’مدر انڈیا‘ کے کنہیا لال جن سے لوگوں نے نفرت کرنا شروع کر دی

Spread the Story
  • 213
    Shares

فلم کی عکس بندی کا آغاز ہونے والا تھا اور 30 برس کے کنہیا لال اِدھر سے ادھر مارے مارے پھر رہے تھے۔

ہدایت کار محبوب خان کی فلم ’عورت‘ کا سیٹ تھا جس میں سردار اختر مرکزی کردار میں جلوہ افروز ہونے جا رہی تھیں۔ یہ وہی سردار اختر ہیں جنہوں نے بعد میں محبوب خان کی بطور دوسری شریک سفر کے شہرت پائی۔

کنہیا لال کی پریشانی بڑھتی جارہی تھی۔ عین جوانی میں وہ عمر رسیدہ شخص کے روپ میں نظر آنے والے تھے، اسی لیے انہیں یہ فکر ستا رہی تھی کہ ان کا گیٹ اپ کس نوعیت کا ہو گا۔ محبوب خان کی توجہ کا مرکز ہیروئن اور ہیرو کے کردار پر تھی۔ دیگر کرداروں کے لیے ان کے معاون ابھی سوچ بچار میں مصروف تھے۔ کنہیا لال کے گیٹ اپ کا تعین ابھی نہیں ہوا تھا۔

کنہیا لال کے لیے یہ فلم اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی تھی کیونکہ اس وقت تک وہ دو تین فلموں میں نظر آئے تھے اور ابھی تک بہتر منزل کی تلاش میں تھے۔ محبوب خان تک رسائی سنیماٹوگرافر فاریدون ایرانی نے کرائی تھی اور محبوب خان نے کنہیا لال کو ’عورت‘ سے پہلے ’ایک ہی راستہ‘ میں کام کرنے کا موقع دیا تھا۔

 کنہیا لال کا تعلق تھیٹر اور آرٹ سے وابستہ خاندان سے تھا لیکن یہ کتنی عجیب بات تھی کہ ان کے والد نہیں چاہتے تھے کہ کنہیا لال اس شعبے کاانتخاب کریں۔ کنہیا لال نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے پروڈکشن ہاؤس میں ماہانہ تنخواہ پر شمولیت اختیار کی۔ ابتدا میں فلموں کے مکالمات کی نوک پلک سنوارتے تو کہیں انہیں کوئی پروڈیوسر اسسٹنٹ کے طور پر شامل کر لیتا۔ کنہیا لال کا پہلا شوق اداکاری ہی رہا تھا۔ جبھی جو بھی چھوٹی بڑی پیشکش ملتی، قبول کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔

کنہیا لال کو جب ’ایک ہی راستہ‘ میں کھل کر اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا تو اس فلم کے ہدایت کار محبوب خان تو ان کے مداح بن گئے۔ انہوں نے جب ’عورت‘ بنانے کا ارادہ کیا تو اس میں لالہ سکھی کے مضبوط کردار کے لیے کنہیا لال کا ہی انتخاب کیا۔

کنہیا لال کا کردار منفی رخ کی عکاسی کرتا تھا۔ ایک مکار، سازشی اور چالاک شخص جو دوسروں کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ سود پر قرضہ دے کر حساب کتاب میں ایسی ہیرا پھیری کرتا ہے کہ اِس کے جال میں پھنسنے والا اصل سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ تیز طرار سکھی لالہ کی بری نگاہیں اس مجبور، بے بس اور لاچار ہیروئن پر رہتی ہیں۔ جس کا شوہر بھاری سود کی عدم ادائیگی پر لاپتہ ہو جاتا ہے اور پھر ہیروئن تن تنہا دو معصوم بچوں کو پالنے کے ساتھ سکھی لالہ کا قرضہ بھی اتارنے کی جستجو میں لگ جاتی ہے۔

 کنہیا لال کو جب وجاہت مرزا اور محبوب خان نے یہ کردار سنایا تھا تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ اس میں بہتر سے بہتر اداکاری کی خاصی گنجائش ہے۔ مسئلہ تو اِس وقت یہ درپیش تھا کہ ان کا کیا گیٹ اپ ہو۔ مونچھیں تو ان کے لگا دی گئی تھیں لیکن باقی میک اپ ہونا باقی تھا۔ سکرپٹ ہاتھ میں لے کر وہ اپنی باری کے منتظر تھے۔ اسی دوران سنیماٹوگرافر فاریدون ایرانی کو آتا دیکھ کر انہوں نے اس بات کا شکوہ کیا کہ ان کا میک اپ بھی نہیں ہو رہا جب کہ بنا میک اپ کے اچھی خاصی صورت بھی بڑے پردے پر عجیب و غریب ہو جاتی ہے۔

