آج تک کوئی عورت شطرنج کی چیمپیئن کیوں نہیں بنی؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

[ad_1]

شطرنج پر مبنی منی سیریز؟ یہ تو ایک خطرناک خیال ہے۔ مسلسل کئی گھنٹوں تک دو کھلاڑی ایک بساط  کے گرد بیٹھے ہیں تو اس میں دلچسپی کا پہلو کیا ہے؟ تاہم ’دی کوئنز گیمبٹ‘ کو زبردست کامیابی ملی اور یہ نیٹ فلکس پر مقبول ترین سیریز بن گئی۔ اس سیریز کی خاص بات اس میں ایک خاتون کا مرکزی کردار تھا۔

روس سے تعلق رکھنے والی عالمی ماسٹر الینا  کاشلنسکایا کہتی ہیں کہ ’اس نے کئی پرستاروں اور بہت سے ایسے افراد کے لیے شطرنج کی دنیا کے دروازے کھول دیے، جو جانتے ہی نہیں تھے کہ شطرنج کیا ہے۔ خواتین کی شطرنج کے لیے یہ نہایت خوش آئند قدم ہے۔‘

شطرنج کے مناظر کی ہوبہو عکس بندی پر ’دی کوئنز گیمبٹ‘ کو بہت سراہا گیا۔ سابقہ عالمی چمپیئن گیری کاسپروف اس سیریز کے مشیر تھے اور ان کے اثرات سیریز میں نظر بھی آئے، تاہم شطرنج کی ماہر کھلاڑی کا مرکزی کردار بیت ہارمن (جسے پردے پر اینایا ٹیلر جوئے نے ادا کیا) سے مرد کھلاڑیوں کا رویہ حقیقت سے دور نظر آیا۔ جیسا کہ ہنگری کی گرینڈ ماسٹر جوڈٹ پولگر نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اس سے ان کا رویہ کچھ زیادہ ہی خوشگوار تھا۔ جہاں تک پولگر کا تعلق ہے تو انہیں مردوں کی دنیا میں آگے بڑھنا مشکل کام محسوس ہوا۔‘  

ممکن ہے آپ سمجھتے ہوں کہ مرد و خواتین کے باہمی مقابلوں میں شطرنج کی بساط دونوں کے لیے ایک جیسی ہے۔ 64 چوکور خانے، دونوں کے الگ الگ 16 مہرے، مرد اور خاتون کے لیے ایک جیسے قوانین۔ پہلی نظر میں صنفی امتیاز کچھ  خاص محسوس نہیں ہوتا۔ بظاہر کھیل غیر جانبدارانہ ہے، ساری معلومات دونوں کے سامنے ہیں، تاہم خواتین کھلاڑیوں کو مسلسل شدید جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے جیسا کہ پولگر نے مشاہدہ کیا۔ 

شطرنج کی تاریخ میں جوڈٹ پولگر نمایاں فرق کے ساتھ کامیاب ترین خاتون کھلاڑی ہیں۔ ان کی دو بڑی بہنیں بھی چوٹی کی کھلاڑی تھیں لیکن ان کا تو لیول ہی الگ ہے۔ محض 15 برس کی عمر میں وہ دنیا کی کم سن ترین گرینڈ ماسٹر بن گئیں اور عالمی درجہ بندی میں آٹھویں نمبر تک پہنچیں (اب وہ ریٹائرمنٹ لے چکی ہیں)۔ الینا کاشلنسکایا کہتی ہیں: ’انہوں نے شطرنج سے وابستہ تمام خواتین میں امید کی لو جلائی کہ چوٹی کے مردوں کا بھی مقابلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم کسی خاتون کے عالمی چمپیئن بننے کی منزل ابھی بہت دور ہے۔‘   

