheikh  Mujib: Triumph and Tragedy سے اقتباس۔

لیکن لندن میں پروادا مجیب کے ہاتھ کہاں سے لگا؟ اس کا جواب اخبار ’بنگلہ دیش آبزرور‘ کے ایک مضمون سے پتہ چلتا ہے۔

’کمیونسٹ پارٹی کے اخبار نے لکھا کہ ای این اے کی اطلاعات کے مطابق گذشتہ نو ماہ کے دوران پاکستانی استحصالی قوتوں کے ہاتھوں بنگلہ دیش بھر میں 30 لاکھ بنگالی مارے گئے۔

’ڈھاکہ میں تعینات اپنے خصوصی نامہ نگار کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ مکتی باہنی اور اتحادی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے قبل پاکستانی فوج نے صرف بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں 800 دانشوروں کو قتل کیا۔‘

یہ غیر واضح ہے کہ پروادا نے یہ اعداد و شمار کہاں سے لیے کیوں کہ اخبار اپنے خصوصی نامہ نگار کے حوالے سے بات کرتا ہے جسے بعد میں بنگلہ دیش آبزرور حوالہ بنا لیتا ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ سوویت یونین نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ریٹائرڈ سائیکولوجیکل وار فیئر آفیسر یوری بیزمینوف اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ کیسے سوویت یونین نے انڈیا کے ذریعے مجیب کی مدد کی۔

1971 میں ہلاک ہونے والے بنگالیوں کی تعداد گننے کرنے کی 1974 میں بنگلہ دیش نے بظاہر کوشش کی۔ تاہم زیادہ تر تحقیقی کام مکمل ہونے کے بعد جمع کیے گئے حقیقی اعداد کے مطابق تعداد ڈھائی لاکھ بنتی تھی جو مجیب کے 1972 میں کیے گئے 30 لاکھ کے دعوے کے کہیں آس پاس بھی نہیں پہنچتی۔

تعداد سننے کے بعد مجیب نے تحقیقات روک دیں۔ فار ایسٹرن اکنامک ریویو کے بنگلہ دیش میں قیام پذیر نمائندے لارنس لیفشلز نے اس کے متعلق تفصیل سے لکھا۔

’رپورٹنگ کے دوران میری ایک نہایت دلچسپ شخص سے ملاقات ہوئی جس کے پاس حالیہ دنوں میں اپنے کام سے منسلک ایک پرفریب کہانی تھی۔ وہ وزارت داخلہ کے ملازم اور اس ٹیم کا حصہ تھے جو 1971 میں نو ماہ تک ملک بھر میں پھیلی جنگ کے دوران مرنے والے افراد کی مکمل تعداد اکٹھی کر رہی تھی۔

’وزارت داخلہ اس بات کا تعین کر رہی تھی کہ پاکستانی فوج اور ان کے مقامی اتحادیوں کے ہاتھوں براہ راست کتنے لوگ ہلاک ہوئے۔ وہ اس بات کا بھی جائزہ لے رہی تھی کہ کتنے لوگ راستے میں یا انڈین سرحد کے پار پناہ گزین کمپوں میں پہنچ کر مرے۔

’مرنے والے کی ایک بڑی اکثریت بچوں اور بوڑھوں پر مشتمل تھی۔ یہ تحقیق سماجی کارکنوں کے ذریعے منعقد کی گئی تھی جو منظم طریقے سے دیہاتوں میں مختلف خاندانوں کے پاس جاتے اور جنگ کے دوران یا اس کے نتیجے میں مرنے والے اس گاؤں کے افراد کے متعلق معلومات حاصل کرتے۔

’وہ بتدریج ملک بھر کی اجتماعی تصویر بنا رہے تھے۔ جس وقت ہماری ملاقات ہوئی اس وقت تک تقریباً ایک تہائی اضلاع میں یہ تحقیق مکمل ہو چکی تھی۔

’میرے وزارت داخلہ کے ذریعے نے مجھے بتایا کہ ان کے تخمینے کے مطابق جنگ میں مرنے والے افراد کی تعداد تقریباً ڈھائی لاکھ افراد تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے اس میں وہ نوجوان، بیمار اور بزرگ شامل نہیں جو پناہ گزین کمپوں یا پاکستانی فوج کے ڈر سے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

’ایک چوتھائی ملین انسانوں کی عسکری تشدد سے ہلاکت کسی بھی پیمانے سے بہت خوفناک اور قابل افسوس تعداد ہے۔ تاہم میرے ذرائع کے مطابق یہ تحقیق روکتے ہوئے نامکمل حالت میں داخل دفتر کر دی گئی۔

