جب دلیپ کمار نے ’مشال‘ کے صحافی کے کردار کو مثال بنایا

Spread the Story
  • 213
    Shares

صحافی کا کردار تھا ہی ایسا جاندار جس کے لیے دلیپ کمار کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ پھر سب سے بڑھ کر اس فلم کے ہدایت کار یش چوپڑا تھے، جن کے بارے میں دلیپ کمار کا خیال تھا کہ وہ تخلیقی ہنر سے مالا مال ہیں۔

پھر یہ بھی تھا کہ یش چوپڑا کی اب تک جتنی فلمیں ریلیز ہوئی تھیں انہوں نے بھی باکس آفس پر تہلکہ مچایا تھا۔

ذکر ہو رہا ہے 1983کے اختتامی دنوں کا، جب ہدایت کار یش چوپڑا نے ’مشال‘ نامی فلم بنانے کا اعلان کیا۔ جاوید اختر جو سلیم جاوید کی جوڑی ٹوٹنے کے بعد پہلی بار ’مشال‘ کے لیے نہ صرف کہانی، بلکہ سکرین پلے اور نغمے بھی لکھ رہے تھے۔

ان کا اور یش چوپڑا کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اصول پسند صحافی کا یہ کردار دلیپ کمار کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔

یش چوپڑا جو اس سے قبل بڑے بھائی بی آر چوپڑا کی فلموں نیا دور اور داستان میں معاون ہدایت کار تھے، اب پہلی بار شہنشاہ جذبات کے ساتھ ’مشال‘ کی ڈائریکشن کے لیے بے تاب تھے۔

ادھر دلیپ کمار جو اُس وقت ’کرانتی،‘ ’ودھاتا‘ اور ’شکتی‘ میں حسب روایت غیر معمولی اداکاری دکھا کر خود کی سبقت برقرار رکھے ہوئے تھے۔

انہوں نے بھی ’مشال‘ کے لیے دیگر فلموں کی عکس بندی کی تاریخوں کو آگے پیچھے کر دیا۔

دلیپ کمار نے کم و بیش تین مختلف اوقات میں اس فلم میں اپنا کردار جاوید اختر سے سنا۔ وجہ یہ بیان کی کہ وہ اپنے کردار کو بہتر انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔

جاوید اختر کی ایک خوبی یہ بھی رہی ہے کہ وہ کہانی سناتے ہوئے متعلقہ کردار کے تمام پہلوؤں کو انتہائی خوبصورتی سے ایسے بیان کرتے کہ وہ بھرپور انداز میں واضح ہو جاتا۔

دلیپ کمار نے کردار سمجھ تو لیا تھا لیکن یش چوپڑا کو یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ جہاں بھی انہیں لگے وہ کردار کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہے تو بلا جھجک انہیں ٹوک سکتے ہیں۔ 

دلیپ کمار کے اس پیشہ ورانہ رویے نے یش چوپڑا کی نگاہوں میں ان کی قدر و منزلت میں اور اضافہ ہو گیا۔

ہدایت کار یش چوپڑا کے لیے یہ فلم اس اعتبار سے بھی بڑی اہمیت رکھتی تھی کہ اس سے قبل انہوں نے ’کبھی کبھی،‘ ’سلسلہ،‘ ’دوسرا آدمی‘ اور ’نوری` جیسی رومانی فلمیں تخلیق کرکے خود کے لیے رومنٹک ہدایت کار کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔

گو کہ وہ ’دیوار،‘ ’کالا پتھر‘ اور ’ترشول‘ جیسی ایکشن فلمیں بھی بنا چکے تھے لیکن رومانی فلموں اور گیتوں کے اعتبار سے ان کے بارے میں مشہور ہو گیا تھا کہ وہ پیار و محبت کو بڑی سکرین پر خوبصورتی کے ساتھ ایساپ یش کرتے ہیں کہ کوئی اور ہدایت کار اس خوبی سے کوسوں دور رہتا ہے۔