اعداد و شمار سے یہ بات واضح ہے۔ ابھی تک دنیا میں 1594 گرینڈ ماسٹرز (صف اول کے کھلاڑیوں کی بلند ترین سطح) مقابلے ہو چکے ہیں، جن میں خواتین نے محض 35 ٹائٹلز ہی اپنے نام کیے ہیں۔ موجودہ دور میں دنیا کے 100 بہترین کھلاڑیوں میں صرف ایک خاتون کھلاڑی چین کی ہو ییفن عالمی رینکنگ میں 87 ویں نمبر پر ہیں اور 100 بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں جگہ بنانے والی وہ تاریخ کی تیسری خاتون ہیں۔ کیا کوئی خاتون کبھی چوٹی کا مقابلہ جیت سکے گی؟ یا شطرنج کی خواتیں کھلاڑی ہمیشہ دوسری سطح تک محدود رہیں گی؟   

دنیا کے بہترین کھلاڑیوں (مردوں) نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ خواتین کھلاڑی کیوں مردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں، واہیات اور بے تکے دقیانوسی خیالات دہرائے ہیں۔ عظیم امریکی شاطر بوبی فشر نے تو اس حوالے سے اپنی رائے دے کر سب کو حیران ہی کر دیا تھا۔ جب خواتین کے پیچھے رہ جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بے دھڑک کہا: ’میرا خیال ہے وہ اتنی ذہین نہیں ہیں۔‘

تاہم دیگر کھلاڑیوں نے نسبتاً شائستگی کا مظاہر کیا، لیکن ان کے نپے تلے تبصرے بھی متنازع ثابت ہوئے۔ 2015 میں برطانیہ کے عظیم ترین کھلاڑی نجل شارٹ کے ایک بیان پر اس وقت ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب انہوں نے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ مردوں کی مختلف دماغی ’ساخت‘ انہیں داخلی طور پر مضبوط کھلاڑی بناتی ہے۔   

ان مختصر الفاظ پر شدید ردعمل سامنے آیا لیکن وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’میں صرف اتنی بات کہہ رہا تھا کہ کچھ چیزوں میں خواتین جبکہ کچھ چیزوں میں مرد بہتر ہوتے ہیں، جیسے کہ شطرنج میں۔‘

شطرنج کے مرد و خواتین کھلاڑیوں میں بنیادی فرق صلاحیت کا نہیں مواقع کا ہے۔

 

کسی بھی شعبے میں خواتین اور مردوں کی مہارت کا موازنہ ناگوار صورت حال پیدا کرتا ہے بالخصوص اگر معاملہ شطرنج کا ہو، جسے بالعموم دماغی صلاحیت جانچنے کا بہترین ٹیسٹ (صحیح یا غلط طور پر) تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر تبصرے بھی اسی قدر اشتعال انگیز ثابت ہوئے۔ شطرنج، فن اور ریاضی کے درمیان سانس لیتی ایک انوکھی تجرید ہے جو کھیل ہوتے ہوئے بھی محض ایک کھیل نہیں۔ 

اس کی اَن گنت چالیں ایک قسم کی خاموش موسیقی تشکیل دیتی ہیں۔ اگر مرد فطری طور پر اس میں بہتر ہیں تو اس کا مطلب ہوا کہ وہ ہر چیز میں فطری طور پر بہتر ہیں۔ غیر جانبدار ذہن کے لیے یہ نہایت کراہت آمیز بات ہے لیکن کیا اعدادوشمار یہی ثابت نہیں کرتے؟

اچھا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ اعداد و شمار سے جو چیز واضح ہوتی ہے وہ بالکل ہی مختلف ہے۔ شطرنج کے مرد و خواتین کھلاڑیوں میں بنیادی فرق صلاحیت کا نہیں مواقع کا ہے۔ آپ اپنے بیٹے اور بیٹی کو سکھائیے، دونوں ہی آسانی سے سیکھ جائیں گے۔ انہیں ایک ہی انداز سے سکھائیے ان کی کارکردگی بھی کم و بیش ایک جیسی ہو گی۔ یہ تفاوت صرف اعلیٰ سطح پر نمایاں ہوتا ہے۔ تاہم یہ تفاوت اندونی نظام کا حصہ نہیں بلکہ مکمل طور پر امکانات کا پیدا کردہ ہے۔ دنیا بھر میں، ہر سطح پر ایک خاتون کے مقابلے میں دس مرد کھلاڑیوں ہوتے ہیں۔ محض اتفاق کی بنیاد پر بھی بہترین خواتین کے مقابلے میں مردوں کی تعداد کہیں زیادہ بنتی ہے۔ 

