گوگوش نے 21 سال بعد خاموشی توڑ دی

Spread the Story
  • 213
    Shares

معروف ایرانی گلوکارہ گوگوش نے ایک نئے البم اور شمالی امریکہ کے دورے کے ساتھ اپنی 21 سالہ جبری خاموشی توڑ دی ہے۔ گوگوش کا کہنا ہے کہ دوبارہ گانے کی وجہ یہ ہے کہ ’بچے بڑے ہو کر غیر ایرانی بنتے جا رہے ہیں۔‘

کئی دہائیوں میں بڑی تعداد میں ایرانی مختلف وجوہات کی بنا پر ایران سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں سے گوگوش جیسے بعض واپس نہیں آ سکتے۔ ان لوگوں کے بچے اور ایرانیوں کی دوسری اور تیسری نسل جنہوں نے کبھی ایران نہیں دیکھا وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو گوگوش کنسرٹس میں جاتے ہیں۔

پاکستان میں ان کا ایک مشہور زمانہ گانا ’من آمدم‘ یعنی ’میں آگئی ہوں‘ کو گل پانڑہ اور عاطف اسلم نے کوک سٹوڈیو کے لیے گایا ہے۔ وہ 1975 میں پاکستان میں اپنے فن کا لوہا منوا چکی ہیں اور دوبارہ 1979 میں آنا تھا لیکن انقلاب ایران کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔

گوگوش 1950 کے تقریباً وسط میں تہران میں آذربائیجان سے ہجرت کرنے والے ایک خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اپنے منی سکرٹس لباس اور بوائے کٹ بالوں کی وجہ سے بھی ایک منفرد پہچان رکھتی تھیں۔ ان کی آواز کے جادو نے نہ صرف عام لوگوں کے دلوں کو موہ لیا بلکہ شاہی محل کے افراد بھی ان کی آواز کے سحر سے نہ بچ سکے۔ انہیں شاہی محل میں بھی مدعو کیا گیا جہاں انہوں نے رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کی سالگرہ کے موقع پر اپنی آواز سے سامعین کو سحر زدہ کر دیا۔

وہ ان ایرانیوں کے لیے گاتی ہیں جو اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ انہوں نے  شمالی امریکہ میں ایک نئے کنسرٹ ٹور کے آغاز کے موقع پر این پی آئی آر کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’ایرانیوں کی نوجوان نسل جن کے والدین ایران سے باہر رہنے پر مجبور ہوئے ہیں وہ اپنی زبان بھول رہے ہیں۔ میرے گانے انہیں (ان کی مادری زبان) کی یاد رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔‘

گوگوش تہران میں فائقہ اتشین کے نام سے پیدا ہوئیں جبکہ دنیائے میوزک میں ان کو گوگوش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ تین سال کی عمر میں سٹیج پر چلی گئیں اور آج تک وہاں موجود ہیں۔ اس دوران زیادہ تر وقت انہیں ایک ’سٹار‘ کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

’میرے والد نے محسوس کیا کہ میرے پاس یہ ٹیلنٹ ہے، انہوں نے میرا ٹیلنٹ پایا اور مجھے لوگوں کے سامنے گانے پر مجبور کیا۔‘

نو سال کی عمر میں انہوں نے ’فیر اینڈ ہوپ‘ میں اداکاری کی۔ ایک منظر میں وہ کھلونے والا آلہ بجاتی ہیں اور پیگی لی کے لیے ’جانی گٹار‘ والا گانا گاتی ہیں۔

گوگوش نے اپنی نوعمری تہران میں گزاری جس پر مغربی پاپ موسیقی کا غلبہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی موسیقی نے ان کے کیریئر پر بڑا اثر ڈالا ہے۔

گوگوش اپنی پیشہ ورانہ کامیابی کے عروج پر تھی جب اسے ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فلموں میں ٹاپ ایرانی اداکاروں کے ساتھ مشہور گانوں اور اداکاری سے بھرپور کیریئر 1978 میں فلم اور موسیقی کی صعنت کی بندش کے ساتھ ختم ہوا۔ وہ اس وقت امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں تھیں، اور اس سب کے باوجود ایران واپس آ گئیں۔

اس کے بعد ، گوگوش 21 سال تک ممنوعہ ٹیپ اور رنگین ویڈیو پر واحد آواز تھیں۔

وہ ان برسوں کے بارے میں کہتی ہیں: ’انہوں نے مجھے مٹانے کی بہت کوشش کی – میرا مطلب ہے کہ میرا نام مٹاؤ، میری پوزیشن مٹاؤ، میرے گانے مٹاؤ، میرا چہرہ مٹاؤ، میری یادداشت کو مٹا دو لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔‘

گوگوش، جو اپنے کیریئر کے عروج پر 21 سال خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے آخر کار 2000 میں ایران چھوڑ دیا اور گانا دوبارہ شروع کیا۔ ان کا پہلا پڑاؤ ٹورنٹو میں تھا۔ جہاں ان کے 18 ہزار پرستار معاصر ایرانی موسیقی کی تاریخ کے انتہائی جذباتی واقعات میں سے ایک میں ان کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوگوش اس مبارک دن کو یاد کرتے ہوئے روتی ہیں جب وہ سٹیج پر واپس آئیں۔ وہ بتاتی ہیں: ’میں بول نہیں سکتی تھی اور میں ڈر رہی تھی، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں اس ہجوم کو مطمئن کر سکتی ہوں یا نہیں؛ لیکن یہ ہوگیا۔‘

اس تاریخی کنسرٹ کو دو دہائیاں گزر چکی ہیں اور گوگوش امید کے ساتھ گانا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ راہا اعتمادی نے اپنے تازہ البم ’21‘ کے لیے گانے لکھے، جو سیاوش گھوماشی کے ساتھ ان کا پہلا اشتراک ہے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا انہیں امید ہے کہ ایران میں کچھ بھی بدلے گا، گوگوش نے افغانستان میں حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’افغانستان میں امریکی حکمت عملی کی وجہ سے ہمارے لیے چیزیں مشکل ہو گئی ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ جو کچھ اس وقت افغانستان میں ہو رہا ہے وہی 1978 میں ایران میں ہوا۔

اس کے باوجود ، گوگوش کا کہنا ہے کہ وہ گانا جاری رکھیں گی اور پوری دنیا کے ایرانیوں کو امید دیں گے۔

سان جوس ، کیلیفورنیا میں گوگوش ورلڈ ٹور 21 کے پہلے کنسرٹ میں دو ہزار سے زائد شائقین نے ان کے درجنوں گانے سنے۔

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل انڈپینڈنٹ فارسی پر شائع ہوچکی ہے۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.