000_97X6AH.jpg

چاند کی گواہی دینے والوں کی تصدیق کیسے کی جاتی ہے؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

پاکستان میں برسوں سے رمضان اور شوال کے چاند کو دیکھنے پر سرکاری اور غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹیوں کے مابین تنازع کھڑا رہتا ہے۔

پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی غیر سرکاری رویت کمیٹی عموماً سرکاری مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے ایک دن پہلے رمضان یا شوال کا چاند نطر آنے کا اعلان کرتی آئی ہے۔

چاند کی رویت کی گواہی دینے کے لیے سرکاری و غیر سرکاری دونوں کمیٹیوں کو شہادتیں موصول ہوتی ہیں۔

گواہی دینے والے کہتے ہیں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے اور انہی شہادتوں کو پھر کمیٹی کے اراکین کی جانب سے پرکھا جاتا ہے۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے بدھ کی رات تقریباً 11 بجے پریس کانفرنس میں اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ خیبر پختونخوا سمیت بلوچستان سے چاند کی رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں ہیں اور کمیٹی نے ان شہادتوں کو پرکھنے کے بعد درست تسلیم کیا ہے۔

یہی بات پشاور کی غیر سرکاری کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بھی کہی کہ انہیں صوبہ بھر سے 24 شہادتیں موصول ہوئیں اور گواہان خود کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے جس کے بعد ان شہادتوں کو درست مانا گیا۔

GCN نے علما سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کوئی بھی شخص جب چاند کی رویت کا دعویٰ کرتا ہے تو ان شہادتوں کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔

پشاور کے علاقے فیز 6 کی ایک مسجد کے خطیب اور صوبے کے جید علما میں شامل مولانا  ڈاکٹر شمس الحق حنیف نے GCN کو اس حوالے سے بتایا کہ شہادتوں کو پرکھنے کا طریقہ کار بہت تفصیلی ہے اور اس میں سب سے پہلے رویت کی شہادت دینے والوں کے لیے ایک اہلیت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ کسی بھی مسئلے میں شہادت دینے کا تعلق اس شخص کی ذات سے نہیں بلکہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے جس طرح رمضان یا شوال کے چاند کی رویت کی شہادت ہے جس کے ساتھ کروڑوں لوگوں کے روزے سے اس کا تعلق ہے۔

’اب جب گواہی کا تعلق کروڑوں لوگوں کے ساتھ ہو تو اس میں گواہی دینے والے کی عدالت کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ کتنا عادل ہے یعنی شہادت دینے  والا بالغ عاقل  ہے اور  کتنا ایماندار ہے اور دوسری بات اس میں گواہی دینے والوں سے چاند دیکھنے کی  نشانیاں اور علامات  پوچھی جاتی ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ  نشانیوں کے حوالے سے مختلف سوالات پوچھے جا سکتے ہیں جیسے کے گواہی دینے والے سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے چاند کس وقت دیکھا تھا، چاند کی سمت کس جانب تھی، چاند کا فاصلہ سورج سے کتنا دور تھا اور  اس طرح چاند کے حوالے سے مختلف سوالات پوچھے جاتے ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ جس شخص نے رویت کا دعویٰ کیا ہے وہ واقعی چاند ہے یا کوئی اور چیز۔

ڈاکٹر شمس الحق نے بتایا کہ چاند کے حوالے سے شہادت کو قبول کرنے کے حوالے سے قاضی یا کوئی بھی شخص جو شہادت کو قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہو، عقل عام سے بھی کام لے گا یعنی قاضی اپنی عقل بھی استعمال کر کے  چاند کی رویت کے حوالے سے گواہی دینے والے  کی بات کو پرکھے گا۔

’عقل عام سے مراد یہ ہے کہ اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اس نے جو چاند دیکھا ہے وہ جنوب کی جانب تھا یا وہ کہے کہ چاند کی سمت مخالف پر تھی یا جو وقت گواہی دینے والے نے بتایا اسی وقت پر چاند دیکھنے کا کوئی امکان نہیں ہوتات تو ان ساری باتوں کو مد نظر رکھ کر گواہی کو قبول یا رد کیا جائے گا۔‘