اسی معاملے پر ایک مختلف انداز سے غور کیجیے: صنفی اعتبار سے شطرنج کے کھلاڑیوں کی درجہ بندی کرنے کی بجائے فرض کیجیے ہم ان کے بالوں کی رنگت کی بنا پر مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر 90  فیصد کھلاڑیوں کے بال بھورے ہیں اور سنہرے بالوں والے محض 10 فیصد ہیں۔ صنفی فرق سے ہٹ کر 10 سنہرے اور 90 بھورے بالوں والے سب کو ملا کر ایک گروپ فرض کر لیجیے۔ بغیر کسی ترتیب کے ہر کھلاڑی کو ایک سے دس تک کوئی بھی نمبر دیتے جائیے۔ پہلے نمبر والا ابتدائی سطح کی علامت اور 100ویں نمبر والا گرینڈ ماسٹر ہو گا۔ باقی تمام نمبرز درمیان کی مختلف سطحیں تصور کر لیجیے۔ 

بھورے اور سنہرے بالوں والے افراد کے اوسط سکور کم و بیش ایک جیسے ہوں گے لیکن گروپ میں گرینڈ ماسٹر بننے کے زیادہ تر امکانات بھورے بالوں والے کسی کھلاڑی کے ہی ہوں گے۔ جب مرد اور خواتین کھلاڑیوں کا موازنہ کیا جاتا ہے تو تقریباً ایسا ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ مرد اور خواتین کھلاڑیوں کی اوسط صلاحیت میں یقیناً اتنا زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ یہ فرق چوٹی پر جا کر بہت واضح شکل اختیار کرلیتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں  کہ مرد کھلاڑی بنفسہ بہتر ہیں۔ مرد اور خواتین کھلاڑیوں کی تعداد میں اتنے واضح فرق کے بعد کوئی بھی ماہر شماریات بالکل اسی نتیجہ کی توقع کرے گا۔              

سو شطرنج کے کھیل میں کلب سے لے کر بلند ترین سطح تک خواتین کے مقابلے میں مرد اتنے زیادہ کیوں ہوتے ہیں؟ یہ داخلی  پسند نا پسند کے سبب نہیں اور کوئی بھی شخص جس نے چھوٹے بچوں کو اس کھیل سے متعارف کروایا وہ اس بات کی تصدیق کرے گا۔ چھوٹی بچیوں کو شطرنج اتنی ہی اچھی لگتی ہے جتنی چھوٹے بچوں کو، مہروں کا سادہ حسن، چال چلنے کا دھیما جادو، لیکن اس کے باوجود شوقیہ یا پیشہ ورانہ انداز میں کسی بھی سطح کے مقابلے میں خواتین مردوں کی تعداد کے برابر شطرنج نہیں کھیل رہیں۔ وجہ کیا ہے؟

مسابقتی کھیل میں خواتین کی شرکت کا مسئلہ پیچیدہ اور مبہم ہے (اوپری سطح پر شطرنج ایک کھیل کی طرح کھیلی جاتی ہے اگرچہ اصل میں یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے)۔ پدرسری معاشروں میں جہاں خواتین کی مردوں کے مقابل آنے پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہو بلکہ یہاں تک کہ یہ ان کے لیے ممنوع قرار دیا جاتا ہو وہاں یہ صنفی امتیاز نمایاں ہو گا۔ آزاد خیال معاشروں میں صورت حال اور بھی پیچیدہ ہے۔ جب تک عوامی میڈیا یا سکولوں میں شطرنج کو بچیوں کا کھیل نہیں کہا جائے گا تب تک بچیوں کی شرکت کمی کا شکار رہے گی۔ اگرچہ یہ ذاتی خواہش پر مبنی واہمے کے سوا کچھ نہیں۔ 