سنیماٹوگرافر فریدون ایرانی نے مسکرا کر کنہیا لال کو دیکھا اور بولے ’فکر نہ کریں، میں آپ کو اس گیٹ اپ میں اس انداز سے شوٹ کروں گا کہ آپ بھی کیا یاد رکھیں گے آپ صرف اپنے کردار پر توجہ دیں۔‘ فاریدون ایرانی نے اس اعتماد سے جواب دیا تھا کہ کنہیا لال کی تمام تر بے چینی اور اضطرابی کیفیت رفو چکر ہو گئی۔

ہدایت کار محبوب خان کی ’عورت‘ کی عکس بندی جیسے جیسے آگے بڑھی، کنہیا لال کی اداکاری کا معیار عروج پر رہا۔ وجاہت مرزا اور ایس علی رضا کے مکالمات کوادا کرتے ہوئے ان کے چہرے کے تاثرات اورانداز میں حقیقت کا گمان ہونے لگا۔

 فلم جب بن کر 1940میں سنیما گھروں کی زینت بنی تو اپنی اچھوتی اور منفرد کہانی، ڈرامائی موڑ اور اداکاروں کی غیر معمولی فطری فنکاری نے اسے کامیاب بنادیا۔ سکھی لالہ کے کردار میں تو کنہیا لال چھا ہی گئے۔ بالخصوص ان کا ہیروئن کے لیے یہ کہنا ’ارے رادھا رانی‘ تو جیسے زبان زد عام ہو گیا۔ بہت کم لوگوں کو پتہ تھا کہ ’عورت‘ کی عکس بندی کے دوران کنہیا لال کو گہری چوٹ بھی لگی تھی لیکن انہوں نے اسی حالت میں اس وقت تک حصہ لیا جب تک ڈاکٹر نہیں آ گئے۔ کنہیا لال کے اسی پیشہ ورانہ رویے نے محبوب خان کو خاصا متاثر کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ’عورت‘ میں اپنے منفی کردار کے ذریعے کنہیا لال کو فلمی دنیا میں قدم مضبوطی کے ساتھ جمانے کا موقع ملا۔ کوئی 17سال بعد جب 1957 میں ہدایت کار محبوب خان نے ’عورت‘ کا ہی ری میک ’مدر انڈیا‘ بنانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے تمام تر اسٹار کاسٹ کو تبدیل کر دیا۔ نرگس، راج کمار، سنیل دت اور راجندر کماراب فلم کا حصہ بن چکے تھے لیکن محبوب خان نے نہ بدلا تو کنہیا لال کو۔ ایک بار پھر وہ سکھی لالہ کے کردارمیں اپنی مکاریوں اور سازشوں کے ساتھ نظر آئے جو کسر ’عورت‘ میں رہ گئی تھی، وہ انہوں نے ’مدر انڈیا‘ میں اپنی اداکاری سے پوری کر دی۔

’مدر انڈیا‘ بھارتی فلموں کی کامیاب ترین فلموں میں سے ایک قرار پائی جس میں جہاں نرگس اور سنیل دت کے کردار مقبول ہوئے، وہیں سکھی لالہ ایک مرتبہ پھر شہرت کی ساری سرحدیں پار کر گیا۔ کنہیا لال جب جب سکرین پر جلوہ گر ہوتے، فلم بین ان سے خود بخود نفرت کرنے لگتے۔ کنہیا لال کا کہنا تھا کہ ’یہ ان کے کردار کی کامیابی ہی کہی جا سکتی ہے، جس کا تمام تر سہرا وجاہت مرزا کے سر جاتا ہے، جنہوں نے ان کے کردار کے لیے بہترین مکالمے لکھے۔‘

ہدایت کار محبوب خان جو خواب ’عورت‘ سے پورے نہ کر سکے وہ ’مدر انڈیا‘ نے مکمل کرا دیے۔ فلم کو اگلے سال پانچ فلم فیئر ایوارڈز ملے جبکہ اکیڈمی ایوارڈز کی غیر ملکی فلموں کی کیٹگری میں بھی یہ تخلیق نامزد ہوئی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ’عورت‘ اور پھر ’مدر انڈیا‘ میں کنہیا لال نے جو کردار ادا کیے بعد میں وہ اس کردار کی قید سے خود کو آزاد نہ کر سکے۔ بیشتر فلموں میں ان کا لب و لہجہ اور انداز کہیں نہ کہیں سکھی لالہ کی چغلی کھاتا رہا۔

’گنگا جمنا،‘ ’رام اور شیام،‘ ’جیون مرتیو،‘ ’اپنا دیش،‘ ’ہم پانچ‘ اور ’اُپکار‘ سمیت سو سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے کنہیا لال کو نئے ولن اور معاون اداکاروں کی آمد کے باعث دھیرے دھیرے فلم ساز اور ہدایت کار بھولتے چلے گئے اور پھر 1981 میں ہی ان کا کیریئر اپنے اختتام کو پہنچا۔ جس کے ایک سال بعد وہ ہمیشہ کے لیے زندگی سے منہ موڑ گئے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.