مسئلہ طالبان ہیں یا کشمیر؟

Spread the Story
  • 213
    Shares

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے نیچے کلک کریں

چند روز پہلے آپ نے محبوبہ مفتی کا وہ بیان سنا ہو گا جس میں انہوں نے افغانستان کی بدلتی سیاسی صورت حال کے تناظر میں بھارت کو خبردار کیا تھا کہ ’حکومت کی کشمیر مخالف پالیسیوں سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے اور فوجی طاقت سے جموں و کشمیر کے سیاسی مسلے کا حل تلاش کرنا بھارت پر بھاری پڑ سکتا ہے۔‘

پھر ساتھ ہی مین سٹریم جماعتوں کی انجمن گپکار اتحاد نے اجلاس کے بعد بیان جاری کیا کہ ہندوستان کی حکومت آرٹیکل 370 اور 35 اے کو فورا بحال کرے جس سے حالات کو کسی حد تک سنبھالا جا سکتا ہے۔

اس بیان پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے خاصا ہنگامہ کھڑا کر کے محبوبہ مفتی کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی سربراہ رویندر رینہ نے محبوبہ مفتی پر ملک میں منافرت پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’نریندر مودی امریکہ کے جو بائیڈین نہیں جو طالبان کے خوف سے افغانستان سے فوجی انخلا کر رہے ہیں۔‘

گو کہ ہندوستان نے پہلے ہی اپنے سفارتی عملے سمیت ہزاروں افراد کو کابل سے نکالنے کا اعلان کیا تھا، پھر خود ہندوستان کے عوام کو یہ بات عجیب لگی کہ جب بی جے پی نے کسی دوسرے پر نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

ہندوتوا کے چند رہنماؤں نے میڈیا تبصروں میں کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حالیہ کامیابی پر محبوبہ مفتی کے بیان اور حُریت کانفرنس کے ردعمل میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے اور بظاہر ’دونوں پاکستان کی زبان بولتے ہیں۔‘

میڈیا نے یہاں تک کہہ دیا کہ مین سٹریم اور آزادی پسند نہ صرف طالبان کی حالیہ کامیابی پرخوشی محسوس کر رہے ہیں بلکہ عوامی حلقے سخت گیر پالیسیوں کے زد میں رہنے کے باوجود تحریک آزادی میں نئی روح پھونکنے کے راستے تلاش کرنے لگے ہیں۔

دیکھا جائے تو کشمیری رہنماؤں نے ایسا کچھ نہیں کہا جو خود ہندوستان کے بیشتر تجزیہ نگاروں اور اپوزیشن رہنماؤں نے نہ کہا ہو۔ بیشتر سیاست دانوں اور ماہرین سیاسیات نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سخت گیر پالیسیوں سے اجتناب کریں اور کشمیری عوام کو واپس جیتنے کا عمل شروع کریں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتیہ جنتا پارٹی کی سابق حکومت کے وزیر خزانہ یشونت سنہا نے چند ہفتے پہلے کشمیر کا دورہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ وہاں حالات مزید بگڑ گئے ہیں، خطے اور دہلی کے بیچ دوری مزید بڑھ گئی ہے۔ طالبان کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ’کشمیر کو نارمل بتانا حقیقت سے انحراف ہے، اور یہ کہنا ٹھیک ہے کہ کشمیریوں نے پانچ اگست 2019 کے فیصلے کے بعد خود کو ہلاکتوں سے بچالیا جب وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے نہیں نکلے مگر اُس کا مطلب ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ کشمیر میں حالات سدھر گئے ہیں اور بنیادی مسلے کو حل کردیا گیا ہے، کشمیر اور دہلی کے بیچ فاصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔‘

اسی دوران بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل شنکر چودھری نے طالبان کی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر کشمیر میں جیش محمد کے جنگجوؤں کو بھیجنے کا عمل شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کی فتح کو پاکستان کی کامیابی اور بھارت کی ناکامی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کا اثر کشمیر پر گہرا ہو گا اور 90 کے حالات دوبارہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے، حکومت کو چاہیے کہ کشمیریوں سے میل ملاپ کا عمل فوری طور شروع کرے اور انہیں یقین دلائیں کہ بھارت ایک سیکیولر ملک ہے جس میں ہر مذہب کے لوگوں کے لیے مناسب جگہ ہے۔‘

میں نے کشمیر کے انسانی حقوق کے کارکن راجہ حنیف سے جب جنرل شنکر چودھری کے اس بیان کے بارے میں رد عمل جاننا چاہا تو وہ کافی دیر تک ہنستے رہے پھر بولے، ’جنرل صاحب بھی کمال کرتے ہیں۔ یہ وہ اس حکومت کو صلاح دے رہے ہیں جس نے مذہب کی بنیاد پر کشمیریوں سے سب کچھ چھین لیا، دہشت گردی کا لیبل لگا کر ہمارے لیے ایک ارب آبادی میں نفرت پھیلائی، طالبان کیا آئے کہ وہ اب ہم سے میل ملاپ کر کے ہمیں سیکیولرازم کا لولی پاپ دینے کی سوچ رہے ہیں، پہلے ہندوستان کے 22 کروڑ مسلمانوں کو تو یقین دلائیں جو ہر روز مذہب کے نام پر سختیاں جھیل رہے ہیں۔ طالبان آئیں یا نہ آئیں، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں، ہماری جنگ تو طالبان سے بھی پہلے شروع ہوئی ہے جو منزل پانے کے بعد ہی اختتام کو پہنچے گی۔‘

طالبان کے آنے کے بعد اکثر لوگ سوال کر رہے ہیں کہ بھارت کے لیے اب طالبان بڑا مسئلہ ہیں یا کشمیر جس میں جان بوجھ کر ایک تعلق قائم کر کے عالمی برادری کے لیے ایک اور شوشہ کھڑا کیا جانا مقصود ہے۔

جموں و کشمیر میں اس وقت یہ حالات ہیں کہ سکیورٹی فورسز گھروں میں جاکر لوگوں کے فون چیک کرکے دیکھتے ہیں کہ کہیں کسی نے طالبان کے بارے میں کوئی پوسٹ یا پیغام تو نہیں لکھا ہے۔ پلوامہ کے رضوان عالم کہتے ہیں کہ انہوں نے سکیورٹی کو آتے دیکھ کر وٹس ایپ ہی ڈیلیٹ کر دیا مگر فوجی بار بار پوچھتے رہے کہ ’آپ کا وٹس ایپ اکاؤنٹ کیوں نہیں ہے۔‘

میں نے انہیں یقین دلایا کہ میں فون استعمال کرنے کا عادی نہیں ہوں بلکہ ایم اے کی ڈگری کے لیے تیاری میں مصروف ہوں تو انہیں میری بات پر یقین نہیں آیا اور طالبان کے بارے میں سوالات کرنے لگے، میں خاموش رہا اور وہ میری خاموشی کو پڑھتے رہے، خوف تو تھا مگر اُن کے چہروں پر طالبان کا خوف دیکھ میری باچھیں کھل رہی تھی۔‘

ایک مقامی روزنانے کے ایڈیٹر کے مطابق عوام میں طالبان کی کامیابی سے حوصلہ ضرور بڑھا ہے مگر اس حوصلے کی اصل وجہ وہ ظلم و جبر ہے جو ہندوتوا حکومت نے کشمیر پر روا رکھا ہے جس کو سہتے سہتے واقعی صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے اور اسی کا ذکر محبوبہ مفتی سمیت بھارت کے بیشتر مبصرین نے کیا ہے لیکن محبوبہ چونکہ کشمیری ہیں لہٰذا ان کا غداروں کی صف میں شامل ہونا حق بجانب ہے۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.