اسی لیے ’دی کوئنز گیمبٹ‘ خصوصی اہمیت کی حامل سیریز ہے لیکن اس سیریز میں بھی ہارمن کو عجیب و غریب بنا کر پیش کیا گیا اور زیادہ تر بچے عجیب و غریب نظر آنا پسند نہیں کرتے۔ ایسی چیز جسے معاشرہ عجیب سمجھتا ہو اسے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کے لیے بہت سی خصوصیات درکار ہوتی ہیں (اور بالعموم والدین کے اچھے خاصی تعاون کی) ۔ تمام بڑے کھلاڑی شکستوں کا سامنا کرتے ہیں اور ان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ کھیل سے ہی کنارہ کشی کا سوچتے ہیں۔ اگر آپ اپنے کلب میں واحد لڑکی یا پورے ٹورنامنٹ میں اکلوتی خاتون ہیں تو اسے دھچکے کی  شدت کہیں زیادہ  محسوس ہوتی ہے۔

اس میں عمومی صنفی امتیاز کا بھی عمل دخل ہے۔ محض شطرنج کی دنیا میں کوئی خصوصی صنفی تفاوت نہیں برتا جاتا، لیکن یہ اس سے خالی بھی نہیں۔ امریکہ کی صف اول کی شطرنج کھلاڑی اور شطرنج کے موضوع پر لکھنے والی جینیفر شہادے ( چیس بِچ اور پلے لائیک اے گرل جیسی کتابوں کی مصنفہ) نے ایک فن پارہ تخلیق کیا، جس کا نام تھا ناٹ پارٹیکولرلی بیوٹی فل، جس میں صنفی منافرت کے ایسے 64 جملے انہوں نے شطرنج کے ایک دیو قامت تختے کے 64 خانوں پر چسپاں کر دئیے، جو ان پر کسے گئے (مثلاً ’اپنے بارے میں باتیں سننے کی شوقین‘)۔     

شہادے کا فن پارہ بالکل ایسے ہی ایک فن پارے سے متاثر ہو کر بنایا گیا، جو 1534 میں گریشئن ڈو پونٹ نامی فرانسیسی نے تخلیق کیا تھا۔ شہادے کے فن پارے کی طرح ڈو پونٹ نے بھی خاتون سے نفرت پر مبنی 64 جملے اسی طرح ایک دیو قامت شطرنج کے تختے پر چسپاں کیے تھے۔ اگرچہ ڈو پونٹ کا فن پارہ پانچ سو سال قبل تخلیق کیا گیا تھا لیکن ان کے تختے پر موجود جملے شہادے کے جملوں سے زیادہ مختلف نہیں۔ دراصل دونوں میں بنیادی ترین فرق یہ ہے کہ ڈو پونٹ کے جملے خاتون سے نفرت پر تنقید نہیں بلکہ خوشی  کا اظہار ہیں۔   

