’باغِ گلِ سرخ‘ میں بارہویں کھلاڑی کی چہل قدمی

Spread the Story
  • 213
    Shares

ویسے تو ’لیونگ لیجنڈ‘ کی اصطلاح خاصی پیش پا افتادہ ہو چکی ہے، لیکن اس بات سے کم ہی لوگ اتفاق کریں گے کہ موجودہ ادبی شعری فضا میں اگر کسی شاعر کے لیے یہ اصطلاح استعمال کی جائے تو افتخار عارف ہی ٹھہریں گے۔ 

یہی وجہ ہے کہ ان کے تازہ شعری مجموعے کی اشاعت ایک ادبی واقعے سے کم نہیں۔

’باغِ گلِ سرخ‘ افتخار عارف کے نصف صدی پر محیط ادبی کیریئر میں ان کی چوتھی باضابطہ کتاب ہے، ورنہ ایسے شاعروں کی بھی کمی نہیں کہ اس سے ایک چوتھائی وقت میں اس سے چار گنا سے زیادہ کتابیں چھپوا چکے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ ’باغِ گلِ سرخ‘ شائع ہوتے ہی موضوعِ گفتگو بن گئی ہے اور سوشل میڈیا پر لوگ اس پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں اور اس کے اشعار ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔

کتاب کی تعریف تو بہت ہو چکی ہے۔ جلیل عالی صاحب بھی اس پر ایک شذرہ لکھ چکے ہیں۔ البتہ ہم چونکہ افتخار صاحب کی شعری صلاحیتوں کے قائل ہیں، اس لیے ’خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے‘ کے مصداق کچھ تنقیدی باتیں کریں گے، جنہیں تنقیص نہ سمجھا جائے۔ 

پہلی بات تو یہ ہے کہ کتاب میں دو تہائی سے زیادہ کلام مذہبی نوعیت کا ہے۔ یہ کسی اعتبار سے کوئی بری بات نہیں۔

کم از کم اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شاعر کو اب اپنی دنیا سے زیادہ عاقبت سنورنے کی فکر ہے، اور شاید ہونی بھی چاہیے۔ 

ایسے معاشرے میں جہاں شاعر ادیب وغیرہم کو خواجہ سگ پرست کے محبوب چوپائے کے لیے مخصوص برتن میں پانی پلایا جاتا ہو، کسی لکھاری کا نصف صدی تک ہر دور میں بامِ عروج پہ ڈٹے رہنا کسی کارنامے سے کم تو نہیں۔

لیکن حالیہ مجموعے پر طائرانہ یا شاعرانہ نظر ڈالتے ہوئے بھی مذہبی کلام کو ظاہر ہے ایک طرف رکھنا پڑے گا۔ اس کا سبب کچھ اور نہیں بعض مروجہ بعض نوشتہ سماجی قوانین ہیں، جن کے مطابق کسی مذہبی معاملے میں اختلاف تو کیا اتفاق بھی خطرے سے خالی نہیں۔ جھٹ فتویٰ، پٹ سزا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خدا کی بستی پر کیسا پیغمبری وقت آ پڑا ہے! خیر اب اس میں شاعر کا بھلا کیا قصور کہ اس نوع کی شاعری کی علمی مجلسوں، ادبی محفلوں میں منوں کے حساب سے کھپت ہے۔

رسد کم پڑے تو پڑے، طلب میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

رقت خیز، اضافت آمیز، تاریخ ریز، عطر بیز۔۔۔ ایسی ہی سنگل فیز شاعری نے عقیدت کے پردے، نسل پرستی کے لبادے میں در حقیقت ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کو پروان چڑھایا ہے۔

وہی مائنڈ سیٹ جس کی جدلیات سے ہمارے شاعر جب خود شاکی ہوئے تو انہیں امتِ سیدِ لولاک سے خوف آنے لگا۔

جب اس کتاب کو افتخار صاحب کی پچھلی کتابوں، خاص طور پر پہلی کتاب ’مہرِ دونیم‘ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ شعر کی گاڑی کچھ آگے نہیں بڑھ سکی۔

اس پر بھی حیرت نہیں ہونی چاہیے، کہ ادبی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر اکثر اوائل جوانی کا گرم خون شاعر کو جس چوٹی پر پہنچا دیتا ہے، بعد میں وہاں تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔

