mandir2.jpg

لکی مروت کا قدیم مندر جس میں آج سکول قائم ہے

Spread the Story
  • 213
    Shares

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہندو برادری کی ہجرت کے بعد یہاں کا مندر خالی پڑا تھا جس میں ایک پرائمری سکول قائم کر دیا گیا ہے، تاہم اس مندر کی عمارت خستہ حالی کی وجہ سے زمین بوس ہونے کا خدشہ ہے۔

ضلع لکی مروت میں ہندو برادری کی چار عبادت گاہیں تھیں جن میں سے ایک میں اس وقت مسلم برادری کا پرائمری سکول چل رہا ہے جب کہ باقی تین مندروں کو مسمار کر کے ان کی جگہ دکانیں، مارکیٹیں اور مکانات تعمیر ہو چکے ہیں۔

ہندو برادری کے رہنما آکاش اجیت نے GCN سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ’خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہماری ہندو برادری کی چار عبادت گاہیں تھیں جن میں سے تین مسمار جبکہ ایک عبادت گاہ یعنی مندر آج بھی قائم ہے۔  قیام پاکستان سے قبل ہماری برادری نے لکی مروت کی عبادت گاہوں میں عبادت کرتی تھی۔‘

انہوں نے بتایا: ’یہ مندر 1870 میں تعمیر ہوا تھا اور 1902 میں اس مندر پر باقاعدہ ہندو برادری نے بورڈ لگایا۔ تاریخ کے مطابق تقریباً 30 سال دیر اس لیے ہوئی کہ اس دوران ہمارے ہندو برادری کے چند مشران کی وفات ہوئی تھی اسی وجہ سے 1902 میں مندر کی رجسٹریشن ہوئی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آکاش اجیت کے مطابق: ’جب 1961 میں ہماری برادری نے بھارت سمیت دیگر ممالک میں ہجرت کی تو یہ عبادت گاہیں سنسان پڑ گئیں۔ کیونکہ لکی مروت میں ہماری برادری نہ رہی پھر اسی مندر میں1961 ہی میں مسلم برادری کا پرائمری سکول قائم ہوا۔ وقت بدلتے بدلتے پر 1947 میں محکمہ اوقاف نے ہماری عبادت گاہ یعنی مندر اپنی تحویل میں لے لیا جو آج تک اسی کی تحویل میں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’چند سال قبل حکومت کی جانب سے ایک خط آیا تھا تو اس کی روشنی میں ہماری برادری نے جواب لکھ کر بھیجا کہ چونکہ لکی مروت میں اب ہندو برادری نہیں ہے اسی وجہ سے ہندو برادری فی الحال مندر میں سکول ہی کے قائم رہنے کی خواہاں ہے۔

’ہمیں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری عبادت گاہ سے قوم کے معمار نکلتے ہیں اور اس میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے اور خوشی کی بات ہو ہی نہیں سکتی ہماری برادری کے ماننے والوں کی آج بھی خواہش ہوتی ہے کہ ہم جب پاکستان کا دورہ کریں گے تو لکی مروت مندر کا بھی باقاعدہ دورہ کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ضلع لکی مروت میں ہندو برادری کی چار عبادت گاہیں تھیں اور ہماری ہی ملکیت ہیں جب بھی ہم چاہیں محکمہ اوقاف کو درخواست دے سکتے ہیں۔

سینیئر صحافی لیاقت علی صیام نے بتایا کہ ہندو برادری کا مندر محکمہ اوقاف کی تحویل میں ہے اور ایک پرائمری سکول قائم ہے لیکن خستہ حالی وجہ سے کسی بھی وقت زمین بوس ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم باقاعدہ محکمہ اوقاف کو سکول کرایہ دے رہا ہے۔ آج بھی مندر میں ہندو برادری کی تحریر موجود ہے، اور اس مندر کا نام مندر سکول رکھا گیا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ازسر نو کی تعمیر کے بارے میں محکمہ تعلیم کا موقف ہے کہ مندر محکمہ اوقاف کی تحویل میں ہے اگر ان کی تحویل میں  ہوتا تو از سر نو تعمیر کی جاتی۔

سکول کے ٹیچر نے GCN کو بتایا کہ یہ عمارت بہت پرانی ہے اسی وجہ سے بوسیدہ ہے، ہمارے ساتھ چار سو سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں مجبوری کی وجہ سے مندر صرف پرائمری سکول تک محدود رکھا ہے۔

ورثے کی حفاظت اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے اگر حکومت اس قدیم ورثے کو توجہ دے گی تو اسے دیکھنے کے لیے ہندو برادری دیگر ممالک سے ضلع لکی مروت کا رخ کرے گی جس سے بھائی چارے کی فضا بحال ہو جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.