ڈو پونٹ کے فن پارے کا محرک کیا تھا یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں۔ سولہویں صدی تک شطرنج سست روی اور گرانی کا شکار تھی لیکن 1500 کے قریب کھیل کی نئی شکل آئی جس میں ملکہ ایک ہی چال میں پوری بساط گھوم سکتی تھی (بجائے یہ کہ بادشاہ کی طرح ایک وقت میں ایک خانے تک)۔ اس تبدیل شدہ نئی شکل میں ملکہ سب سے مضبوط چال بن گئی اور بادشاہ کمزور ہو کر رہ گیا۔ نئی شکل کو برا بھلا کہتے ہوا فرضی نام ’پاگل خواتین کی شطرنج‘ (مردوں کے لیے، کوئی شک نہیں)  دیا گیا لیکن یہی شکل آگے چلی۔ کمزور بادشاہ کی مدد کرتی طاقتور ملکہ کا تصور جدید شطرنج کی بنیاد بن گیا۔ ڈو پونٹ جیسے مردوں کے لیے یہ واضح طور پر ایک ناگوار تبدیلی تھی۔      
ڈو پونٹ کے فن پارے سے پتہ چلتا ہے کہ شطرنج میں خواتین کے خلاف نفرت کوئی نئی چیز نہیں، کیونکہ شطرنج کو عام طور پر ذہنی صلاحیت کا نہایت اہم امتحان تصور کیا جاتا ہے اس لیے اپنی بالادستی پر مُصر مرد کے لیے خاتون کے ہاتھوں شکست اس کے پورے نظریہ زیست کی توہین ہے۔ یہاں تک کہ حوصلہ مند مرد بھی حیران کن طور پر اسے باعث تشویش سمجھتے ہیں۔ یوکرین کی گرینڈ ماسٹر آنا موزیچک کہتی ہیں: ’کسی بھی دوسرے میدان کی طرح مرد اس میں بھی خاتون کے ہاتھوں ہارنا نہیں چاہتے اور بعض اوقات وہ غصے میں بھی آ جاتے ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں نے مجھے مردوں کے چونکا دینے والے واقعات سنائے ہیں جب ان سے شکست کے بعد انہوں نے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا۔ ایک بیچارے شکست خوردہ نے تو مہرے بساط  پر زور سے پٹخ دیے تھے۔‘

انسانی جدوجہد کے ہر شعبے میں بار بار مرد و خواتین کی کارکردگی کے فرق کو فطری یا غیر فطری کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ جیسے جیسے معاشروں میں صنفی امتیاز کم ہو رہا ہے خواتین نے ہر شعبے میں یہ خلیج کم کرنا شروع کر دی ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ شطرنج کا معاملہ اس سے مختلف ثابت ہو۔ آنا موزیچک اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ’یہ فرق کم ہو رہا ہے۔ انہیں ایک اور بات سے بھی باخبر ہونا چاہیے۔ یقیناً شطرنج میں دماغی صلاحیت کا عمل دخل ہے لیکن یہ بنیادی طور پر حربے اور حکمت عملی پر انحصار کرتی ہے اور یہ ایسی چیزیں ہیں جو آپ کو سیکھنا پڑتی ہیں۔ بہت سی دیگر سرگرمیوں کی طرح جس قدر آپ شطرنج کھیلتے جاتے ہیں اس میں بہتر ہوتے جاتے ہیں: مشق، مشق مشق، صبح، دوپہر شام۔ تقریباً ہر سطح پر بہترین کھلاڑی وہی ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ کھیلی ہوتی ہے۔ اگر لڑکیوں کو بھی اتنے ہی مواقع ملیں تو وہ بھی اتنی ہی اچھی ہو جائیں گیں۔‘

تاہم ایسا مسابقتی ماحول تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں، جہاں تمام کھلاڑیوں کے پاس برابر کے مواقع ہوں۔  تعصب ایک طاقتور اندھا جذبہ ہے۔ لاشعوری جانبداری کی جڑیں بہت گہری ہوتی ہیں۔ چیزوں کو تبدیل ہونے میں کئی نسلیں لگ جاتی ہیں۔ سو دنیا تبدیل ہونے کا انتظار کرنے کی بجائے اگر آپ عمومی معاشرے سے ایک لڑکی لے کر اسے ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں وہ خواتین کے پیچھے رہ جانے والی تمام مشکلات سے آزاد ہو تو کیا ہو گا؟ اچھا، اب ہمارے پاس اس کا جواب ہے کیونکہ بالکل ایسا ہی عظیم ترین خاتون کھلاڑی جوڈٹ پولگر کے ساتھ ہوا تھا۔ 