لیکن پھر بھی اس کتاب کو پچھلے پانچ عشروں سے شعری افق پر مسلسل موجود رہنے والے شاعر کی سوغات تسلیم کر کے پڑھا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ 

لیکن اگر اس سے ہٹ کر ’باغِ گلِ سرخ‘ کو تنقید کی کسوٹی پر پرکھیں تو فارسیت کا تڑکا، مضامین کی تکرار اور پیش گفتگی جیسے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

کتاب میں انہوں نے ایک دعویٰ کر رکھا ہے: ’جیسے ہم لکھتے ہیں یوں کوئی نہیں لکھے گا۔‘ دیکھا جائے تو شاعر کا یہ شکوہ بجا بھی ہے اور بےجا بھی۔

جیسے وہ لکھتے ہیں، یا کہہ لیں کہ لکھتے تھے ویسے کوئی نہیں لکھے گا۔ چلیں ٹھیک ہے مگر یہی تعلی غزل کے لہجے میں مسلسل ارتقا کے عمل سے پوری طرح، اور شعوری طور پر کٹ جانے کا اعتراف نہیں تو کیا ہے۔

یادش بخیر، اپنی پچھلی کتاب ’حرفِ باریاب‘ میں بلکہ اس سے پہلے بھی افتخار صاحب نے ایسے ہی دلچسپ اور عجیب، ہر چند کہ باہم متضاد بیانات جاری کر رکھے ہیں:

انیس آتش یگانہ محرمانِ حرمتِ حرف
اور اب اس سلسلے کی آبرو ہم سے رہے گی

پسِ پردہ یہ مزاحم، متصادم لہجہ
کہیں اظہارِ اطاعت ہی کا پیرایہ نہ ہو

ایسے بلا کے سینئر، انتہا کے سیزنڈ شاعر، وہ کیا کہتے ییں، larger than life فگر کی نئی کتاب کا ریویو آخر سموچے شخص و شاعر کے فکر و فن کے اجمالی جائزے میں کیسے بدل گیا؟ اس پر تھوڑا غور کریں تو آپ بھی منیر نیازی کی طرح کہہ اٹھیں گے: سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے۔

عرضیاں ساری نظر میں ہیں رجز خوانوں کی
سب خبر ہے ہمیں کیوں کوئی نہیں لکھے گا

اور اسی رواں دواں غزل کی طرح ’باغِ گلِ سرخ‘ میں جا بجا نہیں، البتہ کبھی کبھار اسی پرانے افتخار عارف کی جھلک دکھائی ضرور دے جاتی ہے، ’مہرِ دو نیم‘ والا افتخار نہ سہی، ’حرفِ بار یاب‘ والا عارف سہی۔ گڈ اولڈ مین آل دا وے، ’میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے‘ جیسے لیجنڈ اشعار کہنے والا افتخار عارف:

کیسے ڈھے جاتا ہے دل بُجھتی ہیں آنکھیں کیسے
ســر نوشتِ رگ خوں کوئی نہیں لکھے گا

کوئی لکھے گا نہیں کیوں بڑھی کیسے بڑھی بات
کیوں ہوا درد فزوں، کوئی نہیں لکھے گا

عرضیاں ساری نظر میں ہیں رجز خوانوں کی
سب خبر ہے ہمیں کیوں کوئی نہیں لکھے گا

بے اثر ہوتے ہوئے حرف کے اس موسم میں
کیا کہوں کس سے کہوں کوئی نہیں لکھے گا

دور کہیں وہ جاگتی آنکھیں اندھیاروں میں ڈوب گئیں
طاقِ دعا میں ایک دِیا تھا وہ بھی ہوا کی نذر ہوا

گلو گرفتہ و لب بستہ شہر کے در و بام
سکوتِ شام میں کرتے ہیں ہائے و ہُو کیا کیا

وفا گمان ہی ٹھہری تو کیا ضرور کہ اب
لحاظِ ہمسفری بھی سفر میں رکھا جائے

شاخِ مژگاں سے جو ٹوٹا تھا ستارہ سرِ شام
رات آئی تو وہی پھول کھلا اور طرف


(نوٹ: یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.