یش چوپڑا بھی چاہتے تھے کہ وہ خود کو ہمہ صفت ہدایت کار تسلیم کرائیں، جبھی انہوں نے سماجی موضوع کے گرد ’مشال‘ بنانے کا تہیہ کیا تھا۔ فلم کی خاصی سادہ تھی جو مراٹھی زبان کے ایک کھیل سے متاثر تھی۔

ایک ایمان دار، بے باک اور اصول پسند صحافی ونود کمارکی کہانی، جس کی شرافت، دیانتدار ی اور بے باکی سے ایک نوجوان ایسا متاثر ہوتا ہے کہ جرائم کی دنیا کو خیر باد کہہ کر صحافت میں قسمت آزمانے کی جدوجہد کرتا ہے، ادھر ایک درد ناک واقعہ بااصول صحافی ونود کو خود جرم کی راہ پر چلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

نوجوان کے کردار کے لیے یش چوپڑا نے انیل کپور کا انتخاب کیا تھا، ابتدا میں یہ کردار کمل ہاسن کو ملا تھا لیکن وہ دلیپ کمار کی موجودگی میں فلم میں اپنے کردار کے ضائع ہونے کے خوف سے انکار کر گئے۔

یش چوپڑا نے درحقیقت ’مشال‘ کے ذریعے خود کو منوانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ جبھی انہوں نے فلم میں زیادہ تر اُن اداکاروں کو شامل کیا، جن کے ساتھ وہ اس سے پہلے کسی فلم میں کام نہیں کرچکے تھے۔

ان میں انیل کپور ہی نہیں امریش پوری، رتی اگنی ہوتری اور سعید جعفری جیسے اداکار شامل ہیں۔ یہی نہیں یش چوپڑا نے تو فلم کی موسیقی کے لیے بھی لتا منگیشکر کے بھائی ہردیانتھ منگیشکر کی پہلی بار خدمات حاصل کیں۔

یش چوپڑا کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار اس فلم کی عکس بندی میں خاصی دلچسپی لے رہے تھے۔ جب تک عکس بندی رہی، انہوں نے اس کردار کو اپنے اوپر طاری کر لیا۔

منظر کی عکس بندی سے پہلے بھی خوب اچھی طرح اپنے مکالمات کو ذہن نشین کرتے اور ان کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

دلیپ کمار کے مقابل وحیدہ رحمان تھیں، جو ایک طویل عرصے بعد ان کے ساتھ جوڑی بنا رہی تھیں۔ یش چوپڑا نے بمبئی کے مقامی سٹوڈیو میں فلم کے لیے کچی بستی (جھونپڑ پٹی) کا سیٹ لگایا تھا۔

اسے دیکھنے کے لیے جب ہالی وڈ ہدایت کار رابرٹ وائس آئے تو وہ بھی حقیقت سے قریب تر اس سیٹ پر یش چوپڑا کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

کیا دلیپ کمار کی موجودگی ہی اس فلم کی کامیابی کی ضامن بنی؟ اس سوال کا جواب یقینی طور پر مثبت میں ہی دیا جا سکتا ہے۔ بالخصوص ان پر عکس بند کیا گیا وہ منظر، جس نے نہ صرف فلم کو مقبولیت دلائی بلکہ دلیپ کمار کی شہرت میں بے پناہ اضافہ کیا۔

اور وہ منظر تھا، جب فلم میں ولن امریش پوری دلیپ کمار کے پہلے پرنٹنگ پریس کو جلا کر بھسم کر دیتے ہیں اور پھر شاطرانہ چال چل کر کرائے کے مکان سے بھی بے دخل کرا دیتے ہیں۔

ایسے میں وحیدہ رحمان کے ساتھ دلیپ کمار سر چھپانے کا ٹھکانہ رات کی تاریکی میں تلاش کررہے ہوتے ہیں اور پھر وحیدہ رحمان کو اپینڈکس کا شدید درد ہوتا ہے اور دلیپ کمار ہسپتال لے جانے کے لیے ہر گزرتی گاڑی کے سامنے فریاد کرتے ہیں۔