جوڈٹ پولگر کے والد لیزلو پولگر ایجوکیشنل سائیکالوجسٹ تھے جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ عبقری پیدا نہیں ہوتے، تیار کیے  جاتے ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک مقالہ لکھا لیکن یہیں پر بس نہیں کی۔ حیرت انگیز طور پر انہوں نے اپنی خاندانی زندگی تجربے کی نذر کر دی تاکہ وہ اپنے عظیم خیال کو درست ثابت کرسکیں۔ اپنی اہلیہ کلیرا کے ساتھ انہوں نے اپنی تین بچیوں کو گھر میں تعلیم دی (آج کی نسبت تب یہ بالکل ہی انوکھی چیز تھی بالخصوص کیمونسٹ ہنگری میں جہاں ان کا خاندان رہتا تھا) اور بلند مقاصد مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص قسم کی تعلیم دی۔ نتیجہ انتہائی شاندار تھا بالخصوص جب شطرنج کے حوالے سے بات کی  جائے۔

لیزلو نے اپنی بچیوں کو محض شطرنج ہی نہیں سکھائی (انہوں نے دیگر چیزوں کے ساتھ اس انہیں  مصنوعی زبان Esperanto بھی سکھائی) بلکہ یہ ان کے نصاب کا ایک بنیادی جزو تھا۔ نتیجہ دیدنی تھا۔ اپنی اوائل عمری میں ہی تینوں بہنیں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کا نہ صرف مقابلہ کر رہی تھیں بلکہ انہیں مات بھی دے رہی تھیں۔ لیزلو کی بڑی بیٹی سوزن  گرینڈ ماسٹر بنیں۔ ان کی دوسری بیٹی صوفیہ عالمی ماسٹر بنیں۔ جوڈٹ ان دونوں سے بھی آگے نکل گئیں۔   
انہوں نے دی انڈپینڈنٹ سے وابستہ ڈومینک لاسن کو بتایا کہ ’عملی طور پر اپنی پیدائش کے وقت سے ہی میں ایک تعلیمی تجربے کا حصہ بن گئی۔ یہاں تک کہ میری اس دنیا میں آمد سے پہلے ہی میرے والدین فیصلہ کر چکے تھے کہ میں شطرنج کی کھلاڑی بنوں گی۔‘  اور کیا شاندار کھلاڑی بنیں وہ! دنیا کے پہلے نمبر پر موجود کھلاڑی کو شکست دینے والی واحد خاتون جوڈٹ نے مجموعی طور پر موجودہ اور سابقہ 11 عالمی چیمپیئنز کو شکست سے دوچار کیا۔  

اگر لیزلو نے اپنے تین بچوں کی پرورش اس ڈھنگ سے کی تھی تو یہ تجربہ نہایت دلچسپ ہوگا۔ جس چیز نے سب سے زیادہ دلچسپی کا سامان پیدا کیا وہ یہ حقیقت ہے کہ اتفاق سے ان کے ہاں تینوں بیٹیاں ہوئیں۔ آس پاس کسی لڑکے کی غیر موجودگی کے سبب ان کی بیٹیاں عمومی صنفی تعصب سے محفوظ رہیں۔ ان کی اس یقین کے ساتھ پرورش ہوئی کہ شطرنج ایسی چیز ہے جسے خواتین بھی مردوں کی طرح اتنی ہی عمدگی سے کھیل سکتی ہیں اور انہوں نے کھیل کر دکھایا۔ یقیناً اس عمل کے نتیجے میں ہمیشہ جوڈٹ (یا سوزن یا صوفیہ) جیسے اچھے کھلاڑی ہی پیدا نہیں ہوں گے لیکن آپ اس تجربے کو اخلاقی بنیادوں پر جیسا بھی سمجھتے ہوں یہ اس بات پر قائل کرنے کے لیے کافی ہے کہ فطرت نہیں بلکہ پرورش خواتین کو بلند ترین سطح پر پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔   

