مذاکراتی پیشرفت کے باوجود ایران میں یورینیم افزودگی کا عمل تیز

مذاکراتی پیشرفت کے باوجود ایران میں یورینیم افزودگی کا عمل تیز

Spread the Story
  • 213
    Shares

[ad_1]

ایران نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے یورینیم کو زیادہ تیزی سے افزودہ کرنے کے لیے جدید ترین سینٹری فیوجز کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے۔ یہ عمل 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط کی ایک مزید خلاف ورزی ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی ایک تقریب میں صدر حسن روحانی نے ایران کے نطنز یورینیم پلانٹ میں 164 IR-6 سینٹری فیوجز اور 30 IR-5 ڈیوائسز کی تیاری کا باضابطہ افتتاح کیا۔

ایران کی جانب سے یہ قدم ایک ایسے وقت اٹھایا گیا ہے جب ایک روز قبل یعنی جمعے کو ہی ایک امریکی عہدے دار کہا کہ امریکہ نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایران کو جوہری معاہدے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ’بہت سنجیدہ‘ تجاویز دی ہیں اور اب اسے انتظار ہے کہ ایران بھی اسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا۔
امریکی عہدے دار نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ’امریکہ نے بہت سنجیدہ تجاویز دی یں اور ایران کی طرف سے معاہدے کی شرائط پر دوبارہ عمل درآمد شروع کرنے کی صورت میں اپنی جانب سے ان شرائط پر واپسی کا سنجیدہ مقصد ظاہر کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو انتظار ہے کہ ایران بھی امریکی کوششوں کا ویسا ہی جواب دے گا۔ ’ہم نے اس کے کچھ اشارے دیکھے ہیں لیکن یقینی طور پر یہ کافی نہیں۔اب بھی سوالیہ نشان موجود ہیں کہ آیا ایران وہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے جو امریکہ نے ایٹمی معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پھر سے پوری کرنے کے لیے اپنایا ہے۔‘
امریکی عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے پر ایران کے ساتھ ابتدائی مذاکرات میں رکاوٹ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کی ترتیب نہیں بلکہ ایران پر عائد پابندیاں تھیں جن کے حوالے سے اس کا مطالبہ ہے کہ وہ تمام اٹھا لی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا مؤقف خود معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتا کیوںکہ اس کے تحت امریکہ کو حق ہے کہ وہ غیر ایٹمی وجوہات کی بنا پر پابندیاں لگائے خواہ وہ دہشت گردی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی یا ہمارے انتخابات میں مداخلت ہو۔
’وہ تمام پابندیاں جو جوہری معاہدے اور اس کے فوائد کے معاملے میں اس معاہدے سے ایران کی توقعات پر پوری نہیں اترتیں ہم وہ پابندیاں ہٹانے پر تیار ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام پابندیاں اٹھا لی جائیں کیونکہ بعض پابندیاں قانونی تقاضے پورے کرتی ہیں۔‘
ایران اور امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کے درمیان  2015 میں ایٹمی معاہدے ہوا تھا لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے الگ ہو گئے تھے جس کے بعد ایران نے محدود پیمانے پر ایٹمی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی تھیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ ایٹمی معاہدے میں واپسی کی کوشش کر رہا ہے۔ رواں ہفتے ویانا میں ہونے والے مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ 
مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے ہوگا جس میں دوسرے یورپی ملکوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ ایران نے امریکی نمائندہ راب میلی سے براہ راست ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔
امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جلینا پورٹر نے جمعے کو کہا کہ واشنگٹن کو امید ہے کہ ویانا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد نمائندوں کی مشاورت کے لیے اپنے ملک واپسی کے بعد ایران پر ورکنگ گروپ کی بات چیت اگلے ہفتے شروع ہو جائے گی۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس میں ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایک ہفتے کے وقفے کے بعد امریکی نمائندے راب میلی واپس پہنچ رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ’اس وقت مذاکرات میں شریک وفود مشاورت کے لیے اپنے اپنے ملکوں میں واپس پہنچ رہے ہیں لیکن ہمیں پوری امید ہے کہ ورکنگ گروپس اگلے ہفتے سے دوبارہ کام شروع کر دیں گے۔‘

[ad_2]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.