اس منظر میں دلیپ کمار نے بے بسی، لاچارگی اور مجبوری کی ایسی عکاسی کی کہ ہر آنکھ نم ہوئی۔ دلیپ کمارکی گڑگڑاتی ہوئی فریادیں، ’اے بھائی، گاڑی روکو،‘ ’اے بھائی، وہ مر جائے گی، ہسپتال پہنچا دو بھائی صاحب، کوئی ہے،‘ یہ مکالمات فلمی تاریخ کے لیے مثال بن گئے۔

دلیپ کمار کی یہ ہاپنتے کانپتے پکاریں بھیگی سنسان سڑک پر دور سے آتی ہوئی گاڑی دیکھ کر اور درد میں ڈوب جاتیں۔

ہر گاڑی کے ساتھ بھاگنا اور التجائیں کرنے کے مناظر تو جیسے دلیپ کمار کی فنی زندگی کا نچوڑ بن گئے۔ یہی نہیں جب کوئی نہیں رکتا تو ہر در کو کھٹکانے میں بھی دلیپ کمار کا فن عروج پر رہا اور پھر درد اور الم کی اسی کیفیت میں وحیدہ رحمان کی سانسوں کی لڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔

ایک بار پھر دلیپ کمار نے جان سے پیاری بیوی کی جان جانے کے بعد اندرونی کیفیت کا اظہار چہرے کے تاثرات کے ساتھ خوب کیا اور یہیں سے کہانی ایک نیا پلٹا کھاتی ہے۔

بہت کم کو علم ہے کہ اس چار سے پانچ منٹ کے منظر کو عکس بند کرنے کے لیے پانچ دن کا عرصہ لگا۔ یش چوپڑا نے اس منظر کو بمبئی کی سڑک پر رات میں عکس بند کیا۔

ان کے مطابق وہ ہر روز آکر ان مناظر کوعکس بند کر لیتے۔ آخری دن وہ منظر صبح سویرے عکس بند کیا گیا، جب دلیپ کمار دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر خالی خالی نگاہوں سے مردہ بیوی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

یش چوپڑا کے مطابق گو کہ اس سیکوئنس کو مختلف دنوں میں عکس بند کیا گیا لیکن کسی بھی مرحلے میں دلیپ کمار کی اداکاری کے تسلسل میں کوئی جھول نہیں دیا۔

جو اداکاری کا معیار پہلے منظر میں رہا، وہی یکسوئی کے ساتھ جاری رہا۔ یش چوپڑا کا کہنا تھا کہ یہ پرفارمنس وہی کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق دلیپ کمار سے چاہتے تھے اور انہوں نے ان کی توقعات سے زیادہ بہتر پرفارمنس دی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 منظر مکمل ہونے کے بعد انہوں نے برملا دلیپ کمار سے کہا کہ یہ ان کی زندگی اور فلم کا بہترین لیکن مشکل منظر تھا، جو انہوں نے اس قدر آسانی کے ساتھ عکس بند کر لیا۔

اس پر دلیپ کمار نے مسکراتے ہوئے کہ بلاشبہ حالیہ عرصے میں بھی یہ ان کی بھی بہترین اداکاری کا نمونہ تھا۔ فلم میں اسی منظر کو ایک بار پھر اس وقت عکس بند کیا گیا جب دلیپ کمار، انیل کپور کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے صحافت چھوڑ کر جرائم کی دنیا کا انتخاب کیوں کیا۔

ان مناظر میں بھی دلیپ کمار کی اداکاری کا تسلسل وہی تھا جو اس سے پہلے وہ فلم میں دے چکے تھے۔

12 جنوری، 1984 کو ’مشال‘ نمائش پذیر ہوئی تو سپر ڈوپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ ایک مرتبہ پھر دلیپ کمار نے باور کرایا کہ وہ عمر رسیدہ ہوئے ہیں لیکن ان کی فن اداکاری نہیں۔

درحقیقت اس منظر نے تاریخ بنائی۔ آج بھی جب دلیپ کمار کی اداکاری کا ذکر کیا جاتا ہے تو ’مشال‘ کا درد بھرا یہ منظر بھی ذہنوں میں روشن ہو جاتا ہے۔

یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اس فلم کے بعد یش چوپڑا اور دلیپ کمار نے پھر کسی اور فلم میں ایک ساتھ کام نہیں کیا





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.