لاسن نے 1987 میں پولگرز سے ملاقات کی جب وہ محض 13 برس کی تھیں۔ لاسن نہایت عمدہ کھلاڑی ہیں لیکن جوڈٹ نے انہیں شطرنج کے اس کھیل میں شکست دی جو آنکھوں پر پٹی باندھ کر کھیلا جاتا ہے۔ ان کی صلاحیت سے ہٹ کر جس چیز نے لاسن کو اس دن ورطہ حیرت میں ڈال دیا وہ جوڈٹ کی  ’بے رحم جارحانہ جبلت‘ تھی، جس کا امریکہ کے سابق چیمپیئن جوئیل بینجمن نے بھی پانچ گھنٹے کے طویل اعصاب شکن مقابلے کے بعد مشاہدہ کیا تھا۔

لاسن کے بقول: ’وہ نہایت بے رحم حریف تھیں اور ہیں۔ ایک نفسیاتی وصف جو خالص ذہنی صلاحیت سے بہت الگ چیز ہے۔ بینجامن کی بیان کردہ بے رحم جارحانہ جبلت‘ ایسی چیز ہے، جس کی اکثر والدین اپنی بیٹیوں میں حوصلہ افزائی نہیں کرتے لیکن ایک بیٹے میں مثبت طریقے سے پروان چڑھاتے ہیں۔‘  تاہم جوڈٹ کے والدین اکثر والدین کی طرح سے نہیں تھے اور اس وجہ سے ایک سٹار کا جنم ہوا۔ 

حیرت انگیز طور پر اوائل جوانی میں پولگر سسٹرز جب شطرنج میں خوب مہارت حاصل کر چکیں تو صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کرنے کے لیے انہیں بالآخر زیادہ تر مردوں سے ہی واسطہ پڑا۔ زیادہ تر باصلاحیت خواتین کھلاڑی صرف خواتین کے درمیان ہونے والے مقابلوں تک محدود رہتیں۔ سوزن اور صوفیہ پولگر نے بھی مردوں کا سامنا کیا اور خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹیں۔  جب جوڈٹ بالغ عمری کو پہنچیں تو انہیں میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صرف خواتین کے درمیان ہونے والے مقابلوں  کے معیار سے وہ کہیں بلند تھیں۔ دنیا کی کوئی خاتون ان کو ٹکر نہیں دے سکتی تھی۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم صرف خواتین کے درمیان ہونے والے مقابلوں کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔ جو لوگ اس کے حق میں ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ خواتین کھلاڑیوں کو ان انعامات اور شہرت سے نوازتے ہیں جو مخلوط مقابلوں میں شاید ہی انہیں کبھی نصیب ہو۔ فاتح خواتین دیگر خواتین میں اس کھیل کے فروغ کا باعث بھی بنتی ہیں۔ جیسا کہ موزیچک کہتی ہیں: ’وہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو شطرنج کھیلنے کے لیے ابھارتی ہیں۔‘  خواتین کے مقابلوں میں انعامی رقم مخلوط (دراصل مردانہ) مقابلوں کی نسبت اچھی خاصی کم ہے لیکن اب آہستہ آہستہ یہ بڑھ رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب زیادہ خواتین بطور پیشہ اسے اختیار کرتے ہوئے زندگی بسر کر سکتی ہیں۔‘

