447adfa4-30f5-49cc-b9dc-9579cec45b96.jpeg

آگے پیچھے چلتا، سر ہلاتا بلوچستان کے طلبہ کا بنایا ہوا انسان نما روبوٹ

Spread the Story
  • 213
    Shares

تعلیم کی سہولیات اور سکولوں میں لیبارٹریوں کی کمی کے باعث اکثر بلوچستان کے طالب علم سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں کارکردگی دکھانے سے قاصر رہتے ہیں۔

کچھ ایسے طالب علم جنہوں نے کسی فیلڈ میں نمایاں کام کیا بھی ہے تو وہ ایسے ہیں جنہوں نے بلوچستان سے باہر جا کر یا بیرون ملک سکالر شپ حاصل کرکے ایسا کیا۔

مگر اب یہ صورت حال تبدیل ہورہی ہے اور بلوچستان کے نوجوان محدود اور دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے بھی اپنی صلاحیتوں کے ذریعے نئی چیزیں تخلیق کررہے ہیں۔

کم ترقی یافتہ علاقوں قلات اور سوراب سے تعلق رکھنے والے جامعہ بلوچستان کے شعبہ فزکس کے دو طالب علموں عزیز احمد شاہوانی اور مختار احمد نے انسان نما روبوٹ تخلیق کرکے نئے آنے والوں کے لیے راستے کا تعین کردیا ہے۔

میٹرک پاس کرنے تک قلات کے عزیز احمد شاہوانی کو لکھاری بننے کا شوق تھا مگر جب وہ کالج کی سطح تک پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ کالج میں فزکس کا لیکچرار ہی نہیں ہے۔ تو انہوں نے سوچا کہ انہیں اس شعبے میں جا کر کچھ کرنا چاہیے۔

عزیز احمد شاہوانی نے جب جامعہ بلوچستان سے ایف ایس سی میں داخلہ لیا تو انہیں سائنس کے شعبے میں دلچسپی پیدا ہوئی، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ وسیع شعبہ ہے، جہاں روزانہ نئی چیزیں تخلیق ہورہی ہیں۔

عزیز بتاتے ہیں کہ ابتدا میں انہوں نے روبوٹ بنانے کے بارے میں نہیں سوچا لیکن جب فائنل ایئر کا وقت آیا تو ہر ایک کو کسی چیز پر ریسرچ کرنا یا کوئی تخلیق سامنے لانا ہوتی ہے۔’اس دوران ہم نے محسوس کیا کہ جامعہ بلوچستان میں آج تک کسی نے کوئی روبوٹ تخلیق نہیں کیا جس پر میں نے اور مختیار نے مل کر فیصلہ کیا  کہ ہم خود ہی روبوٹ بنائیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی ابتدا میں ہی ہمیں مشکلات کا سامنا شروع ہوا کیونکہ ہم کسی کو کاپی نہیں کرنا چاہتے تھے اور اس کو اپنی تخلیق بنانا چاہتے تھے۔ سامان اور سینسرز موٹرز کی عدم دستیابی کے مسائل ہمارے سامنے تھے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عزیز نے بتایا کہ اس مشکل سے نکلنے کے لیے انہوں نے مارکیٹ میں دستیاب چیزوں کو استعمال کرنےکا فیصلہ کیا، جس میں گاڑیوں کی موٹرز، موٹر سائیکل کے چین وغیرہ اور دیگر سامان شامل ہیں۔

ان کے ساتھی تخلیق کار مختیار احمد نے بتایا کہ شروع میں روبوٹ کے پاؤں بنانے کے لیے اشیا ڈھونڈنے میں وقت لگا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ٹانگیں اور اوپرکے حصے پر کام شروع کیا۔ مختار نے روبوٹ کے پیروں سے لے کر گردن کے درمیان کا حصہ بنایا جس میں مختلف دھاتوں کا استعمال ہوا۔

روبوٹ کے پیروں میں چین لگی ہوئی ہے جس کی مدد سے یہ آگے پیچھے چلتا ہے۔ یہ ہاتھ اٹھا کر ملا بھی سکتا ہے اور اسے واپس پیچھے بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

مختیار احمد نے بتایا کہ ہمارا بنیادی مقصد اس کو انٹرٹینمںٹ روبوٹ بنانا تھا جو اس وقت کامیابی سے ہمارے سامنے موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم مستقبل میں اس میں مزید تبدیلیاں کرکے اسے دنیا بھر میں موجود روبوٹس کی طرح بنانا چاہتے ہیں، جس میں یہ نہ صرف مصنوعی ذہانت سے آرساتہ ہوگا بلکہ اس کو سینسرز اور موٹرز کی مدد سے جدید بنایا جائے گا۔

عزیز نے بتایا کہ جب اس کا سر بنانے کا کام شروع کیا تو اس کے لیے ہم نے تھری ڈی پرنٹر کی مدد لی۔ روبوٹ کی آنکھیں ہیں جو دائیں بائیں اور مختلف زاویے  سے مڑ سکتی ہیں۔ پھر اس کا منہ ہے جو کھلتا اور بند ہو جاتا ہے۔ اور اس کی گردن ہے جو دائیں بائیں اور پیچھے بھی مڑ سکتی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ اس کو بنانے کا کام آسان نہیں تھا۔ لوکل مارکیٹ میں چیزوں کی تلاش اور مطلوبہ پرزہ جات کا حصول بھی انتہائی مشکل مرحلہ رہا۔

عزیز کے بقول: ’ہمیں اسے بنانے میں چھ ماہ کا عرصہ لگا۔ شروع میں بناتے رہے اور پسند نہ آنے پر پھر اس کو توڑ کر دوبارہ بنایا۔ اس طرح  بعض اوقات مایوسی کا سامنا بھی رہا اور اس دوران ہمیں دن رات کا پتہ  ہی نہیں چلا۔‘

عزیز کہتے ہیں کہ جب ہم کبھی  ایک آئیڈیا بناتے اور وہ ناکام ہوجاتا تو دوسرے دن ہم پھر واپس ایک نئی سوچ کے ساتھ کام شروع کرتے جس کی وجہ سے آج ہم ایک مکمل روبوٹ بنانے میں کامیابی سے ہم کنار ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق روبوٹ کا ابتدائی ڈھانچہ بنانے اور اس کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے میں استاد عجب خان کاسی کی مدد شامل رہی ہے، جو ہر لمحے پر ان کی رہنمائی کرتے رہے۔

مختیار احمد نے بتایا کہ بلوچستان میں کسی طالب علم  کے لیے کسی چیز کو تخلیق کرنا مشکل کام ہے کیونکہ ہمارے دیہی علاقوں میں سکولوں میں سے اکثر سائنس لیبارٹریاں نہیں ہیں اور جو ہیں ان میں سہولیات کا فقدان ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی طالب نے کچھ کرنا ہے اور اس کا کوئی وژن ہے، تو اس کا راستہ پھر مشکلات نہیں روک سکتی ۔ مشکل حالات اور سہولیات کی کمی کے باوجود وہ کوئی بھی تخلیق کرسکتا ہے۔

مختیار کہتے ہیں کہ اس کے باوجود کہ ہمارے پاس کسی معیاری یونیورسٹی کے مطابق سہولیات میسر نہیں لیکن جتنی چیزیں اور مشینری ہے اس کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم کوئی تخلیق کرسکتے ہیں، جس کا عملی مظاہرہ ہم نے کرکے دکھایا ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.