000_1QS2N0.jpg

’رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ غلط تھا، پاکستانی ایک قضا روزہ رکھیں‘

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان میں ہر اسلامی مہینے کا چاند دیکھنے کے لیے ذمہ دار مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے بدھ کو ماہ شوال کی رویت اور جمعرات کو عید الفطر منانے سے متعلق اعلان نے نئی بحث اور تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے بدھ کو رات گئے شوال کا چاند نظر آنے سے متعلق شہادتوں کے موصول ہونے اور درست ہونے کی تصدیق اور اعلان کے بعد آج 13 مئی کو ملک بھر میں عیدالفطر منائی جا رہی ہے۔

تاہم مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے کم از کم پانچ اراکین نے اس اعلان کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے پاکستانی  شہریوں کو ایک قضا روزہ رکھنے کی تلقین کی ہے۔

لاہور سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن پروفیسر ڈاکٹر راغب نعیمی جو کمیٹی کے بدھ کے اجلاس میں موجود تھے  نے جمعرات کو عیدالفطر منانے سے متعلق فیصلے اور اعلان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ محض قومی وحدت قائم رکھنے کے لیے مذہبی امور پر ایسے غیر سنجیدہ انداز میں کام نہیں کیا جا سکتا۔

GCN سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’شوال کا چاند نظر آنے سے متعلق رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ بالکل غلط تھا، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو بعد میں ایک روزے کی قضا پوری کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر راغب نعیمی نے مزید کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد ملک کے جید علما نے آپس میں رابطے کر کے اس فیصلے کو غلط قرار دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اگرچہ ہم نے کمیٹی کے اعلان کے مطابق جمعرات کو عید منانے کا فیصلہ کیا لیکن یہ غلط ہے اور پاکستان کے ہر مسلمان کو اس روزے کی قضا ادا کرنا ہو گی۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن علما نے رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کو غلط قرار دیا انہوں نے مسلمانوں میں مسلکی بنیادوں پر تقسیم کے ڈر سے آج عید منانے کا فیصلہ کیا۔

’میں نے خود آج جامعہ نعیمیہ، لاہور میں نماز عید پڑھائی لیکن اپنی تقریر میں لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ بعد میں کسی وقت ایک قضا روزہ ضرور رکھیں۔‘

دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چئیرمین مفتی منیب الرحمان نے بھی کراچی میں نماز عید کے دوران نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے جمعرات کی عید کو غلط قرار دیا اور ایک روزے کی قضا ادا کرنے کی ہدایت کی۔

بعد میں GCN سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان  نے کہا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ بالکل غلط تھا کیونکہ بدھ کی شام شوال کے چاند کے نظر آنے کا امکان بالکل موجود نہیں تھا۔

فیصلہ کیسے ہوا؟

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد نے GCN کو بتایا کہ کمیٹی نے رویت سے متعلق فیصلہ عین شریعت اور شہادتوں کے مطابق کیا اور اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اعلان اتنا دیر سے کیوں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ شہادتوں کو پرکھنے میں وقت لگا اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی کئی مرتبہ رات گئے چاند کے نظر آنے سے متعلق اعلانات کیے جاتے رہے ہیں۔

تاہم کمیٹی کے ایک رکن نے GCN کو بتایا کہ رویت ہلال کمیٹی نے پہلی مرتبہ چاند نظر آنے سے متعلق فیصلہ ووٹنگ کے ذریعے کیا۔ ’کمیٹی اراکین کی اکثریت نے کہا کہ شوال کے چاند کی رویت سے متعلق شہادتیں درست ہیں اور عیدالفطر کا اعلان کر دیا جائے۔‘

مفتی راغب نعیمی نے کہا کہ کمیٹی کے پانچ اراکین نے اس فیصلے کی مخالفت کی جن میں تین اراکین حکومتی محکموں بشمول سپارکو اور محکمہ موسمیات کے نمائندے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی ماہرین اراکین کے علاوہ مخالفت کرنے والوں میں وہ خود اور اصغر عطاری شامل تھے۔

’میں نے خود تحریر کیا کہ یہ ایک غلط طریقے سے کیا گیا انوکھا فیصلہ ہے اور اس سے مستقبل میں تحقیق کاروں کو چاند دیکھنے سے متعلق رہنمائی حاصل ہو گی۔‘

تاہم کمیٹی کے چئیرمین عبدالخبیر آزاد کا کہنا تھا کہ فیصلے کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔ ’جب قاضی فیصلہ کر لیتا ہے تو اس پر عمل کرنا سب پر لازم ہو جاتا ہے۔‘

شہادتوں کو پرکھا نہیں گیا؟

بدھ کی رات مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے فوراً بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، جس میں کمیٹی کے رکن ڈاکٹر ظفر یاسین کو چاند نظر آنے کی تصدیق اور جمعرات کو عید الفطر منانے سے متعلق فیصلوں کو غلط قرار دیتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

رکن کمیٹی اس ویڈیو میں سابق چئیرمین مفتی منیب الرحمان کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’مفتی صاحب اور ان کی کمیٹی بہت یاد آئی، وہ ڈٹ جایا کرتے تھے۔‘

راغب نعیمی کا خیال تھا کہ کمیٹی اراکین کو رویت کی شہادت دینے والوں کو گرل (Grill) کرنے کا موقع نہیں دیا گیا جس کے باعث شکوک کا موجود ہونا لازمی امر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صرف تین اراکین کمیٹی گواہوں سے سوال جواب کر رہے تھے جبکہ باقی اراکین کو یہ موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

کمیٹی کے ایک اور رکن نے GCN کو بتایا کہ چئیرمین کو ایک وفاقی وزیر نے ٹیلیفون کر کے ان کے علاقے سے موصول ہونے والی شہادتوں کو قبول کرنے کا کہا۔

’اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومتی وزیر بھی چئیرمین صاحب پر دباو ڈال رہے تھے۔‘

رویت کے سائنسی امکانات

پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق شوال (1442 ہجری) کے چاند کی پیدائش 12 مئی کو ہونا تھی اور اس کا اسی شام نظر آنے کا کوئی امکان موجود نہیں تھا۔

واضح رہے کہ قمری کیلنڈر کے مطابق ہر مہینہ 29 یا 30 دنوں کا ہو سکتا ہے اور کسی مہینے کی 29 تاریخ کو اگلے مہینے کا چاند نظر نہ آنے کی صورت میں وہ مہینہ 30 روز کا ہوتا ہے۔  

دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی چند روز قبل ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تیار کردہ ہجری کیلنڈر اور رویت ایپ کے مطابق شوال کا چاند 13 مئی کو ہی نظر آئے گا اور عید جمعے کے روز ہو گی۔ 

فواد چوہدری نے بحیثیت وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی آئندہ کئی سالوں کا ہجری کیلنڈر اور رویت موبائل ایپ تیار کروائی تھی جن پر علما اور خصوصاً سابق سربراہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.