نتیجتاً گذشتہ 20 برس کے دوران خواتین کا دائرہ پھیلا ہے، لیکن اس کے چند منفی پہلو بھی ہیں۔ صرف خواتین کے درمیان مقابلہ بازی بہترین خواتین کھلاڑیوں کے لیے بہت آسان ہو جاتی ہے۔ اگر بہترین خواتین صرف دیگر خواتین سے ہی کھیلتی رہیں تو وہ کیسے کبھی بہترین مرد کو شکست دے سکیں گی؟ الینا کاشلنسکایا کہتی ہیں: ’میرا خیال ہے کہ خواتین کے لیے کھلے مقابلوں میں کھیلنا زیادہ سود مند ہے۔‘ موزیچک کہتی ہیں: ’عمومی بات کی جائے تو یہ ہماری ترقی کے لیے بہتر ہے۔ لوگوں کو نہیں سمجھ آتی کہ یہ تفریق کیوں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شطرنج محض ایک کھیل ہے کہ جہاں آپ کی دماغی صلاحیتیں وقعت رکھتی ہیں لیکن یہ درست نہیں ہے۔ پس پردہ بھی بہت کچھ ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہتر ہے جو خواتین کے الگ مقابلے بھی ہوتے ہیں۔‘

یہ ایک طرح سے ٹینس کی طرح ہے۔ ٹینس کی بہترین خواتین کھلاڑی سب سے بہتر ہیں سوائے چوٹی کے مرد کھلاڑیوں کے کیونکہ بلند ترین سطح پر بے رحم جسمانی توانائی کا عنصر (بجائے محض صلاحیت کے) مردوں کا پلڑا بھاری کرتا ہے۔ مسابقتی شطرنج کٹھن جسمانی مشقت بھی ہے۔ لاسن اسے مسلسل کئی ہفتوں پر مشتمل پانچ گھنٹے کے تعلیمی امتحانات سے تشبیہ دیتے ہیں جو ہر سال دینا پڑتے ہیں۔ 

لیکن اگر جوڈٹ پولگر بہترین مردوں کا سامنا کرسکتی اور انہیں ہرا سکتی ہیں تو یقیناً دوسری خواتین بھی کر سکتی ہیں؟ کیسپروف کہتے ہیں: ’ان میں شطرنج کھیلنے کی زبردست صلاحیت ہے لیکن آخرکار ہیں تو ایک خاتون ہی۔ کوئی بھی خاتون زیادہ دیر تک مقابلے پر ڈٹی نہیں رہ سکتی۔‘  شکست کھائی تو ان کا لہجہ ہی تبدیل ہو گیا۔ ردعمل دیتے ہوئے (پولگر نے سخت مقابلے کے بعد شکست دی) کسپورو نے کہا: ’پولگر کے مقابلوں کو مدنظر رکھا جائے تو لڑکی کی طرح کھیلو کا مطلب، اگر شطرنج میں کچھ ہو گا تو وہ ہو گا کہ انتہائی جارحانہ انداز سے کھیلو۔‘

ماں بننے کے بعد پولگر عالمی فہرست میں دسویں سے پچاسویں نمبر پر آگئیں۔ ان کے بقول: ’میں سب کچھ چاہتی تھی اور یہ کسی طرح بھی ممکن نہیں تھا۔ ہر کھیل میں آپ کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے، آپ کو سو فیصد توجہ دینا پڑتی ہے۔ شاید کبھی بچے کے دیکھ بھال کا آدھا کام مرد اپنے ذمے لے لے گا۔ شاید کبھی ماں بننے کے سبب کیریئر کو دھچکا نہیں لگے گا جیسے مجھے برداشت کرنا پڑا، لیکن مجھے ابھی تک اس شخص کی تلاش ہے جس کے بقول پولگر نے عالمی ٹورنامنٹ سے فیصلہ کن شکست کھانے کے بعد کہا تھا۔ میرا اخراج اچھا ہے کیونکہ میں بالآخر اپنے خاندان میں جا سکتی ہوں تاکہ اپنے شوہر اور اپنے بچوں کے ساتھ رہوں۔‘

یقیناً خواتین اتنی کم فہم نہیں کہ وہ ساری زندگی شطرنج کی رنگین بساط کا طواف کرتے ہوئے گزار دیں۔ آخر پولگر کے لیے شطرنج کے علاوہ بھی زندگی میں بہت کچھ تھا۔



[ad_2]

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.