’اس کی وجہ یہ تھی کہ جائزہ اعداد و شمار کے ایسے نتیجے پر پہنچ رہا تھا جو مروجہ روایت کے مطابق نہیں تھا کہ عسکری تشدد اور پناہ کی تلاش میں ہجرت کے دوران 30 لاکھ بندہ مر گیا۔‘

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ اور سابقہ وزیر اعظم خالدہ ضیا نے بھی 30 لاکھ کے دعوے کی حقیقت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

’جنگ آزادی میں کتنے لاکھ لوگ مارے گئے اس پر آج بھی بحث کا بازار گرم ہے۔ مختلف کتابیں اور دستاویزات مختلف اعداد و شمار بتاتی ہیں۔‘ بنگلہ دیش کی سابقہ وزیر اعظم خالدہ ضیا (ذرائع)

پاپولیشن سٹڈیز کی جلد نمبر 30 کے مطابق: 1976 میں اشاعت پذیر ہونے والے جرنل آف ڈیموگرافی کی تحقیق ’ڈیموگرافک کرائسز: بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کے اثرات‘ جنگ کے دوران پانچ لاکھ ہلاکتوں کے اعداد و شمار دیتا ہے۔

برٹش میڈیکل جرنل 2008 کے شمارے میں چھپنے والی ایک تحقیق ’ویت نام سے بوسنیا تک پرتشدد جنگی ہلاکتوں کے 50 سال: ورلڈ ہیلتھ سروس کے اعدادوشمار کا جائزہ‘ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران تقریباً 269,000 اموات (125,000 سے 505,000 تک کا امکان ظاہر کرتے ہوئے) کا ذکر کرتا ہے۔

جائزے میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ ابتدائی طور پر بنگلہ دیش کی جنگ میں انسانی ہلاکتوں کا تخمینہ 58,000 کے آس پاس تھا۔ اس جائزے کا مقصد جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کا درست تخمینہ لگانا تھا۔ جائزے میں 50 برس کے دوران تیرہ ممالک میں جنگی ہلاکتوں کا تجزیہ کیا گیا تھا۔

پاکستان سے ہٹ کر دیگر ذرائع سے 30 لاکھ کو فرضی داستان ثابت کرنے کے حقیقی شواہد کے باوجود کچھ بنگلہ دیشی اور اس معاملے میں انڈین بھی اس بے تکی تعداد پر یقین رکھتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی وار فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے کنوینر ایم اے حسن کہتے ہیں کہ ’جنگ آزادی کے شہدا کی تعداد ایسا مسئلہ ہے جس پر کسی کو کوئی سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔‘

ایک ایسے شخص کی طرف سے یہ بیان جو ’فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی‘ کے سربراہ ہیں بہت تکلیف دہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حقائق کی تلاش یہاں غیر جانبدارانہ نہیں بلکہ اس فرضی داستان کو مزید پختہ کرنے کی غرض سے ہے۔

2009 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں یک جماعتی آمرانہ نظام نافذ کرنے کے لیے 1971 کی جنگ سے وابستہ جذبات کو بطور جواز استعمال کیا۔ تاریخ کے اس نقطہ نظر کے مطابق صرف عوامی لیگ ہی جنگ آزادی کی جماعت اور حکومت کی حقدار ہے جبکہ دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں پر ’پاکستان نواز‘ کی چھاپ لگا کر انہیں خطرناک اور غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔

تاہم بہت سے دیگر بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کی نظر میں 1971 کی جنگ پر سوالات اٹھانا بہت ضروری ہیں۔

درج بالا تحریری مواد زیادہ تر مختصر جائزوں اور مضامین سے لیا گیا ہے۔ تاہم اگر آپ 1971 کے واقعات کا گہرائی میں غیر جانبدارانہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو میں شرمیلا بوس کی کتاب تجویز کروں گا  Sarmila Bose’s book “Dead Reckoning: Memories of the 1971 Bangaldesh War

مشرقی پاکستان کی 1971 والی جنگ کے متعلق کسی بھی محقق کے پہلے تحقیقی کام کا سہرا شرمیلا بوس کے سر جاتا ہے۔ وہ امریکی ماہر تعلیم اور صحافی ہیں جو اس وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی مرکز برائے تحقیق کے شعبہ سیاسیات اور بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ سینیئر ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔

امریکی تاریخ دان شرمیلا بوس آکسفورڈ یونیورسٹی کے بین الاقوامی مرکز برائے تحقیق میں اس وقت انڈین تاریخ کی ماہر ہیں۔ انہیں 1971 کی جنگ سے متعلق گہرے تجزیاتی انداز میں پہلی بنیادی کتاب لکھنے کا اعزاز حاصل ہے۔

1971 پر بوس کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب انہوں نے دو اپریل 1971 میں جیسور کے مقام پر ہونے والے قتل عام کی ایک تصویر دیکھی۔

