رونالڈو کی جانب سے کوکا کولا کی بوتل ہٹانا نئی روایت بن گئی

Spread the Story
  • 213
    Shares

مجھے یاد ہے جب مجھے پہلی بار بتایا گیا تھا کہ معروف کھلاڑی انٹرویوز کے دوران بار بار سر کھجاتے ہیں، جس کا بظاہر مقصد پہنے گئے برانڈ کی نمائش کرنا ہوتا ہے، (ٹینس سٹار راجر فیدرر کی جانب سے ایسا کرنا بہت عام تھا لیکن بظاہر جوز مورینہو بھی ایسا ہی کرتے ہیں)۔ ایک بار جب آپ کو اس کا علم ہوجائے تو اس کا نوٹس نہ لینا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے جو ظاہر ہے کہ الجھاؤ کا باعث بنتا ہے۔

لیکن اس عمل سے ہمیں اس غیر معمولی تجارتی طاقت کے بارے میں بھی پتہ چلتا ہے، جو ان کھلاڑیوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

میں یہ سوچتا ہوں کہ کوئی شخص میرے سامنے ہاتھ لہرا رہا ہو اور میں اس کی کلائی پر بندھی گھڑی دیکھ کر اسے خریدنا چاہوں گا (میں ایسا نہیں کروں گا کیوں کہ اس کے لیے میرے پاس اتنی رقم نہیں ہے) لیکن واضح طور پر یہ چھوٹا سا کھیل ہر ایک کی توجہ حاصل کرتا ہے، یا یہ جاری نہیں رہے گا اور ہم بطور تماشائی بہتر طور پر اس کی عادت ڈال چکے ہیں۔

لہذا اس ہفتے معروف فٹ بالر کی جانب سے ایک ایسے بڑے برانڈ کی تشہیر نہ کرنے پر بے حد خوشی محسوس ہوئی جس سے اس کی چار ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

یہ اب تک کی یورپین فٹ بال چیمپیئن شپ کی جھلکیوں کے بارے میں ہے۔ میں یقیناً پرتگالی فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کے بارے میں بات کر رہا ہوں جنہوں نے پیر کو ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ایک پریس کانفرنس کے لیے بیٹھنے کے فوری بعد ہی اپنے سامنے والی میز پر رکھی گئیں کوکا کولا کی دو بوتلیں ہٹا دیں۔ اس کے بعد پرتگال ٹیم کے کپتان نے پانی کی بوتل پکڑتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کی سمجھ میں نہ آئے تو اصل چیز ’ایکوا‘ یعنی پانی ہے۔

ہر ایک تصور کر سکتا ہے کہ یہ کوکا کولا کے لیے خوشی کی بات ہرگز نہیں تھی۔ کمپنیاں رونالڈو جیسے ستاروں کے سامنے اپنی مصنوعات رکھنے کے لیے بہت زیادہ رقم خرچ کرتی ہیں اور کوکا کولا کے حصص کی قیمت میں 1.6 فیصد کی کمی خاص طور پر اچھی علامت نہیں ہے۔ (آنسو بہانے سے پہلے یہ جان لیں کہ حصص کی قیمت بعد میں کچھ حد تک بحال ہو گئی اور کوکا کولا اب بھی 200 ارب ڈالر سے بھی زیادہ مالیت رکھنے والی کمپنی ہے)۔

رونالڈو کے طرز عمل کے بعد کمپنی نے فوری طور پر ایک چھوٹا سا بیان جاری کیا جس میں کہا گیا: ’ہر کسی کو اپنا مشروب منتخب کرنے کا حق ہے۔‘ اوہ تو کیا کسی نے سوچا تھا کہ کوکا کولا کو جھکنا پڑے گا؟

اس موقعے پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ رونالڈو معروف کمپنیوں کی مصنوعات کی تشہیر کرنے میں بالکل نہیں ہچکچاتے۔ آئیے اسے اس طرح نہ دیکھیں جیسے وہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف کھڑے ہو گئے ہوں جب کہ ان کی اپنی دولت کا تخمینہ نصف ارب ڈالر ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن ایجنٹس اور ’برانڈ ایمبیسیڈرز‘ سے گھرے اس گھٹن زدہ کھیل میں بے ساختہ اور آزاد سوچ کو دیکھ کر تازگی کا احساس ہوا۔

کمپنیوں کے لیے یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ عوام اس طرح کی چیزوں کا بہتر جواب دیتے ہیں۔ رونالڈو کی کوک کی بوتلوں کو ہٹانے کی ویڈیو لاکھوں بار دیکھی جاچکی ہے اور یقیناً 36 سالہ رونالڈو کی شہرت کو اس سے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا اور کون جانتا ہے کہ شاید کھیلوں کے دوسرے ستارے بھی اس سے سبق سیکھیں گے اور انہیں احساس ہوگا کہ اپنا منفرد کام اور نقطہ نظر رکھنا ٹھیک ہے۔

ہم اس کے لیے آپ سے نفرت نہیں کریں گے۔ (پال پوگبا نے منگل کو رونالڈو کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے ہائنکن کمپنی کہ ایک بوتل کو پریس کانفرنس کی میز سے ہٹا دیا) اوہ اور اگر آپ میچ کے بعد انٹرویو میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو وہ ’ہاں نہیں‘ یا ’لڑکوں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے‘ سے آگے ہونا چاہیے۔ ہمیں یہ سن کر خوشی ہوگی۔

کوکا کولا اسے ایک اچھی نیوز سٹوری کے طور پر نہیں دیکھے گی جو اسے ہم سب کے لیے بہتر خبر بناتی ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ رونالڈو کی اس ویڈیو کو کتنے بچوں نے دیکھا ہو گا اور سوچا ہو گا، شاید پہلی بار، کہ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔ مصنوعات کی نمائش اہم ہوتی ہے خاص کر جب اس حوالے سے کچھ عجیب کیا جائے۔ تو کیا وہ سب اب اپنا سر کھجانا بند کریں گے؟





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.