خاشہ: افغانستان کا وہ تنکہ جو چنگاری بن گیا

Spread the Story
  • 213
    Shares

خاشہ یعنی تِیلی یا تنکا۔ وہ تھا ہی اتنا دبلا پتلا کہ لوگوں نے اسے خاشہ کہنا شروع کر دیا۔ پر اس نے کبھی برا نہیں منایا بلکہ لوگوں کی دی ہوئی شناخت کو ہنسی خوشی قبول کر لیا۔

وہ قندھاری تھا پکا قندھاری۔ سر پہ ہمیشہ ٹوپی، سیاہ لباس اور واسکٹ  میں ملبوس، کندھے پہ ٹوٹی پھوٹی بندوق لٹکائے وہ خود کو قومندان (کمانڈر) کہتا۔ وہ جہاں جاتا لوگوں کو لطیفے سناتا، کبھی طنزیہ ٹپے گاتا تو کبھی نامور شخصیات کی نقل اتارتا۔ لوگ اسے اپنے حجروں میں بلاتے، چائے پانی پلاتے اور اس سے لطیفے سنتے۔

محفلیں دیر تک چلتی رہتیں۔ خاشہ مرکز نگاہ ہوتا۔ ہر ایک کی فرمائش پوری کرتا۔ کوئی خاشہ کو کہتا فلاں اداکار کی نقل اتارو تو کوئی فلاں سیاست دان کی شکل بنانے کی فرمائش کرتا۔ اچھا طالب بن کر دکھاؤ، وہ بنتا اور سب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتے۔ پھر وہ اسے کہتے کہ چلو سامنے بیٹھے میرے دوست کے بارے میں کچھ کہو۔ خاشہ فی البدیہہ اس پہ جگتیں کستا۔

وہ اللہ لوک بندہ تھا۔ سبھی لوگوں کو یکساں ہنساتا، کبھی کوئی اس کی مٹھی گرم کر دیتا تو واہ وا، نہیں تو وہ گھنٹوں لطیفے سنا سنا کر دہرا ہو جاتا لیکن لوگ کپڑے جھاڑ کر چلے جاتے۔

وہ پوپلے منہ سے ہاہاہا ہوہوہو ہو ہی ہی ہی کرتا رہ جاتا، کچھ نہ کہتا۔

اس کی موت نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ کیا اپنے کیا پرائے، کیا ملکی کیا غیرملکی۔

جس جس نے بھی ٹوئٹر، فیس بک پہ خاشہ کے ناحق مرنے کی خبر لگائی، صارفین کا تانتا بندھ گیا۔ ہر کوئی دلی غم اور افسوس کا اظہار کرنے لگا۔

یوں دیکھتے دیکھتے خاشہ مرنے کے بعد ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

میری ایک غیر ملکی دوست نے پوچھا کہ خاشہ کون تھا، کتنا اہم تھا، کیا کرتا تھا؟ میں اسے کیسے بتاتی کہ افغانستان کے لوگوں کو اتنا دکھ آخر کس بات کا ہے اور کیوں خاشہ کی موت پر اتنے پریشان ہیں؟

کہتے ہیں ایک بوڑھی عورت اپنے مکان کے سامنے بیٹھی رو رہی تھی۔ کسی نے پوچھا کیا ہوا؟

بڑھیا نے جواب دیا: ’میرے گھر کے سامنے سے سانپ گزر گیا ہے۔‘

راہگیر نے پوچھا کہ ’اس میں رونے والی کیا بات ہے کسی کو نقصان تو نہیں پہنچایا۔‘

بڑھیا نے کہا: ’رو تو اس لیے رہی ہوں کہ سانپ نے میرے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے۔‘

اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف تو بے ضرر خاشہ کی موت کا دکھ دوسری جانب یہ خوف کہ ’سانپ نے گھر کا راستہ دیکھ لیا ہے۔‘

جو لوگ طالبان کے رویے کی وجہ سے شش و پنج میں تھے انہیں یقین ہو گیا کہ کھٹے لیموں کبھی میٹھے نہیں ہو سکتے۔

دوسری طرف طالبان کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے۔ پہلے تو صاف منکر ہو جانا کہ ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں، پھر ویڈیو کے سامنے آتے ہی تحقیقات کا حکم دینا۔ ایسے بیانات مزید الجھن کا شکار کرتے ہیں کہ آیا طالبان ایک جماعت ہیں یا انفرادیت کو تقویت حاصل ہے؟

کیا طالبان کے اسلام میں مزاحیہ فنکاروں کی سزا موت ہے؟ کیا طالبان کسی قاعدے، قانون کے تحت چل رہے ہیں یا نہیں؟

آخری سوال سب سے اہم ہے کہ کیا خاشہ کے قاتلوں کو سزا ملے گی؟

طالبان کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور ان کا الزام ہے کہ مرحوم افغان پولیس کے لیے کام کرتے تھے۔ اس کے ثبوت کہاں ہیں؟ کیا خاشہ پر اس الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا؟ کیا اسے صفائی اور اپیل کا موقع دیا گیا؟ کس قانون کی کون سی شق کے تحت اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا؟

افغانستان سے باہر رہنے والے کبھی بھی صحیح معنوں میں افغانستان کے عوام کے خوف و خدشات کو نہیں سمجھ سکتے۔ ایک کہاوت ہے کہ ’دھواں وہیں سے اٹھتا ہے جہاں آگ لگی ہوتی ہے۔‘

جن لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ طالبان اب وہ نہیں رہے، اب وہ بدل چکے ہیں، انہیں وہ ویڈیوز ضرور دیکھ لینی چاہییں جن میں خاشہ کو بے رحمی سے اُس کے اپنے گھر سے نکال کر لے جایا اور پھر مارا جا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی نہیں، اس کے بعد ایک اور ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں خاشہ کی لاش کی بےحرمتی کی جا رہی ہے۔ کیا یہ دہشت گردی نہیں؟

خاشہ کی موت ایک اشارہ تھی جس کا مقصد فنکاروں، گلوکاروں، اداکاروں کو دھمکی دینا اور ہنرمند طبقے میں خوف کی ایک لہر دوڑانا تھا۔ یوں طالبان اپنے مقصد میں ایک حد تک کامیاب ہوئے۔

خاشہ کے مرنے کے بعد ایک سوال پوری دنیا میں گردش کر رہا ہے۔ افغان مزاحیہ فنکار خاشہ کہا کرتے تھے کہ ’ہمارا ملک تو ویسے بھی قبروں سے بھرا پڑا ہے، ایک قبر اور سہی۔‘

اگر میں مر گیا اور اتنی ساری قبروں میں تم میری قبر کی شناخت نہ کر سکو تو جان لینا جس قبر پہ دو کتے ہوں اور آپس میں لڑائی نہ کر رہے ہوں تو وہی میری قبر ہو گی۔‘

خاشہ، تم سچ کہتے تھے۔ تمہاری موت نے سارے جنگل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.