اس تصویر کا کیپشن بھی اتنا ہی بے رحمانہ ہے جتنا مواد: ’دو اپریل 1971، پاکستانی فوج کی جیسور کے مقام پر نسل کشی۔‘جنگ آزادی کے متاثرین کو یاد رکھنے کے لیے ایک بنگلہ دیشی کی مرتب کردہ کتاب میں یہ تصویر شامل ہے۔ ایسے کئی مناظر ہیں۔ 1971 کی جنگ کے متاثرین کی ایسی کئی تصاویر ہیں جو مختلف کتابوں، اخبارات اور ویب سائٹس میں چھپ چکی ہیں۔

1971 کی جنگ پر مطالعہ کرتے ہوئے ایک دوسری کتاب میں ذرا اور سمت سے لی گئی ہو بہو وہی تصویر انہیں ملی جس میں لاشیں اور قتل عام کے مناظر وہی تھے۔ لیکن ایک لحظہ صبر ٹھہریے، یہاں کپیش کچھ اس طرح سے تھا: ’جیسور شہر میں باغیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے کاروباری افراد کی لاشیں۔‘

یہ متبادل کیپشن ایل ایف رش بروک ولیمز کی کتاب دی ایسٹ پاکستان ٹریجڈی The East Pakistan Tragedy, by L.F. Rushbrook Williams میں شامل ہے جو 1971 میں بنگلہ دیش کی آزادی سے پہلے لکھی گئی تھی۔ رش بروک ولیمز پاکستانی حکومت کے شدید ترین حامی اور عوامی لیگ کے کڑے ناقد ہیں۔

تاہم وہ آل سولز کالج اور آکسفورڈ سے وابستہ رہے، تعلیمی میدان اور انڈیا میں مختلف مقامات پر فائز رہنے کے علاوہ بی بی سی اور دی ٹائمز کے لیے کام کرتے رہے۔ اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ وہ جان بوجھ کر قتل عام کی ایک تصویر پر غلط کیپشن لگا دیں۔

مزید برآں ایسی جنگ جس میں بہت ساری لاشیں لاوارث پڑی رہ گئیں لیکن حیران کن طور پر یہ چند ایسی لاشیں ہیں جن پر دونوں متحارب فریق دعوی کر رہے ہیں! یہ کون لوگ تھے؟ انہیں کس نے قتل کیا؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسا لگتا ہے کہ میسور کا قتل عام نسل کشی ہی تھی لیکن پاکستانی فوج کے ہاتھوں نہیں۔ یہ میسور میں رہنے والے غیر بنگالیوں کی لاشیں تھیں جنہیں دن کی روشنی میں سر عام بنگالی قوم پرستوں نے ذبح کیا۔

 19 مارچ، 2006 میں دی ٹیلی گراف میں چھپنے والے شرمیلا بوس کے مضمون ’جیسور قتل عام کی حقیقت‘ سے اقتباس۔

تصویر سے یہ بات واضح ہے کہ جیسور میں پڑی چند لاشیں شلوار قمیض پہنے ہوئے تھیں جو ان کے مغربی پاکستانی یا بہاری ہونے کی دلیل ہے۔ بوس نے اپنی کتاب میں ہر ہر لاش کو شمار کرتے ہوئے آخر میں 50 ہزار اور ایک لاکھ کے درمیان ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا ہے جن میں دونوں جانب سے مرنے والے بنگالی، بہاری، مغربی پاکستانی اور دیگر شامل تھے۔

یہ کتاب پڑھنے کے بعد میں آپ کو ایک اور کتاب کا مشورہ دوں گا جو 1971 میں علیحدگی کی تحریک کے سرگرم بنگالی قوم پرست ڈاکٹر ایم عبدالمؤمن چودھری نے تحریر کی۔

اپنی کتاب 30 لاکھ کی فرضی داستان کے پس پردہ Behind the Myth of Million میں وہ 1971 سے منسلک خود ساختہ اور سازشی نظریات کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ مختلف ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے وہ انکشاف بھی کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد حکومت نے متاثرین کے اہل خانہ کو دو ہزار ٹکہ دینے کی پیشکش کی لیکن محض تین ہزار خاندانوں نے اس معاوضے کا دعویٰ کیا۔

اگر 30 لاکھ بنگالی قتل ہوئے ہوتے تو خاندانوں کی کہیں بڑی تعداد سامنے آتی۔ مزید برآں مشرقی پاکستان میں جنگ لڑنے والی فوج کی حقیقی تعداد 40 ہزار تھی نہ کہ 93 ہزار۔ اس کا مطلب ہوا جب انڈیا نے مشرقی پاکستان میں حملہ کیا تو ان کے 50 سپاہیوں کی نسبت ایک پاکستانی سپاہی سامنے تھا۔

[ad_2]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.