ڈاکٹر شمس الحق نے مزید بتایا کہ اس میں ایک اور بات مطلع صاف ہونے کی ہے کہ اگر مطلع صاف ہو، گردو غبار نہ ہو یا آلودگی نہ ہو تو عقل عام یعنی ’کامن سینس‘ تو یہی کہتی ہے کہ اس حالت میں اگر ایک شخص چاند کی رویت کا دعویٰ کرے تو قاضی کو یہ سوچنا ہوگا کہ اگر چاند نظر آیا ہے تو یہ تو سب کو  نظر آنا چاہیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح گواہی قبول یا رد کرنے والے قاضی یا کوئی بھی شخص اس کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گواہی دینے والا شخص عادتاً جھوٹ بولنے والا  تو نہیں یا جو شخص گواہی قبول کرنے والا ہے وہ گواہی دینے والے کو نہ جانتا ہو یا کہاں سے اس کا تعلق ہے،  تو اس حالت میں بھی گواہی قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا ہوگا۔

ڈاکٹر شخص الحق نے بتایا کہ اگر مطلع ابر آلود ہو اور کوئی شخص رویت کا دعویٰ کرے تو ایسی شہادت کو پرکھنے کے لیے گواہی دینے والے شخص سے باقاعدہ پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیسے چاند دیکھ لیا۔ اسی طرح ڈاکٹر شمس کے مطابق رمضان اور شوال کے چاند کی شہادتوں کی تعداد میں فرق ہے یعنی رمضان کا چاند دیکھنے کی تعداد کم بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن شوال کا چاند دیکھنے کے لیے شہادتوں کی تعداد زیادہ ہونی چاہیے۔

’ایک سادہ معاملے کو پیچیدہ بنایا گیا ہے‘

مولانا محمد اسماعیل پشاور کے جید علما میں سے ایک ہیں اور ماضی میں پشاور کی سرکاری زونل رویت ہلال کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چاند کی رویت کا معاملہ شرعی طور پر ایک نہایت سادہ معاملہ ہے لیکن پاکستان میں اس کو پیچیدہ بنایا گیا ہے اور اس کا تعلق چاند دیکھنے کے حوالے سے ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیغمر اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ پورا سال ہر مہینے کو چاند  دیکھا جائے اور اس کے لیے اتنی زیادہ جھنجھٹ میں پڑنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ آنکھوں کے ذریعے چاند دیکھنے کا معیار ہے اور کوئی گواہی دے تو اس کو قبول کیا جائے اور یہی دیکھنا معتبر سمجھا جائے گا اور اسی پر فیصلہ کیا جائے گا۔

مولانا اسماعیل نے GCN کو بتایا کہ  شرعی طور پر 29ویں رمضان یا رمضان کے لیے 29ویں شعبان کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے اور اگر چاند نظر آ جائے تو عید منانا چاہیے لیکن اگر مطلع ابر آلود ہو اور چاند نہ نظر آئے تو رمضان کے 30 روزے مکمل کر کے عید منانے کا حکم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اگر کسی ریاست میں رویت کے حوالے سے ایک نظام موجود ہے اور کمیٹیاں بھی موجود ہیں تو وہ چاند دیکھنے کا اہتمام کریں گے۔

’شہادتوں کے حوالے سے اصول  یہ ہے کہ اگر کسی زونل کمیٹی کو کوئی شخص چاند دیکھنے کی رویت کے حوالے سے گواہی دے  تو زونل کمیٹی گواہی دینے والے شخص کی شہادت پرکھنے کے بعد اس کو قبول کرے تو مرکزی کمیٹی کو رد کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس کو ایک  پیچیدہ معاملہ بنایا گیا ہے اور اس کی مثال کل شوال کے چاند کی رویت کا معاملہ ہمارے سامنے ہے کہ پشاور کے زونل کمیٹی کے سامنے ایک درجن کے قریب گواہ پیش ہوئے اور ان گواہوں کو قبول بھی کیا گیا تھا لیکن مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے عید کے اعلان کو اتنا طول دیا کہ معاملہ متنازعہ ہو گیا۔

’گواہی قبول کرنے کے حوالے سے زونل کمیٹی کو مکمل اختیار ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں کو قبول کرے اور اس کے بعد مرکزی کمیٹی انہی گواہوں کی بنیاد پر عید یا رمضان کا اعلان کرے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.